Daily Mashriq Quetta Urdu news, Latest Videos Urdu News Pakistan updates, Urdu, blogs, weather Balochistan News, technology news, business news

رفال طیاروں کے معاہدے میں ’وعدہ خلافی‘، انڈیا کا دفاعی سامان سے متعلق نئی پالیسی کا اعلان

0

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

دفاعی شعبے میں ‘آتم نربھر بھارت’ یعنی خود کفیل انڈیا یا خود انحصاری کا نعرہ بلند کرنے کے بعد انڈیا کی حکومت نے دفاعی ساز و سامان کی خریداری سے متعلق نئی پالیسی کا اعلان کیا ہے۔

مرکزی حکومت کا کہنا ہے کہ نئے فیصلے کے ساتھ ہی ‘میک ان انڈیا’ اور ‘خود کفیل انڈیا’ کا خواب بہتر انداز میں پورا ہوگا۔

نئی پالیسی کے تحت بڑے دفاعی سودوں میں ’آفسیٹ معاہدوں کی مجبوری‘ کو عملی طور پر ختم کر دیا گیا ہے۔

چند روز قبل انڈیا کے آڈیٹر اینڈ کمپٹرولر جنرل (سی اے جی) نے کہا تھا کہ فائٹر جیٹ رفال بنانے والی کمپنی نے انڈیا کے ساتھ دفاعی سودے کے تحت جن ’آفسیٹ‘ ذمہ داریوں کو نبھانے کی بات کی تھی، انھیں پورا نہیں کیا گیا اور نہ ہی اب تک انڈیا کو کسی اعلیٰ سطحی تکنیک کی پیشکش کی گئی ہے۔

سی اے جی کی طرف سے گذشتہ بدھ کو پارلیمان میں اس بارے میں ایک رپورٹ پیش کی گئی تھی جس سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ فرانس کی دفاعی کمپنی نے اب تک اپنے وعدوں پر عمل نہیں کیا ہے۔

انڈیا کی آفسیٹ پالیسی کے تحت دفاعی سامان بنانے والی غیر ملکی کمپنیوں کو انڈیا کی جانب سے کل خرید کا کم سے کم تیس فیصد انڈیا میں ہی خرچ کرنا ہوتا ہے۔

مرکزی حکومت کا مؤقف ہے کہ دفاعی معاہدے میں آفسیٹ شق کی وجہ سے انڈیا کو دفاعی ساز و سامان خریدنے کے لیے زیادہ رقم ادا کرنی پڑتی ہے اور اب ان کی قیمت کم ہو جائے گی۔

دفاعی خریداری کے عمل میں بڑی تبدیلی کرتے ہوئے اسلحہ اور فوجی ساز و سامان کو لیز پر حاصل کرنے کا آپشن کھل گیا ہے۔

اس تبدیلی کے بعد لڑاکا ہیلی کاپٹر، فوجی ٹرانسپورٹ طیارہ، بحری جہاز اندرون ملک اور بیرون ملک سے معاہدوں کے تحت حاصل کرنے کی راہیں کھول دی گئی ہیں۔ بڑے دفاعی سودوں میں آفسیٹ معاہدوں کی مجبوری کو بھی عملی طور پر ختم کر دیا گیا ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.