Daily Mashriq Quetta Urdu news, Latest Videos Urdu News Pakistan updates, Urdu, blogs, weather Balochistan News, technology news, business news

ڈونلڈ ٹرمپ بمقابلہ جو بائیڈن: پہلا صدارتی مباحثہ کس کے نام رہا : انتھونی زرچر

0

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

کھانے پر ہونے والی چھینا جھپٹی جیسے اس سیاسی مباحثے میں جیت اسی شخص کی ہوئی جس کے کپڑے اختتام پر نسبتاً کم گندے ہوئے۔

منگل کی رات کو وہ شخص جو بائیڈن تھے اور وہ صرف اس لیے کہ اُن کا مقصد امریکیوں کے سامنے یہ ثابت کرنا تھا کہ وہ دباؤ برداشت کر سکتے ہیں اور یہ کہ بڑھتی ہوئی عمر کے باوجود اُن کے جوش میں کوئی کمی نہیں آئی ہے۔

انھیں یہ دکھانا تھا کہ وہ تحقیر کا سامنا کرتے ہوئے بھی اپنے مزاج کو ٹھنڈا رکھ سکتے ہیں۔

ویسے تو وہ اس معیار پر قائم رہے اور اس کی کچھ وجہ ڈونلڈ ٹرمپ بھی ہیں جو مسلسل مداخلت کرتے رہے اور اس سے پہلے کہ سابق نائب صدر جو بائیڈن خود کچھ کہہ کر اپنے پیر پر کلہاڑی مارتے، صدر ٹرمپ ان کی بات ہی کاٹ دیتے۔

صدر ٹرمپ کی شخصیت کا غیر روایتی، جارحانہ، تحقیر آمیز اور افواہیں پھیلانے والا پہلو جو ’ٹوئٹر ٹرمپ‘ کہلاتا ہے وہ ڈیڑھ گھنٹہ طویل اس مباحثے میں پوری طرح واضح نظر آیا۔

مگر امریکی صدر کی بدقسمتی یہ ہے کہ کئی امریکی بشمول ان کے اپنے حامی اُن کے سوشل میڈیا روپ کو بے کشش تصور کرتے ہیں۔

ٹرمپ کو اس بحث کی ضرورت اس لیے تھی تاکہ بازی کو اپنے حق میں پلٹا جا سکے جو اقتصادی، طبی اور سماجی مسائل کی وجہ سے ان کے خلاف جا رہی ہے۔

اس بے لاگ بحث کا نہ تو انتخابی مقابلے پر کوئی اثر پڑے گا اور نہ ہی اس سے اُن 10 میں سے ایک امریکیوں کے ذہن تبدیل ہوں گے جن کا کہنا ہے کہ انھوں نے ابھی تک فیصلہ نہیں کیا کہ ووٹ کس کو دینا ہے۔ لیکن لگتا ہے کہ شاید وہ بھی یہ عہد کر لیں کہ وہ ایک اور مباحثہ نہیں دیکھیں گے۔

تم چپ کرو گے یا نہیں؟

یہ کافی پہلے سے ہی واضح تھا کہ یہ ’بحث‘ کس قسم کی ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ کا مقصد جو بائیڈن کو زچ کیے رکھنا تھا اور اُن کا منصوبہ تھا کہ بار بار سابق نائب صدر کی باتوں میں مداخلت کر کے یہ مقصد حاصل کیا جائے۔

اس کی وجہ سے دونوں امیدواروں کے درمیان متعدد بار تکرار ہوئی۔ ٹرمپ نے بائیڈن کی ذہانت پر سوال اٹھائے تو بائیڈن نے ٹرمپ کو مسخرہ قرار دیا، انھیں چُپ کروانے کی کوشش کی اور تنگ آ کر بولے، ’تم چپ کرو گے یا نہیں؟‘

ڈونلڈ ٹرمپ، جو بائیڈن

بار بار ٹرمپ بائیڈن کو تنقید کا نشانہ بناتے جس پر ڈیموکریٹ امیدوار ہنستے اور اپنا سر ہلاتے نظر آتے۔

جب اس مباحثے کے میزبان کرس والیس نے اعلان کیا کہ اگلا موضوع کورونا وائرس ہو گا اور یہ کہ دونوں امیدواروں کے پاس جواب دینے کے لیے بلامداخلت ڈھائی منٹ ہوں گے، تو بائیڈن نے طنزیہ انداز میں کہا: ’اگر آپ کی قسمت میں ہوا تو۔‘

اور اچانک ہی پرائم ٹائم پر نشر ہونے والے اس مشہور ایونٹ کو ماڈریٹ کرنا ملک کا بدترین کام بن گیا تھا۔

کیمرے کی جانب بائیڈن کا دانستہ رُخ

کورونا وائرس کی بات کریں تو یہ امریکی صدر کے لیے مشکل ثابت ہونے والا تھا اور یہ موضوع بحث کے اوائل میں ہی اٹھا۔ انھیں کورونا پر ایسے سرکاری اقدامات کا دفاع کرنا تھا جن کی وجہ سے دو لاکھ سے زیادہ امریکی ہلاک ہوئے ہیں۔ انھوں نے اپنا دفاع یہ کہہ کر کیا کہ ان کے اٹھائے گئے اقدامات کی وجہ سے زیادہ اموات نہیں ہوئیں اور عندیہ دیا کہ اگر بائیڈن اقتدار میں ہوتے تو حالات مزید خراب ہو جاتے۔

بائیڈن نے جواباً براہِ راست کیمرا میں دیکھتے ہوئے بات کی اور ناظرین سے پوچھا کہ کیا وہ ٹرمپ کی بات مانتے ہیں۔

واضح رہے کہ رائے عامہ کے سرویز کے مطابق امریکیوں کی اکثریت اس وبا پر ٹرمپ کے ردِعمل سے متفق نہیں ہے۔

ٹرمپ نے اپنے انتخابی جلسوں کے حجم پر بھی فخر کا اظہار کیا جو کھلی جگہوں پر منعقد کیے گئے تھے کیونکہ ان کے مطابق ’ماہرین‘ (اس لفظ پر زور دیا) نے یہی تجویز دی ہے۔ پھر انھوں نے کہا کہ بائیڈن کے جلسے چھوٹے تھے کیونکہ وہ زیادہ لوگوں کو اپنی جانب متوجہ نہیں کر سکے۔

اس سے دونوں امیدواروں کی اس وبا کے بارے میں سوچ کے بنیادی فرق کا اندازہ ہوتا ہے اور آیا کہ صورتحال بگڑ رہی ہے یا بہتری کی جانب گامزن ہے۔

ٹرمپ کا مسائل حل کرنے کا دعویٰ

اگر صدر ٹرمپ کا امریکیوں کے لیے اپنی انتخابی مہم سے ایک پیغام ہو تو وہ ایک کلپ ہے جو صدر کے ٹوئٹر اکاؤنٹ سے اس مباحثے کے دوران پوسٹ کیا گیا۔ پیغام یہ ہے کہ جو بائیڈن نے عوامی مسائل کے حل کے لیے عوامی عہدے پر تقریباً نصف صدی گزاری ہے اور وہ مسائل اب بھی موجود ہیں۔

ٹرمپ نے سابق نائب صدر سے کہا: ’47 ماہ میں میں نے آپ کے 47 سالوں سے زیادہ کام کیا ہے۔‘

بائیڈن کا جواب بحث میں آگے چل کر آیا۔

انھوں نے کہا: ’اس صدر کے تحت ہم مزید کمزور، مزید بیمار، مزید غریب اور مزید منقسم ہوئے ہیں۔‘

ڈونلڈ ٹرمپ، جو بائیڈن

بائیڈن ٹرمپ کو پوشیدہ ٹیکسوں پر گھیرنے میں ناکام رہے

جب اتوار کی رات کو ٹرمپ کے ٹیکسوں کے بارے میں اخبار نیویارک ٹائمز کی سٹوری سامنے آئی تو اس سے تہلکہ مچ گیا۔ بالآخر لوگوں کے سامنے وہ معلومات آئیں جو صدر نے روایت سے ہٹتے ہوئے کئی سالوں تک چھپا کر رکھی تھیں۔

جب یہ معاملہ بحث میں اٹھا تو ڈونلڈ ٹرمپ نے ویسا ہی دفاع پیش کیا جو انھوں نے سنہ 2016 میں پیش کیا تھا اور وہ یہ کہ انھوں نے بہت زیادہ ٹیکس دیا ہے اور یہ کہ وہ بڑے ٹیکسوں سے قانون کا فائدہ اٹھاتے ہوئے بچ سکے تھے۔

اپنی جانب سے بائیڈن نے اس موضوع کو ریپبلیکن پارٹی کی منظور کردہ ٹیکس اصلاحات کی مذمت میں تبدیل کرنے کی کوشش کی۔ انھوں نے توجہ دلائی کہ ٹرمپ نے وفاقی ٹیکسوں کی مد میں سکول کے اساتذہ سے بھی کم ادائیگی کی ہے۔ یہ پیغام صدر ٹرمپ پر نہایت طاقتور حملہ ہو سکتا تھا تاہم یہ صدر کے ساتھ لفظی گرما گرمی میں کہیں دب کر رہ گیا۔

اگر ٹرمپ کے ٹیکس گوشوارے اس انتخابی مقابلے میں مسئلہ بنتے بھی ہیں تو یہ کم از کم اس مباحثے کی وجہ سے نہیں ہوگا۔

میں ڈیموکریٹک پارٹی ہوں، برنی نہیں

اس بحث اور پوری انتخابی مہم کے دوران صدرٹرمپ کے مقاصد میں سے سے ایک یہ رہا ہے کہ وہ بائیڈن کو اُن کی جماعت کے بائیں بازو سے منسلک قرار دیں۔ صدر ٹرمپ کے ساتھ لفظی حملوں کے پہلے ہی تبادلے میں جو بائیڈن نے اپنا دفاع پیش کیا۔

آج کے مباحثے کا ابتدائی موضوع سپریم کورٹ تھا مگر بائیڈن نے بحث کا رخ افورڈیبل کیئر ایکٹ (اوبامہ کیئر) کی جانب موڑنے کی کوشش کی جسے ہائی کورٹ میں زیرِ سماعت ایک مقدمے کی وجہ سے خطرے کا سامنا ہے۔

ٹرمپ نے بائیڈن پر ’سوشلائزڈ میڈیسن‘ کی حمایت کا الزام عائد کرنے کی کوشش کی اور الزام دیا کہ وہ نجی انشورنس کمپنیوں کو ختم کرنا چاہتے ہیں، جس پر ڈیموکریٹ امیدوار نے کہا کہ یہ ان کے منصوبے میں شامل نہیں ہے اور وہ ڈیموکریٹک پارٹی کے نامزد کردہ امیدوار ہیں۔

انھوں نے کہا: ’اس وقت میں ڈیموکریٹک پارٹی ہوں۔ ڈیموکریٹک پارٹی کا پلیٹ فارم وہی ہوگا جس کی منظوری میں دوں گا۔‘

ڈونلڈ ٹرمپ، جو بائیڈن

اس کا نتیجہ اچھا نہیں ہوگا

اس بحث کا اختتامی حصہ انتخابی تحفظ اور خدشات پر تھا جس کا اظہار دائیں اور بائیں دونوں جانب سے کیا جاتا رہا ہے کہ انتخابات آزادانہ اور منصفانہ نہیں ہوں گے۔

ٹرمپ نے اس بحث کے دوران متعدد واقعات کا حوالہ دیا جو ان کے مطابق اس بات کا ثبوت ہیں کہ پوسٹل بیلٹ کا نظام زبردست بدعنوانی اور نااہلی کا شکار ہے۔

واضح رہے کہ رواں سال بھی لاکھوں امریکی ڈاک کے ذریعے ووٹ ڈالیں گے۔

ایک موقع پر ٹرمپ نے کہا: ’اس کا نتیجہ اچھا نہیں ہو گا۔‘ یہ وہ خدشہ ہے جو سیاسی کھیل کے دونوں ہی فریقوں کو لاحق ہے تاہم ان کی اس بارے میں وجوہات مختلف ہو سکتی ہیں۔

اپنی جانب سے بائیڈن نے اچھا نظر آنے کی کوشش کی۔ انھوں نے تمام پوسٹل بیلٹس کی گنتی کا مطالبہ کرتے ہوئے وعدہ کیا کہ فاتح کا اعلان ہونے پر وہ نتائج کا احترام کریں گے۔ بظاہر وہ اختتامیے میں مزید چند باتیں کہنا چاہتے تھے مگر ٹرمپ نے انھیں ایک مرتبہ پھر ٹوک دیا اور پھر والیس نے اعلان کیا کہ مباحثہ ختم ہو چکا ہے۔

یوں ایک ہنگامہ خیز شام اپنے اچانک اختتام کو پہنچی۔ اگر مباحثے کے روایتی معانی کو زیرِ غور رکھا جائے تو یہ ایونٹ بمشکل ہی مباحثہ کہلا سکتی ہے۔

اس طرح کے ایونٹس شاید ہی کبھی انتخابات کا رخ کسی جانب موڑنے میں کامیاب ہوتے ہوں اور بالخصوص یہ مباحثہ اتنی بدنظمی کا شکار تھا کہ شاید ہی کسی کا ذہن تبدیل ہوا ہو۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.