Daily Mashriq Quetta Urdu news, Latest Videos Urdu News Pakistan updates, Urdu, blogs, weather Balochistan News, technology news, business news

سیاسی آلودگی کیسے دور ہوگی? (آخری حصہ) : راحت ملک

0

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

کیا برادر سلیم صافی کی دلیل واجہ نواز شریف کی تقریر کے برعکس کا منظرنامہ پیش کرتی ہے؟ مقتدر حلقوں کے ساتھ صحیح انداز میں ڈیل کا مطلب و معیار کیا ہونا چاہیے اس کی وضاحت برادر عزیز سلیم صافی ہی کر سکتے ہیں؟ تاہم واجہ نواز شریف کی تینوں بار اقتدار سے رخصتی کی وجوہات کاراز آشکار ہو رہا ہے کہ موصوف نے مقتدر حلقے کو کیسے اور کس آئینی بنیاد پر ناراض کیا؟ کیاوہ دفاعی پالیسی کے خدوخال میں تبدیلی چاہتے تھے جس پر طاقتور حلقے ناراض ہوئے؟ اگر وزیراعظم ایسا بھی چاھتے تھے تو یہ ان کا قانونی استحقاق تھا کہ وہ جو پالیسی مرتب کریں تمام ملکی محکمے اسے من و عن تسلیم کریں، عمل کریں۔ منتحب حکومت یا نواز شریف مملکت پاکستان کو مضبوط مستحکم اور خطرات سے آزاد و محفوظ رکھتے ہوئے اگر اس عظیم مقصد کے لئے نیشنل سیکورٹی اور دفاع کے خدوخال میں تبدیلی کی ضرورت پر اعتماد رکھتے تھے تو اس میں برائی کیا تھی؟ پرامن تنازعات سے پاک خطہ اور ہمسائیگی ۔۔۔ آبرومندانہ سطح پر ایک مناسب پالیسی ہو سکتی ہے، اسے بروے کار لانے سے پاکستان میں سماجی معاشی شعبے میں ترقی واستحکام ملک کے دفاع کو ناگزیر طور پر محفوظ بنتا ہے۔ اگر عسکری حلقوں کو اس پالیسی پر خفگی تھی تو یہ مزید ناقابل قبول بات ہوگی۔ وجہ نزاع اس کے علاوہ کوٰئی بات تھی اسے سامنے لانا ضروری ہے۔

2018  کے تجرباتی بندوبست کے بارے میں برادر سلیم صافی کہتے ہیں، ”حکومت ناتجربہ کار اورمسخروں کا مجموعہ ’جبکہ اپوزیشن بزدلوں اور مصلحت پسندوں کا ٹولہ۔ یہی وجہ ہے کہ دوسال میں پاکستان کا وہ حشر ہوگیا ہے کہ جس کی مثال نہیں ملتی۔“

 

اقتباس  بالا میں تسلیم کیا گیا ہے کہ ”دوسال میں ملک کا حشر برا ہو گیا ہے“ گویا یہ مسلمہ ہے کہ اس حکومت سے قبل ملک بہتر صورتحال میں تھا۔ دوسری بات یہ ہے کہ ذرائع ابلاغ اگر اپوزیشن کو بزدل اور مصلحت پسند قرار دے رہے ہیں تو سیاسی تجزیہ کار سے سوال ہوگا کہ صحافی اور ذرائع ابلاغ اپوزیشن جماعتوں سے کس قسم کے بہادرانہ اور غیر مصلحت پسند رویے کی توقع کرتے ہیں؟ کیا اے پی سی کے اعلامیہ اور واجہ نواز شریف کے تاریخی ریکارڈ پر مبنی موقف نے مصلحت کوشی کی ساری کشتیاں جلا نہیں دیں؟ پھر ذرائع ابلاغ اس اے پی سی کے مطالبات اور تقریروں کو ہدفٍ تنقید کیوں بنارہے ہیں؟ کیا وہ آگے بڑھنے کے خواہش کے ساتھ مفاہمت زدہ انحطاط پسندی کے بھی متمنی ہیں؟ اے پی سی اجلاس میں واجہ نواز شریف کی تقریر کے دوران مجھے قائد جمہوریت میر حاصل خان بزنجو رہ رہ کر یاد آئے۔ سینیٹ کے اجلاس میں تحریک عدم اعتماد کی ناکامی کے بعد ان کی تقریر ہم سب کو یاد ہے۔ اگر اے پی سی کے اجلاس تک زندگی میر حاصل کے ساتھ وفا کرتی تو واجہ نواز شریف کی تقریر سے زیادہ زور دار شفاب اور دلیرانہ موقف میر حاصل بزنجو پیش کرتے۔

میر حاصل خان بزنجو کی تقریر کے بعد غیر مبہم طور پر انہیں پیام مل گیا تھا کہ آنے والے انتخابات میں ان کی جماعت کو ایک نشست بھی نہیں ملے گی اور پھر ایسا ہی ہوا۔ یہ نقطہ واجہ نواز شریف اور اے پی سی کی آگہی کے لیے عرض کیا کیونکہ پی ڈی ایم کے 26 نکاتی مطالبات اور بیانیے کے بعد اگر پی ڈی ایم نے اپنی تنظیم اور ساخت سے صرف نظر کیا تو اسے بہت نقصان ہو سکتا ہے۔ درست جاندار اور غیرمصلحت پسند موقف اختیار کرنے کے بعد تمام جماعتوں کو اپنی صفوں میں اس موقف سے مربوط تنظیم مضبوط کرنی ہوگی موسمی پرندے ہوا کے رخ پر پرواز کریں گے لہٰذا سب اراکین اسمبلی سے استعفیٰ بھی حاصل کرلئے جائیں۔

اپوزیشن اتحاد نے اپنے مقاصد اور طریقہ کار کے اہم نکات عوام کے سامنے رکھ دیے ہیں۔ اختیار واقتدار والے اس کے مقابل کیا کیا تدابیر اپنائیں گے یہ سب مخفی ہے لیکن دیوار کے عقب سے کیا کچھ برامد ہو سکتا ہے اسے ہر صاحب بصیرت جانتا ہے۔ تاریخی روایت کے تناظر میں سیاسی مخالفین میں بزور طاقت نقب زنی کے خدشات موجود ہیں بلکہ ان پر عمل شروع ہوچکا ہے وہی روایتی راگ الاپ کر اے پی سی کو بھارت کا ایجنٹ قرار دے کر موقع پرست افراد کو حکومت کے سایہ عافیت میں پناہ دی جائے گی۔ حکومت نے قومی سیاسی محاذ کو بھارت کا ایجنٹ قرار دے کر سیاست میں دہائیوں فرسودہ حربہ آزمانے کا آغاز کرکے اپنی جمہوری ساکھ کی ہنڈیاپھوڑدی ہے۔

واجہ میاں نواز شریف اپنی سیاسی وراثت بیٹی کو منتقل کر رہے ہیں یہ سیاسی وراثت مزاحمتی سیاست کے ذریعے محفوظ رہے گی تو منتقل ہوگی۔ یہی بات واجہ بلاول بھٹو زرداری کے متعلق کہی جا سکتی ہے سیاست میں غیر سیاسی مداخلت نے اسے اتنا آلودہ کر دیا ہے کہ مزاحمت کے بغیر اسے صاف بنانا ناممکن ہوچکا ہے۔ قومی سیاسی اتحاد کا یہی مقصد قبول ہو گا۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.