Daily Mashriq Quetta Urdu news, Latest Videos Urdu News Pakistan updates, Urdu, blogs, weather Balochistan News, technology news, business news

ترکی نے ملک میں موجود ’دولت اسلامیہ کے امیر‘ کو گرفتار کر لیا

0

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

ترکی کی حکومت کا کہنا ہے کہ پولیس نے ملک میں موجود دولت اسلامیہ کے اعلیٰ کمانڈر کو گرفتار کر لیا ہے۔

وزیر داخلہ سلیمان سوئلو کے مطابق ملزم محمود اوزدان کے قبضے سے اہم دستاویزات بھی برآمد ہوئی ہیں جن میں حملے سے متعلق ہدایات موجود ہیں۔

مذکورہ شخص کو ادانا کے صوبے میں گرفتار کیا گیا ہے اور وزیر داخلہ نے کہا کہ دولت اسلامیہ کے دوسرے ارکان کے خلاف بھی کارروائی جاری ہے۔

دولت اسلامیہ نے 2019 میں ترکی میں اپنی باقاعدہ موجودگی کا اعلان کیا تھا اور اس کے بعد سے ملک میں ہونے والے کئی حملوں میں ملوث رہی ہے۔

سلیمان سوئلو نے بتایا کہ مشتبہ شخص کو حملے کے لیے عراق اور شام سے مسلسل ہدایات موصول ہوتی رہی ہیں۔

انھوں نے اس گرفتاری کا اعلان ٹوئٹر پر کیا اور پولیس کو مبارک باد دی۔

ملزم کے بارے میں ہم کیا جانتے ہیں؟

وزیر داخلہ کے مطابق محمود اوزدان دولت اسلامیہ کے دس سے بارہ ارکان کے ساتھ مل کر حملے کرنے کی منصوبہ بندی کر رہا تھا۔ انھوں نے مشتبہ شخص کو ترکی میں گروپ کا ‘امیر’ قرار دیا ہے۔

روزنامہ صبا کے مطابق ان کے پاس سے برآمد ہونے والی دستاویزات سے پتا چلتا ہے کہ وہ متعدد سیاستدانوں کے اغوا کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔

پولیس کی اس کارروائی کے دوران کمپیوٹر، کاغذات، ہتھیار اور گولہ بارود بھی برآمد ہوا ہے۔

خبر رساں ادارے انادولو کے مطابق انسداد دہشتگردی کی اس کارروائی میں تین دوسرے مشتبہ افراد کو بھی گرفتار کیا گیا ہے۔

پس منظر کیا ہے؟

ترک پولیس نے دولت اسلامیہ کے خلاف کئی کارروائیاں کی ہیں۔ جولائی 2017 میں پولیس نے استنبول میں حملے کرنے کی منصوبہ بندی کرنے والے کئی افراد کو شہر سے گرفتار کیا تھا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ اس نے گزشتہ ہفتے بھی دولت اسلامیہ سے تعلق کے شبہ میں ایک شخص کو استنبول سے گرفتار کیا ہے۔

پولیس کے مطابق مذکورہ شخض ہوٹل کے ایک کمرے سے گرفتار کیا گیا تھا اور اس کے قبضے سے دور مار کرنے والا ایک ہتھیار بھی ملا تھا۔

دولت اسلامیہ ترکی میں کئی حملوں کی ذمہ داری لی چکی ہے جن میں 2017 میں ایک نائٹ کلب پر ہونے والا حملہ بھی شامل تھا جس میں 39 افراد مارے گئے تھے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.