Daily Mashriq Quetta Urdu news, Latest Videos Urdu News Pakistan updates, Urdu, blogs, weather Balochistan News, technology news, business news

حکومت نے پرائز بانڈز پر پابندی کیوں لگائی؟

0

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

تنویر ملک

حنا رضوی ایک گھریلو خاتون ہیں۔ ان کے پاس دو سے تین لاکھ کے پرائز بانڈز رکھے ہیں جن میں 7500 اور 15000 روپے مالیت کے پرائز بانڈز بھی شامل ہیں۔ حنا کے شوہر کے پاس بھی الگ سے پرائز بانڈز موجود ہیں۔چالیس برس کی حنا رضوی نے بتایا کہ ان کے پاس یہ پرائز بانڈز بچت کے طور پر رکھے ہوئے ہیں۔ ان بانڈز میں سے کچھ ان کی ساس نے گذشتہ سال ان کے بچوں کو تحفے کے طور پر دیے تھے جو انھوں نے اپنے پاس محفوظ کر لیے۔ان کے مطابق کیش کی بجائے بانڈز کی صورت میں بچت زیادہ اچھی ہے کیونکہ کیش تو کسی وقت بھی آپ خرچ کر دیتے ہیں تاہم بانڈز میں انعام لگنے کی کشش بھی ہوتی ہے۔کراچی کے صدر ایریا میں ایک سیلون شاپ پر کام کرنے والے ارشد بھٹی بھی پرائز بانڈز خریدتے اور بیچتے رہتے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ وہ یہ کام اکیلے نہیں کرتے۔ سیلون شاپ پر کام کی تنخواہ سے جو رقم بچ جاتی ہے وہ اپنے تین چار دوستوں کے ساتھ مل کر پرائز بانڈز خرید لیتے ہیں۔ارشد کے مطابق وہ تمام مالیت کے پرائز بانڈز خریدتے ہیں۔انھوں نے بتایا کہ ایک تو اس طرح سے وہ اپنی بچت کو محفوظ کر لیتے ہیں تو دوسری جانب انعام لگنے کا چانس بھی رہتا ہے۔ ارشد نے بتایا کہ ان کے پاس 7500 روپے والے پرائز بانڈز بھی موجود ہیں۔کراچی میں خاتون کاروباری شخصیت در شہوار نے اس سلسلے میں بتایا کہ ان کی واقفیت میں ایسی خواتین ہیں کہ جن کے پاس یہ پرائز بانڈز ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ یہ خواتین زیادہ طرح مڈل کلاس طبقے سے تعلق رکھتی ہیں جو اپنی بچت کو پرائز بانڈز میں رکھ کر اسے نہ صرف محفوظ بناتی ہیں بلکہ انعام لگنے کی صورت میں انھیں مالی فائدہ بھی حاصل ہوتا ہے۔حنا رضوی اور ارشد بھٹی کی طرح دوسرے افراد کے پاس رکھے 15000 اور 7500 روپے مالیت کے بیرئیر پرائز بانڈز پر حکومت نے پابندی لگا دی ہے۔
حکومت پاکستان کے فنانس ڈویڑن کی جانب سے ایک نوٹیفکیشن کے ذریعے اعلان کیا گیا ہے کہ 15000 اور 7500 روپے مالیت کے پرائز بانڈز 31 دسمبر 2021 تک کیش اور واپس کیے جا سکتے ہیں اور اس کے بعد ان کی کوئی حیثیت نہیں رہے گی۔حکومتی اعلان کے مطابق 15000 اور 7500 روپے مالیت کے پرائز بانڈز کی فروخت بند کر دی گئی ہے اور 31 دسمبر 2021 تک یہ کیش یا واپس کیے جا سکتے ہیں۔ تاہم حکومت نے 15000 اور 7500 روپے مالیت کے پرائز بانڈز رکھنے والے افراد کو یہ سہولت بھی فراہم کی ہے کہ وہ ان بانڈز کو 25000 اور 40000 والے پرئیمیر پرائز بانڈز میں بھی تبدیل کرا سکتے ہیں جو دونوں کے درمیان مالیت کا فرق ادا کر کے تبدیل کرائے جا سکتے ہیں۔یہ سٹیٹ بینک کے فیلڈ آفسز اور چھ کمرشل بینکوں کی برانچوں کے ذریعے کیے جاسکتے ہیں۔ حکومت کے اعلان کے مطابق 7500 اور 15000 روپے مالیت کے یہ پرائز بانڈز سپیشل سیونگ سرٹیفکیٹس اور ڈیفنس سیونگ سرٹیفکیٹس سے بھی بدلے جا سکتے ہیں۔جب حنا رضوی سے اس بارے میں استفسار کیا گیا کہ کیا وہ اپنے پاس موجود ان پرائز بانڈز کو رجسٹرڈ پرائز بانڈز میں بدلنا چاہیں گی تو انھوں نے کہا وہ اس میں دلچسپی نہیں رکھتیں اور انھیں کیش کرا کر رقم اپنے اکاو¿نٹ میں منتقل کرا دیں گی۔حنا نے کہا پرائز بانڈز پر پابندی کی وجہ سے ان کی بچت کا یہ ذریعہ ختم ہونے کے بعد اب وہ ڈالر اور سونے میں بچت لگانے کا سوچ رہی ہیں۔
ارشد بھٹی بھی رجسٹرڈ پرائز بانڈز خریدنے کا ارادہ نہیں رکھتے اور ان کا ارادہ انھیں کیش کرانے کا ہے۔ ارشد نے بتایا کہ رجسٹرڈ کرانے کے لیے بینکوں کی جانب سے درکار معلومات اور کاغذات کے چکر میں وہ نہیں پڑنا چاہتے۔حکومت کی جانب سے 15000 اور 7500 روپے مالیت کے پرائز بانڈز پر پابندی کے تازہ ترین اقدام سے پہلے 40000 اور 25000 روپے مالیت کے پرائز بانڈز پر بھی حکومت پابندی لگا چکی ہے۔حکومت کی جانب سے 40000، 25000، 15000 اور 7500 روپے مالیت کے پرائز بانڈز پر پابندی کے بعد اب مارکیٹ میں سب سے بڑا پرائز بانڈ 1500 روپے مالیت کا ہے۔ اس کے علاوہ 750، 200 اور 100 روپے مالیت کے پرائز بانڈز مارکیٹ میں موجود ہیں۔
پاکستان میں نوجوانوں کو اکثر اس سوال کا سامنا رہتا ہے کہ وہ اگر اپنی بچت کردہ رقم میں اضافہ چاہتے ہیں تو سرمایہ کاری کہاں کریں۔پاکستان میں بڑی مالیت کے پرائز بانڈز پر حکومتی پابندی کو فنانشنل ایکشن ٹاسک فورس (ایف ٹی اے ایف) کی شرائط سے جوڑا گیا ہے کہ جن میں انسداد منی لانڈرنگ اور کالے دھن کے خلاف اقدامات شامل ہیں۔فنانس ڈویڑن میں ڈیبٹ آفس کے سابقہ ڈائریکٹر جنرل عبد الرحمٰن وڑائچ نے اس پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ایف اے ٹی ایف کی شرائط کے تحت یہ کام ہو رہا ہے۔ انھوں نے کہا اس سے پہلے آئی ایم ایف اور عالمی بینک بھی پاکستان سے پرائز بانڈز پر پابندی کا کہہ چکے ہیں۔انھوں نے کہا بڑی مالیت کے پرائز بانڈز منی لانڈرنگ اور کالے دھن کو سفید کرنے کا سب سے آسان ذریعہ بن چکے ہیں۔
عبدالرحمٰن نے کہا یہ بانڈز کرنسی نوٹوں کی طرح استعمال ہوتے ہیں کہ جس میں ایسی ٹرانزیکشنز کی جاتی ہیں جس میں غیر قانونی لین دین شامل ہو۔انھوں نے بتایا کہ جب کسی کا بانڈ لگ جاتا ہے تو کالے دھن میں ملوث افراد ان سے یہ بانڈ خرید لیتے ہیں اور انھیں رقم ادا کر کے اپنی غیر قانونی دولت کو سفید کرتے ہیں۔ انھوں نے 7500 اور 15000 روپے مالیت کے پرائز بانڈز پر پابندی کو خوش آئند قرار دیا اور کہا کہ دنیا میں تو یہ اس پر بہت عرصہ پہلے پابندی لگ چکی ہے یعنی بیرئیر پرائز بانڈ کی خرید و فروخت نہیں کی جا سکتی۔عبدالرحمٰن وڑائچ نے بتایا کہ بیرئیر پرائز بانڈ پر پابندی ہر صورت لگنی چاہیے کیونکہ ایسا نہیں ہو سکتا کہ جس کی جیب سے یہ بانڈ نکلے وہ اسی کا قرار پائے۔انھوں نے کہا رجسٹرڈ پرائز بانڈز صحیح طریقہ کار ہے کہ جس کے نام پر جاری ہوا ہو وہی دوبارہ اسے بینک میں جمع کرا سکے یا انعام لگنے کی صورت میں کیش کرا سکے۔عبدالرحمٰن وڑائچ نے اسے معیشت کو دستاویزی بنانے کی طرف بھی ایک اہم قدم قرار دیا اور کہا اس کے ذریعے جہاں کالے دھن کو سفید کرنے کا سلسلہ رک جائے گا تو اس کے ساتھ معیشت کی زیادہ بہتر دستاویز صورت ابھرے گی۔ماہر معیشت ڈاکٹر شاہد حسن صدیقی نے اس بات کی تصدیق کی پرائز بانڈز کالے دھن کو سفید کرنے کا سب سے آسان ذریعہ ہے جس پر پابندی لگنی چاہیے۔ انھوں نے کہا وہ پانچ سال سے حکومت سے کہہ رہے تھے کہ وہ اس سلسلے میں اقدامات اٹھائے اور بلیک اکانومی کے اس ذریعے کو بند کرے۔
پرائز بانڈز قومی بچت سکیموں کا حصہ ہیں جن میں ہونے والی سرمایہ کاری کے ذریعے اکٹھا ہونے والا پیسہ حکومت اپنے مالی خسارے کو پورا کرنے کے لیے استعمال کرتی ہے۔بڑی مالیت کے پرائز بانڈز پر پابندی کے بعد لوگ رجسٹرڈ پرائز بانڈز پر جانے سے کترا رہے ہیں۔ ایسی صورت میں کیا حکومت کو بجٹ خسارے پورا کرنے کے لیے کوئی مشکل پیش آ سکتی ہے۔ 15000 اور 7500 روپے مالیت کے پرائز بانڈز میں سو ارب روپے کی سرمایہ کاری کی گئی ہے۔اس سلسلے میں ڈاکٹر شاہد حسن صدیقی نے کہا اس سے کوئی خاص فرق نہیں پڑنے والا کیونکہ حکومت اب کمرشل بینکوں سے بہت زیادہ پیسہ اٹھا رہی ہے۔انھوں نے کہا پرائز بانڈز میں دو تین سو ارب روپے کی سرمایہ کاری ہوئی ہے، دوسری جانب حکومت کے جانب سے لیے جانے والے 11500 ارب روپے کے سامنے یہ کوئی خاص حیثیت نہیں رکھتی۔ ان کے مطابق اگر لوگ پرائز بانڈز اپنے نام پر رجسٹرڈ نہیں کرانا چاہتے اور اب اپنی بچت کو ڈالروں میں لگانا چاہتے ہیں تو حکومت کو اس کی حوصلہ شکنی کرنی چاہیے۔انھوں نے اس سلسلے میں حکومت کو ڈالر اکاو¿نٹ پر پابندی لگا دینی چاہیے تاکہ لوگ ڈالر اپنے پاس نہ رکھ سکیں۔انھوں نے کہا ’پاکستان کے زرمبادلہ کے 20 ارب ڈالر ذخائر میں سے سات ارب ڈالر تو لوگوں کے کمرشل بینکوں کے اکاو¿نٹس میں پڑے ہیں۔ اس صورت میں لوگ قومی بچت کی اسکیموں کی طرف آئیں گے۔‘

Leave A Reply

Your email address will not be published.