Daily Mashriq Quetta Urdu news, Latest Videos Urdu News Pakistan updates, Urdu, blogs, weather Balochistan News, technology news, business news

اداریہ !کوئٹہ کی ترقی اور وزیراعلیٰ کا عزم ، چند نگارشات !!

0

وزیراعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو نے جہاں دو روز قبل کوئٹہ شہر کے مضافاتی علاقوںکا دورہ کرکے وہاں موجود سہولیات کا جائزہ لیا اور عوامی مسائل کے حل کے لئے تمام دستیاب وسائل بروئے کارلانے کا عزم ظاہر کیا وہاں انہوںنے گزشتہ روز پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمودخان اچکزئی سے ایک تقریب میں ہونے والی ملاقات کے موقع پر بات چیت کرتے ہوئے ایک بار پھر اسی عزم کا اعادہ کیا ہے کہ جو جو علاقے پسماندگی کا شکار ہیں ان پر خصوصی توجہ مرکوز کی جائے گی ان کا کہنا تھا کہ کوئٹہ کی بہتری کے لئے جامع ترقیاتی پروگرام پر کام جاری ہے کوئٹہ ترقیاتی پیکج پر گزشتہ دور حکومت میں روکے گئے کام کا دوبارہ آغاز کر دیا گیا ہے اور شہر کی صفائی کے لئے کیوایم سی اور پانی کے مسئلے کے حل کے لئے واسا کو خطیر فنڈز کا اجراءکردیا گیا ہے ہم ان کے دوٹوک اقدامات کے عزم کو سراہتے ہیں تاہم یہاں اس بات کا بھی ذکر ضروری ہے کہ کوئٹہ شہر کی تعمیر و ترقی کے لئے ہر دور میں خطیر فنڈز کا اجراءہوتا آیا ہے ۔ ہر دور حکومت میں صوبے کے ترقیاتی وسائل کا ایک اچھا خاصا حصہ صوبائی دارالحکومت میں خرچ ہوا لیکن اس کے باوجود نہ تو کوئٹہ کے شہری مسائل حل ہوسکے اور نہ ہی کوئٹہ کے مکینوں کو اکیسویں صدی کے تقاضوں سے ہم آہنگ سہولیات کی فراہمی کا خواب عملی طور پر متشکل ہوپایا ۔کوئٹہ کسی زمانے میں اپنی مثالی آب و ہوا، شہری سہولیات و موثر منصوبہ بندی و ترقیات کی بدولت لٹل پیرس کہلاتا تھا ۔بعض اسے لٹل لندن بھی کہتے اور شہر کے مین نالے کو ٹیمز سے تشبیہ دے کر اس شہر کو مثالی شہری سہولیات اورنظم وضبط کے پیش نظر چھوٹا لندن قرار دیتے لیکن بدقسمتی کہیں المیہ کہ گزرتے وقت کے ساتھ بڑھتی ہوئی آباد کے پیش نظر منصوبہ بندی نہیں کی گئی ۔ بلوچستان کو صوبے کا درجہ ملنے کے بعد جب کوئٹہ صوبائی دارالحکومت قرار پایا تو اسی وقت شہرکی بڑھتی ضروریات کا خیال رکھنا چاہئے تھا لیکن ایسا نہیں ہواصوبائی دارالحکومت قرار پانے کے بعد ایک دم سے پورے صوبے سے یہاں آبادی کا دباﺅ بڑھنے لگا یہی نہیں بعد کے برسوں میں ہمسایہ ملک( بلکہ ممالک) سے مہاجرین کی آمد بھی شروع ہوئی اور المیہ دیکھیں کہ ہمارے تب کے اربابان بست وکشاد نے شہر پر آبادی کے بڑھتے ہوئے دباﺅاور اس کے مضمرات کو یا تو محسوس ہی نہیں کیا یا پھراغماض برتا گیا نتیجہ یہ نکلا کہ شہر کی آبادی مسلسل بڑھتی رہی آبادی کے دباﺅ میں روز بروز اضافہ ہوتا رہا شہر گنجان آباد بن گیا پانی اوردیگر سہولیات کم ، رسد متاثر اور طلب مسلسل بڑھنے لگی گو کہ اس دوران ادارہ ترقیات کوئٹہ کا بھی قیام عمل میں لایاگیا شہر کی موثر ٹاﺅن پلاننگ ، شہر کی توسیع اور پہلے سے موجود شہری علاقوں کا ماسٹر پلان بنا کر شہریوں کو سہولیات کی فراہمی یقینا بنانا اس کا بنیادی کام تھا لیکن ایک آدھ ہاﺅسنگ سکیمات ،نہ ہونے کے برابر پارکس اور ہزار گنجی کمپلیکس کے علاوہ اور کچھ کیا ہی نہیں گیا دوسری بات یہ کہ شہر کوصوبے کا واحد میٹروپولیٹن تو ڈکلیئرکردیاگیا لیکن عملہ صفائی سے لے کر آلات اور وسائل تک ضروری امور پر توجہ نہیں دی گئی نتیجتاً بلدیہ کوئٹہ کے شہری بلدیہ عظمیٰ میں رہتے ہوئے بھی بلدیہ عظمیٰ کے درجے کے حامل شہر کی سہولیات اور ثمرات سے محروم ہیں اس دوران ہر سال فنڈز خرچ ہوتے رہے لیکن مسائل حل ہونے کی بجائے مزید گھمبیر اور سنگین ہوگئے آج کوئٹہ شہر میں پینے کے صاف پانی کی قلت سے لے کر بے ہنگم ٹریفک ، تجاوزات کی بھرمار ،تنگ و تاریک گلیوں ،ٹوٹی پھوٹی سڑکوں ، نالیوں کی بندش ، پارکوں اور تفریحی مقامات کی عدم دستیابی سمیت دیگر بہت سارے مسائل ہی مسائل درپیش ہیں ان مسائل سے نمٹنے کے لئے ضروری ہے کہ سب سے پہلے شہر کا ماسٹر پلان بنایا جائے اس کے بعد شہر کو پلاننگ کے ساتھ توسیع دی جائے شہر کے مضافات میں سہولیات فراہم کی جائیں تاکہ آبادی کا دباﺅ اس جانب ہووسطی اور اندرون شہر کے علاقوں میں ٹریفک سے لے کر نکاسی آب اور فراہمی آب تک ہرمسئلے کے اسباب و محرکات ڈھونڈ کر ان کا سدباب کیا جائے جلد ہی کوئٹہ شہر میں بھی بلدیاتی انتخابات کا انعقاد ہونے جارہا ہے جس کے بعد بلدیاتی ادارے نئی فعالیت و تحریک کے ساتھ عوام کے مسائل ان کی دہلیز پر حل کرنے کی پوزیشن میں ہوں گے ہماری تجویز یہ ہے کہ بلدیاتی نمائندوں کو گلی محلے اور یونین کونسل کی سطح پر شہری مسائل کے حل کے لئے متحرک کیا جائے باقی جہاں تک کوئٹہ ڈویلپمنٹ پیکج میں شامل منصوبوں کا تعلق ہے یا دیگر جاری منصوبوں کی بات ہے تو ہم جاری ترقیاتی عمل کو سراہتے ہیں وزیراعلیٰ میرعبدالقدوس بزنجو نے کوئٹہ پیکج میں شامل منصوبوں کی تکمیل میں تاخیر اورکام کی سست روی کا نوٹس لیا ہے اور موثر اقدامات کی تاکید کی ہے ہم ان کی اس کاوش کو سراہتے ہیں البتہ واسا یا پی ایچ ای کی اگر بات کی جائے تو محض فنڈز کی فراہمی کافی نہیں بلکہ ان دونوں اداروں میں از سرنو اصلاح و بہتری کی ضرورت ہے کوئٹہ شہر میں واسا کے صارفین کی تعداد لاکھوں میں ہے لیکن کیا کبھی واسا کے محکمے کی آمدن اور اخراجات کا کسی نے تخمینہ لگایا کہ واسا کو ہر سال حکومت مختلف مدات میں کتنے فنڈز دیتی ہے اور واسا خود کتنا ریونیواکھٹاکرتا ہے اسی طرح بلدیہ عظمیٰ کوئٹہ کی مثال لے لیں کوئٹہ شہر میں اس کی اچھی خاصی جائیدادیں ہیں لیکن ان جائیدادوں سے نہ ہونے کے برابر آمدن ہوتی ہے یہی نہیں میٹروپولیٹن کارپوریشن کے اینٹی انکرچمنٹ سیل سے لے کر بلڈنگ برانچ تک کونسا شعبہ ہے جس کی کارکردگی مثالی ہے فقط سینی ٹیشن کا شعبہ تھوڑا بہت فعال ہے لیکن اس کی قلعی بھی چند منٹ کی بارش میں کھل جاتی ہے جس بھی زاویے سے دیکھیں صورتحال گھمبیر اورسنگین ہے سو ہم یہ سمجھتے ہیں کہ فقط فنڈز کا اجراءکافی نہیں بلکہ اوپر سے نیچے تک اصلاح اور بہتری کی بہت زیادہ گنجائش ہے اس پر توجہ مرکوز کی جائے وزیراعلیٰ میر عبدالقدوس بزنجو کوئٹہ کی تعمیر وترقی کے حوالے سے پرعزم دکھائی دیتے ہیں ہم ان کے عزم کو سراہتے ہیں اور اس امید کااظہار کرتے ہیں کہ ان کی زیر قیادت یہ مخلوط صوبائی حکومت اگلے مالی سال کے بجٹ میں کوئٹہ شہر کے لئے خاطرخواہ ترقیاتی سکیمات بھی رکھے گی اور ساتھ ہی ساتھ محکموں کے انتظامی مسائل کے حل پر بھی توجہ مرکوز کی جائے گی اس ضمن میں تمام سیاسی جماعتوں، تاجر برادری ،سول سوسائٹی غرض تمام طبقات اور سبھی اسٹیک ہولڈرز کوحکومت اور انتظامیہ کے ہاتھ مضبوط کرنے چاہئیں تاکہ مل جل کر کوئٹہ کے شہری مسائل کا حل نکالاجاسکے اور ماضی کے لٹل لندن کی رونقیں بحال کرکے اس شہر کو اس کا سابقہ حسن ، خوبصورتی اور مثالی حالت واپس دلائی جاسکے۔

You might also like
Leave A Reply

Your email address will not be published.