Daily Mashriq Quetta Urdu news, Latest Videos Urdu News Pakistan updates, Urdu, blogs, weather Balochistan News, technology news, business news

پی ٹی آئی کا لانگ مارچ: عمران خان کے وہ ’چھ دن‘ کب پورے ہوں گے؟

0

شہزاد ملک
سابق وزیر اعظم اور پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی طرف سے گذشتہ ماہ پچیس مئی کا احتجاج اس اعلان پر ختم کیا گیا تھا کہ وہ ’اگلے چھ روز میں دوبارہ لانگ مارچ کریں گے‘، اس مدت کے ختم ہونے کے بعد مختلف حلقوں کی جانب سے یہ سوال کیا جا رہا ہے کہ اگلی تاریخ کب دی جائے گی۔پاکستان تحریک انصاف کے جنرل سیکرٹری اسد عمر کا کہنا تھا کہ پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین آج یعنی بدھ کے روز اپنے اگلے لائحہ عمل کا اعلان کریں گے۔میڈیا سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ وہ ان وجوہات کا بھی ذکر کریں گے کہ کیوں چھ دنوں کے بعد دوبارہ لانگ مارچ کی کال نہیں دی گئی۔دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے بدھ کو پشاور میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ابھی تک اپنے اگلے لائحہ عمل کا اعلان نہیں کیا تاہم ان کا کہنا تھا کہ کبھی نہ کبھی تو موجودہ حکومت کے خلاف نکلنا پڑے گا تاہم اس کے ساتھ ساتھ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کی طرف سے پروٹیکشن ملنے کے بعد ہی اگلے لائحہ عمل کا اعلان کریں گے۔
اسد عمر کا کہنا تھا کہ انھیں لانگ مارچ کی کال دینے کے لیے کسی اشارے کی ضرورت نہیں ہے بلکہ عدالت عظمیٰ میں رٹ دائر کرنے کا مقصد پرامن احتجاج کرنے کے لیے اپنا حق لینا ہے۔پاکستان تحریک انصاف کی طرف سے سپریم کورٹ میں دائر کی جانے والی درخواست میں نو اہم نکات اٹھائے گئے ہیں۔ اس درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ وفاقی اور پنجاب حکومت کو احتجاج کے لیے اجازت دینے کا حکم دیا جائے اور اس کے ساتھ ساتھ عدالت حکومت کو ہدایت دے کہ احتجاج کے دوران کسی کارکن کو گرفتار نہ کیا جائے۔درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ آئین کے تحت انھیں پر امن احتجاج کا حق حاصل ہے اور عدالت عظمیٰ وفاقی اور پنجاب حکومت کو احتجاج کے لیے نہ صرف اجازت دینے کا حکم دیا جائے بلکہ وفاقی اور پنجاب حکومت کو تشدد اور طاقت کے استعمال سے روکا جائے۔ اس درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ عدالت حکومت کو ہدایت کرے کہ احتجاج کے راستے میں رکاوٹیں حائل نہ کی جائیں۔
پاکستان تحریک انصاف کے کارکنوں کی پکڑ دھکڑ اور وفاقی دارالحکومت میں سڑکوں کی بندش سے متعلق اسلام آباد ہائی کورٹ کی درخواست پر فیصلہ جاری کرنے والے پانچ رکنی بینچ میں شامل جسٹس یحییٰ آفریدی نے اختلافی نوٹ لکھتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اپنے معزز ججز کی اس بات سے اتفاق نہیں کرتے کہ پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کرنے کے لیے مواد موجود نہیں ہے۔انھوں نے کہا کہ عمران خان نے سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ کی طرف سے پچیس مئی کو جاری ہونے والے فیصلے کی کھلی خلاف ورزی کی ہے۔ واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ کو حکم دیا تھا کہ وہ پاکستان تحریک انصاف کو جلسہ کرنے کے لیے ایچ نائن گرو¿انڈ فراہم کرے۔سید طلعت حسین کا کہنا تھا کہ عمران خان لانگ مارچ کی کال اس لیے بھی نہیں دے رہے کیونکہ پچیس مئی کو احتجاج کی کال پر نہ تو کارکن اتنی بڑی تعداد میں نکلے اور جو کارکن بھی نکلے انھوں نے ایسے جوش وخروش کا مظاہرہ نہیں کیا جس طرح کی توقع پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین پی ٹی آئی کے حالیہ جلسوں میں کارکنوں کے جذبے کو دیکھ کر کر رہے تھے۔تاہم تحریکِ انصاف کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی شاہ محمود قریشی کارکنوں کے نہ نکلنے کے دعوو¿ں کو غلط قرار دیتے ہوئے اس کی وجہ مسلم لیگ ن کی جانب سے پولیس کے ذریعے مظاہرین پر تشدد کو قرار دیتے ہیں۔انھوں نے کہا کہ لانگ مارچ میں پنجاب سے بڑی تعداد نہ آنے کی وجہ حکمراں جماعت کے ‘ہتھکنڈے’ تھے۔ ان کا کہنا تھا ‘آپ کو علم ہو گا کہ کس قسم کی دہشتگردی یہاں پولیس نے پھیلائی تھی، کنٹینرز لگائے گئے، عورتوں پر شیلنگ اور تشدد ہوا، ہزاروں کارکنوں کو گرفتار کیا گیا۔ ہمارا آئینی حق ہے کہ ہم جمع ہوں، اگر کنٹینرز نہ لگیں، گرفتاریاں نہ ہوں، پولیس کا استعمال نہ ہو تو پھر آپ دیکھیں کہ موبلائیزیشن ہوتی ہے یا نہیں اور اگر پھر بھی نہیں ہوتی تو گورنمنٹ کو مبارک ہو۔’دوسری جانب پی ٹی آئی کے چیئرمین اپنی تقریروں میں یہ کہتے رہے ہیں کہ انھوں نے لانگ مارچ اس لیے ختم کیا کیونکہ انھیں خونی تصادم کا خطرہ تھا کیونکہ ان کے بقول مظاہرین کے پاس بھی اسلحہ موجود تھا۔طلعت حسین کا کہنا تھا کہ اگر عمران خان اس مرتبہ دھرنا دے بھی دیتے تو شاید ان کو وہ سہولتیں فراہم نہ ہوتیں جو سنہ 2014 کے دھرنے میں انھیں فراہم کی گئیں تھیں جس میں بعض اوقات وہ بنی گالہ بھی چلے جاتے تھے۔حکومت نے عمران خان اور وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے اسلحہ اور صوبے کی فورس استعمال کرنے کے بیانات کا جائزہ لینے کے لیے ایک پانچ رکنی کمیٹی بھی قائم کردی ہے جو کہ ان بیانات کا جائزہ لے کر ان کے خلاف قانونی کارروائی کرنے کے بارے میں اپنی سفارشات مرتب کرے گی۔
پاکستان تحریک انصاف میں اب بھی ایک دھڑا ایسا ہے جو اسلام آباد کی طرف فوری طور پر لانگ مارچ کرنے یا دھرنا دینے کے حق میں نہیں ہے۔ اس دھڑے کا کہنا ہے کہ کارکنوں کو اکھٹا کرنے اور انھیں متحرک کرنے کے لیے وقت درکار ہے جبکہ اسلام آباد کا موسم بھی اس وقت گرم ہے تو ایسے حالات میں دھرنا یا لانگ مارچ کی کال دینے کے موثر نتائج نہیں ملیں گے۔اس کے علاوہ ارکان کی قابل ذکر تعداد ابھی بھی اس حق میں ہے کہ ان کی جماعت کو اب بھی پارلیمنٹ میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ چند روز قبل پاکستان تحریک انصاف کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی نے لاہور میں سپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الہی سے ملاقات کی تھی اور اس میں بھی سپیکر پنجاب اسمبلی نے مشورہ دیا تھا کہ پارلیمنٹ میں رہ کر ہی حکومت کی پالیسیوں پر نظر رکھی جاسکتی ہے۔
تجزیہ کار سہیل ورائچ کا کہنا تھا کہ لانگ مارچ اور دھرنے کسی بھی تحریک کے آخری آپشن ہوتے ہیں لیکن عمران خان نے ان کو پہلے استعمال کر کے اس تحریک کی قوت اور اہمیت کو کم کر دیا ہے۔انھوں نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کو اب اپنی حکمت عملی تبدیل کرنا پڑے گی کیونکہ پہلے تو لوگ آزادانہ طریقے سے جلسوں اور دھرنوں میں جاتے تھے لیکن اب حکومت اس میں رکاوٹیں ڈالے گی تو ایسی صورت حال میں پی ٹی آئی کی قیادت کو اپنی حکمت عملی تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔

You might also like
Leave A Reply

Your email address will not be published.