Daily Mashriq Quetta Urdu news, Latest Videos Urdu News Pakistan updates, Urdu, blogs, weather Balochistan News, technology news, business news

افواہوں اور غلط فہمیوں کا خاتمہ

0

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

شفیق اعوان

آجکل چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر باجوہ کی صحافیوں سے ملاقات کے بہت چرچے ہیں۔ اس حوالے سے تمام خبریں ذرائع سے آ رہی ہیں لیکن ان کی تردید یا تصدیق متعلقہ اداروں نے نہیں کی۔ جس کا مطلب ہے جو رپورٹ ہوا سب ٹھیک ہے ورنہ لمبی چوڑی وضاحت یا تردید آ جاتی۔اس ملاقات بارے بتایا گیا کہ آرمی چیف نے ملکی و بین الاقوامی معاملات پر کھل کر گفتگو کی جس سے مختلف افواہوں کا خاتمہ ہوا، کچھ غلط فہمیاں بھی دور ہوئیں، کچھ وضاحتیں بھی ہو گئیں اور عسکری قیادت کی پالیسیوں کا بھی علم ہوا البتہ کچھ تشنگیاں ہمیشہ کی طرح رہ گئیں۔ ویسے یہ ساری بریفنگ پارلیمنٹ کے ذریعے ہونی چاہیے تھی۔ پارلیمنٹیرین کو اعتماد میں لینا چاہیے تھا لیکن جب جمہوری حکومت اور پارلیمنٹیرین ہی خاموش ہیں تو باقی واویلا تو نقار خانے میں طوطی کی آواز کے برابر ہے۔
اس سارے فسانے میں جو اہم بات تھی وہ پاک بھارت تعلقات اور کشمیر کے حوالے سے پیش رفت تھی جسے عوام الناس اور حاکم وقت تک پہنچانا مقصود تھا تا کہ ان انکشافات کی روشنی میں رد عمل دیکھا جا سکے۔جنرل باجوہ کا کہنا تھا کہ 2017 میں بھارتی فوج کی جانب سے پاک بھارت مسائل پر مذاکرات کی دعوت ملی جس پر اس وقت کے وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کو اعتماد میں لے کر بات کی گئی۔ جس کا ایک فائدہ ہوا کہ لائن آف کنٹرول پر سیز فائر ہو گیا۔ لیکن بوجوہ یہ مذاکرات آگے نہ بڑھ سکے۔ انہوں نے گلہ کیا کہ آج شاہد خاقان عباسی ان پر کشمیر کا سودا کرنے کے الزامات لگا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دسمبر 20 میں بھارتی ملٹری کی طرف سے پھر مذاکرات کی دعوت آئی لیکن انہوں نے کہا کہ اس بار یہ مذاکرات سویلین کے بجائے ملٹری انٹیلی جنس کی سطح پر ہوں۔ جو قبول کر لی گئی اور مذاکرات جاری ہیں۔ابھی تک مریم نواز نے اس حوالے سے ایک سوال کے جواب میں اپنا موقف دیا ہے اور کہا ہے کہ خارجہ امور جیسے اہم معاملات پر فیصلہ کرنا پارلیمنٹ کا کام ہے نہ کہ فرد واحد یا چند لوگوں کا۔ لیکن ابھی تک مسلم لیگ نواز، پیپلز پارٹی، جے یو آئی، جماعت اسلامی، بلوچستان کی نیشنلسٹ جماعتوں، اے این پی سمیت کسی اور جماعت نے اپنا آفیشل موقف نہیں دیا۔ دس بارہ سرکردہ لیڈران سے اس بارے موقف کی بات ہوئی تو انہوں نے کہا کہ ابھی بلیک اینڈ وائٹ میں یہ بات سامنے نہیں آئی۔ میں نے یاد دلایا کہ درجنوں بار مختلف سیاسی پارٹیوں کا سینہ گزٹ اور ذرائع کے حوالے سے خبروں پر موقف آ چکا ہے۔ تقریباً سب نے کہا ابھی اس حوالے سے کچھ نہیں کہنا۔ کشمیر کے مسئلہ کے حل اور بھارت سے تعلقات کی بحالی کی بات ہو رہی ہے اور ہمارے سیاستدان اس پر بات کرنے کو بھی تیار نہیں۔ کیا اس خاموشی کو رضامندی سمجھا جائے؟بھارت کی بات کریں تو ذرائع کے مطابق جنرل باجوہ نے اعتماد سازی کے لیے بھارت سے چینی اور کپاس کی تجارت بھی کھولنے کی بات کی لیکن کابینہ نے اپنی حماقت سے فوج کی اس کوشش پر پانی پھیر دیا اور بتایا گیا کہ اس میں مرکزی کردار شاہ محمود قریشی کا تھا۔ جان کی امان پائیں تو عرض کریں اگر یہ سب کچھ پارلیمنٹ یا کابینہ کو ہی اعتماد میں لے کر کیا جاتا تو سبکی نہ ہوتی۔ اگر کابینہ پر ہی اعتماد نہیں کیا گیا تو پارلیمنٹ تو بڑا پلیٹ فارم ہے۔
اس ساری بریفنگ سے البتہ ایک بات عیاں ہے کہ سٹیبلشمنٹ کا نواز شریف کے لیے کوئی نرم گوشہ نہیں۔ ان کا یہ کہنا کہ ان کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں اور نواز شریف اپنے ہی وزن سے گرے، معنی خیز تھا۔ جس طرح برطانیہ سے نواز شریف کی پاکستان حوالگی کا گلہ کیا گیا ہے اس سے تو یہی ظاہر ہوتا ہے۔ وہ جو یار لوگ بشمول محمد زبیر یہ بات کرتے تھے کہ سب ٹھیک ہونے جا رہا ہے ایسا لگتا تو نہیں۔ البتہ
”پیوستہ رہ شجر سے امید بہار رکھ “
پھر ان کا یہ کہنا کہ عمران خان ایک ذہین سیاستدان ہیں اور حکومت اپنی آئینی مدت پوری کرے گی بشرطیکہ کوئی آئینی مسئلہ پیدا نہ ہوا۔ یہ بھی عمران خان حکومت کو بہت بڑا سہارا ہے۔ایک اور دلچسپ بات جو ان سے موسوم ہے کہ وہ مذہبی شدت پسندوں سے جان چھڑانا چاہتے ہیں کیونکہ یہ اثاثے کے بجائے خسارہ بنتے جا رہے ہیں۔ لیکن انہوں نے یہ نوید بھی سنائی کہ تحریک لبیک عنقریب قومی سیاسی دھارے میں شامل ہو جائے گی۔ یہ وہی تحریک لبیک ہے جسے کابینہ نے کالعدم اور دہشت گرد تنظیم قرار دے کر اس کی تمام سرگرمیوں پر پابندی لگا دی تھی۔ اب یہ کیسے بحال ہو گی اس کا ایک ہی طریقہ ہے سپریم کورٹ اور لگتا ہے کہ شاید قاضی فائز عیسیٰ کے بعد ایک اور معجزہ ہونے جا رہا ہے۔
”آنکھ جو کچھ دیکھتی ہے، لب پہ آ سکتا نہیں
محوِ حیرت ہوں کہ دنیا کیا سے کیا ہو جائے گی“
پھر انہوں نے ابصار عالم کو گولی لگنے کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ اس میں ادارے ملوث نہیں اور اس حوالے سے میں خود تحقیق کرا رہا ہوں۔ ان کا یہ کہنا تھا کہ محض ایک ٹویٹ پر ایسی کارروائیاں نہیں ہوتیں۔ یہ بھی فرمایا کہ سابق سپیکر ایاز صادق نے تو بھارت کے حوالے سے ہمارے بارے میں زیادہ سنگین بات کی تھی انہیں نہیں چھیڑا تو یہ تو معمولی ایشو تھا۔ اس سے ایک بات تو طے ہے کہ ہمارے آرمی چیف نا صرف سوشل میڈیا بلکہ سات سے بارہ تک ٹاک شوز بھی دیکھتے ہیں کیونکہ ان کے ریمارکس سے نہیں لگ رہا تھا ان کی معلومات محض بریف تک ہیں۔
ایک اور بڑی خبر بالآخر جہانگیر ترین کو این آر او مل ہی گیا۔ ان کا سب سے بڑا مطالبہ شوگر مافیا کے تفتیشی افسر ڈاکٹر رضوان کو ہٹا کر مان لیا گیا۔ اب نیا تحقیقی افسر آئے گا نئے سرے سے تحقیقات ہوں گی اور کون جئے گا تیری زلف کے سر ہونے تک۔ ترین گروپ کا دوسرا مطالبہ پرنسپل سیکرٹری اعظم خان اور معاون خصوصی احتساب شہزاد اکبر کو ہٹانے کا تھا۔ جو کہ ٹال دیا گیا۔ اعظم خان تو شاید بچ جائیں لیکن شہزاد اکبر کمزور آدمی ہیں دیکھئے انجام گلستان کیا ہوتا ہے؟عمران خان بھی کیا کرتے وہ بھی مجبور تھے جب ہاتھوں سے تراشے گئے بت بولنے لگیں تو ان کے سامنے ہار ماننا ہی پڑتی ہے۔ جہانگیر ترین نے دکھتی رگ پر ہاتھ رکھتے ہوئے صرف اتنا کہا تھا کہ بجٹ پاس کرنے کے موقع پر میرے 43 ایم پی اے اور 11 ایم این اے اجلاس کا بائیکاٹ کریں گے۔ لیکن شاہ محمود قریشی سمیت کچھ کابینہ اراکین اس این آر او پر بہت سیخ پا ہیں اور کہا جا رہا ہے کہ اس حوالے سے کابینہ کے اگلے اجلاس میں گرما گرمی کی شنید ہے۔دروغ بہ گردن تفتیشی افسر کے قریبی ذرائع بتاتے ہیں، ان کے لیے پیغام تھا کہ خسرو بختیار و ہمایوں اختر خاندان کی شوگر ملوں کو زیادہ نہ چھیڑیں۔ جہانگیر ترین کو گرفتار نہ کریں اور ان کے خلاف درج ایف آئی آر پر نظر ثانی کریں۔ شوگر مافیا کے سٹہ اکاﺅنٹ میں اربوں روپے کا فرانزک آڈٹ روک دیں۔ توجہ صرف پیپلز پارٹی و مسلم لیگ ن بشمول آصف زرداری، خورشید شاہ، حمزہ شہباز، مریم نواز و دیگر پر رکھیں۔ لیکن وہ ذرا جز بز ہوئے اور چھٹی مقدر ٹھہری۔کرونا شدت اختیار کر گیا ہے این سی او سی کے اجلاس میں دو ہفتے کے مکمل لاک ڈاﺅن کی تجویز آئی جسے چیف ایگزیکٹو نے رد کر دیا۔ کبوتر کی طرح آنکھیں بند کرتے ہوئے خطرے کا نشان اونچا کر لیا۔ بالکل اسی طرح کہ ایک گاﺅں میں سیلاب آ گیا، ایک حکومتی افسر گاﺅں پہنچا اور لوگوں سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ پانی کا بہاﺅ بہت بڑھ گیا ہے، پانی خطرے کے نشان سے 2 فٹ اونچا ہو گیا ہے۔ لوگوں نے خوفزدہ ہو کر کہا کہ اب کیا ہو گا؟ افسر نے کہا گھبرانے کی ضرورت نہیں۔ ہم نے انتظام کر لیا ہے۔ خطرے کے نشان کو دو فٹ سے بڑھا کر چار فٹ کر دیا ہے۔ حکومت کے کرونا کے حوالے سے اقدامات یہی ہیں، بس آپ نے گھبرانا نہیں۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.