Daily Mashriq Quetta Urdu news, Latest Videos Urdu News Pakistan updates, Urdu, blogs, weather Balochistan News, technology news, business news

وزیراعظم کی جانب سے بلوچستان کی ترقی کے عزم کا اعادہ

0

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

جمعہ2اکتوبر2020ئ
بلوچستان گوکہ رقبے کے لحاظ سے ملک کا سب سے وسیع و عریض صوبہ ہے اور معدنی ذخائر ، وسائل اور ترقی کے بے انتہاءمواقع بھی رکھتا ہے تاہم بدقسمتی سے یہ ملک کا سب سے پسماندہ اور غریب صوبہ بھی کہلاتا ہے جہاں غربت ، پسماندگی ، بے روزگاری کی شرح نسبتاً زیادہ اور ایک قسم کی محرومی کا احساس بھی پایا جاتاہے جس کے ازالے کے لئے گزشتہ چند برسوںسے ترجیحی بنیادوںپر اقدامات کا سلسلہ جاری ہے اور ہمیں قوی امید ہے کہ اگر ان اقدامات کا تسلسل برقرار رکھا گیا تو انشاءاللہ آنے والے وقتوں میں بلوچستان نہ صرف ترقی یافتہ اور خوشحال ہوگا بلکہ ملک کے معاشی استحکام اور ترقی کے سفر میں اس کا انتہائی اہم اور کلیدی کردار بھی ہوگا ماضی میں گو کہ یہ صوبہ نظر انداز ہوتا آیا ہے تاہم گزشتہ دس بارہ برسوں کے دوران یہاں متعدد ایسے منصوبے شروع ہوئے جن کی بدولت یہاں ترقی ، استحکام اور خوشحالی کے سفر میںتیزی آئی ہے اب سی پیک کی بدولت صوبے کی معاشی اور معاشرتی خوشحالی میں بتدریج اضافہ ہورہا ہے اس بابت اگر موجودہ حکومت کے اقدامات ، ترجیحات اور وژن کی بات کی جائے تو یقینا وزیراعظم عمران خان کی قیادت میں موجودہ وفاقی حکومت اور وزیراعلیٰ جام کمال خان کی قیادت میں موجود ہ مخلوط صوبائی حکومت نے صوبے کے دیرینہ مسائل کے حل اور پائیدار ترقیاتی اہداف کے حصول کے لئے ہمہ جہت اقدامات کا خوش آئند اور مستحسن سلسلہ برقرار رکھا ہے وزیراعظم عمران خان جو پہلے بھی متعدد بار بلوچستان کی تعمیر و ترقی کے حصول اور درپیش مسائل کے خاتمے کے لئے دوٹوک اقدامات کا عزم ظاہر کرتے آئے ہیں انہوںنے گزشتہ روز ایک بار پھر صوبے کی ترقی کو یقینی بنانے کے حوالے سے اپنے عز م کا اعادہ کیا اور کہا ہے کہ بلوچستان کو ماضی میں نظر انداز کیا گیا جس کی وجہ سے یہ بہت پیچھے رہ گیااس ضمن میں انہوںنے ضلع ڈیرہ بگٹی کے علاقے سوئی کی مثا ل دیتے ہوئے کہا ہے کہ بلوچستان کے جس علاقے نے پورے ملک کوگیس دی وہ پتھر کے دور میں ہے ہماراوژن غریب عوام اور پسماندہ علاقوں کی ترقی ہے۔ سندھ اور بلوچستان میں تیز ترین موبائل براڈبینڈ ڈیٹا سروسز فراہم کرنے کے لیے یونیورسل سروسز فنڈکی جانب سے معاہدوں پر دستخط کی تقریب سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں بہت غربت ہے وہ بہت وسیع علاقہ ہے لیکن اس علاقے کو بہت نظرانداز کیا گیا اور وہ بہت پیچھے رہ گیا، یہاں تک کہ جہاں سے سوئی گیس نکلی وہاں سے دیگر علاقوں کو فراہم کی گئی لیکن وہ علاقہ آج بھی پتھرکے دور میں ہے۔ان کا کہنا تھا کہ یکطرفہ ترقی جو ہمارے ملک میں ہوتی ہے اس کے معاشرے پر بہت برے اثرات ہوتے ہیں، دنیا کی ترقی کو بھی دیکھیں تو جب غریب ملک غریب تر ہوتے ہیں اور امیر ممالک میں سارا پیسہ لگ جاتا ہے تو منی لانڈرنگ کے قانون بھی طاقت ور ممالک کو تحفظ دیتے ہیں اور کمزور ممالک کو کوئی تحفظ نہیں دیتا۔عمران خان کا کہنا تھا کہ جب دنیا میں غیرمنصفانہ ترقی ہوتی ہے تو معاشرے کو اس کا سامنا کرنا پڑتا ہے، بدقسمتی سے ہمارے ملک میں بھی یہی رہا ہے کہ ایک چھوٹے سے طبقے کے لیے انگریزی تعلیم دی گئی جبکہ باقی دینی مدارس کو ہم نے نظر انداز کردیا کہ وہاں کیا تعلیم دی جارہی ہے۔انہوںنے یہ بھی کہا ہے کہ 60 کی دہائی میں دنیا پاکستان کی مثال دیتی تھی اور بہت سے ممالک کے لئے پاکستان رول ماڈل تھا لیکن ہم پیچھے اس لیے رہ گئے کہ یہاں جو منصوبہ بندی کی گئی وہ صرف اشرافیہ اور چھوٹے سے طبقے کے لیے کیا گیا، ایک وقت میں سرکاری ہسپتالوں میں بہترین علاج ہوتا تھا لیکن آہستہ آہستہ یہ ہسپتال غریبوں کے لیے رہ گئے اور نجی ہسپتال پیسے والوں کے لئے رہ گئے وزیراعظم کا کہنا تھا کہہم نے یہ جو مفاہمت کی یادداشت کی ہے یہ بہت مثبت چیز ہے اور ہم نے سوچا کہ پیچھے رہ جانے والے علاقوں کو جوڑیں، کیونکہ ہم جانتے ہیں لوگوں کی زندگی کو بہتر کرنے کے لیے جوڑنا زبردست طریقہ ہے۔ دنیا میں جب بھی مواصلات بہتر ہوتی ہیں تو لوگ اوپر آنا شروع ہوجاتے ہیں، موبائل فون کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ یہ ان علاقوں، جہاں لوگوں پر تعلیم نہیں پہنچی وہاں لوگ اس کے ذریعے تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ یقیناوزیراعظم عمران خان نے ایک انتہائی اہم اور مبنی برحقیقت بات کہی ہے لوگوں کو ایک دوسرے سے جوڑنا ترقی اورخوشحالی کا ایک اچھاذریعہ ہے دنیا کی ترقی میں مواصلات کا اہم کردار ہے اور اس بات سے بھلا کسے انکار ہوسکتا ہے کہ موجودہ صدی جو انفارمیشن ٹیکنالوجی اور علم وہنر کی صدی کہلاتی ہے کتنے افسوس کا مقام ہے کہ اس جدید دور میں بھی بلوچستا ن میں ایسے علاقوں کی کمی نہیں جہاں موبائل سروس تک دستیاب نہیں ، طبی سہولیات کا فقدان ہے اور تعلیمی اداروں کی اشد قلت ہے ان حالات میں حکومت کو تمام شعبوں پر یکساں توجہ مرکوز رکھنی ہوگی پسماندہ علاقوں کو جدید موبائل برانڈ بینڈ سے جوڑنے سے متعلق دو روز قبل جب یہ خبر آئی کہ یونیورسل سروسز فنڈکے ساتھ بلوچستان کے پسماندہ ترین علاقوں میں موبائل براڈ بینڈ سہولیات پہنچانے کے معاہدہ ہونے جارہا ہے تو اس پر صوبے کے عوام نے اطمینان کا اظہار کیا تھا بلوچستان میں آج اگر مختلف شعبوں میں پسماندگی نے ڈیرے جمائے ہیں اور ہم باقی صوبوں سے قدرے پیچھے ہیں توا س کی ایک نہیں بہت ساری وجوہات اور محرکات ہیں ماضی کی حکومتو ں نے اس جانب خاطرخواہ توجہ نہیں دی صوبے کی سبھی جماعتیں بلوچستان کو صوبے کا درجہ ملنے کے بعد حکومتوں میںآ تی رہی ہیں لیکن افسوسناک طو رپر جو جماعتیں اپوزیشن میں بیٹھ کر پسماندگی اور مختلف شعبوںمیں موجود مسائل کی نشاندہی کرتی رہتی ہیںلیکن یہی جماعتیں جب اقتدار میں آتی ہیں تو صوبے کے دیرینہ مسائل کے حل کے لئے خاطرخواہ کردار ادا نہیں کرپاتیں موجودہ حکومت کا جہا ں تک تعلق ہے تو موجودہ حکومت کو بعض انتہائی اہم باتوں کا کریڈٹ جاتا ہے جس سے آنکھیں نہیں چرائی جاسکتیں موجودہ صوبائی حکومت نے آتے ساتھ ہی صوبے کے ترقیاتی پروگرام پر توجہ دی پی ایس ڈی پی بک کو اغلاط سے پاک کیا ، انفرادی نوعیت کے منصوبے نکالنے پر توجہ مرکوز کی اوراگلے سال کے بجٹ میں صوبے کے تمام اضلاع اور تمام شعبوں کے لئے ماضی کی نسبت زیادہ بہتر بجٹ بنا کر دیا ساتھ ہی ساتھ وفاق میں بھی بلوچستان کے مسائل کی درست طریقے سے نشاندہی کرتے ہوئے کوشش کی کہ وفاق سے صوبے کو زیادہ سے زیادہ ترقیاتی منصوبے دیئے جائیں اس مقصد کے حصول کے لئے وزیراعلیٰ جام کمال اور وزیرخزانہ میر ظہور بلیدی وفاق میں موثر احتجاج بھی کرتے آئے ہیں جس کے خاطرخواہ نتائج برآمد ہوئے ہیں تاہم مجموعی طو رپر صوبے کی تعمیر و ترقی اور درپیش جملہ مسائل کے حل کے لئے ضروری ہے کہ صوبے کی تمام سیاسی جماعتیں سیاست سے بالاتر ہو کر وفاقی اور صوبائی حکومت کے ہاتھ مضبوط کریں تمام مکاتب فکر مل کر بلوچستان سے پسماندگی ، غربت ، بے روزگاری اور دیگر مسائل کے حل کے لئے اقدامات وضع کریں اور تمام اسٹیک ہولڈرز مل کرفعال و متحرک کردار ادا کریں تاکہ بلوچستان کو باقی صوبوں کے برابر لا کر یہاں ترقی، خوشحالی اور استحکام کے دیرینہ ہدف کو بہ آسانی حاصل کیا جاسکے اور اس صوبے کو اس قابل بنایا جائے کہ نہ صرف یہ خود ترقیافتہ اورخوشحال ہو بلکہ ملکی معاشی استحکام اور ترقی و خوشحالی میں بھی اس کا کلیدی کردار ہو ۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.