Daily Mashriq Quetta Urdu news, Latest Videos Urdu News Pakistan updates, Urdu, blogs, weather Balochistan News, technology news, business news

٭عبداللہ عبداللہ، امن کا نقیب؟ : اکرام سہگل

0

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

 

 

افغانستان میں گزشتہ دو دہائیوں میںامریکی عسکری اخراجات کا تخمینہ 822 بلین ہے۔اس میں امریکی ڈیفنس ڈیپارٹمنٹ، اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ اور دیگر ایجنسیاں بھی شامل جانیں۔ گویاحقیقی رقم اس سے زیادہ ہے۔ انسانی جانوں کا بھی ضایع ہوا۔2300امریکی فوجہ ہلاک، جب کہ 20660 زخمی ہوئے۔ ان میں وہ شامل نہیں، جواس طویل جنگ کے بعد دوبارہ سماج کا حصہ بننے سے قاصر رہے۔اشرف غنی کے بیان کے مطابق جب سے انھوں نے صدارت سنبھالی ہے، افغان سیکیورٹی فورسز کے 45 ہزار ارکان ، جب کہ ایک لاکھ سویلین قتل ہوچکے ہیں۔ اس تعداد میں طالبان کے دستوںمیں ہونے والی ہلاکتیں شامل نہیں۔

افغان بادشاہ ظاہر شاہ کے بعد جب داﺅد شاہ نے مسند اقتدار سنبھالی اور 1973میں افغانستان کے اولین صدر ہونے کا اعلان کیا، تب سے پاکستان اور افغانستان کے تعلقات میں ایک تناﺅ ہے۔ اسی تناﺅ کو کم کرنے کے لیے ذوالفقار علی بھٹو نے اپنے دور صدارت میں کمانڈر IGFC بریگیڈیئر(بعد ازاں میجر جنرل) این کے بابر کو ذمے داری سونپی۔1974 میں میرے بچپن کے قریبی دوستوں میں سے ایک میجر(بعد ازاں لیفٹنٹ کرنل) سلمان احمدنے دو پاکستانی کیمپس میں افغان طلبا کو تربیت دی۔ ان میں احمد شاہ مسعود بھی شامل تھے۔

سلمان کے ساتھ قندھار ریجن میں شیر محمد عباس ستانکزئی بھی موجود تھے، جو اِس وقت دوحہ میں جاری امن مذاکرات میں طالبان کی سیاسی قیادت کر رہے ہیں۔80 کی دہائی میں مجاہدین میں شامل ہونے کے بعد وہ ملٹری کمیٹی کا حصہ بنے، جسے سلمان نے(جن کاcodename کرنل فیضان تھا) تشکیل دیا تھا۔

چاہے 1971 کامشرقی پاکستان ہو یا سوویت حملے کے دورکا افغانستان ،یہ طے شدہ ہے کہ کسی اور افسر کے مقابلے میں میجر سلمان نے مختلف محاذوں پرزیادہ اور بڑی جنگیں لڑیں۔ اُن کا کہنا ہے کہ افغان وار کے دوران شیر محمد عباس ستانکزئی کا ان کے ساتھ زیادہ وقت گزرا۔Sandy Gall کی بی بی سی کی مشہور زمانہ ڈاکومنٹری “Allah Against the Gunships”میں بھی سلمان کی شمولیت رہی۔

کبھی جو خواب لگاکرتا تھا، اب وہ امن قریب ہے۔ فروری2020 میں امریکا اور طالبان کے درمیان امن معاہدہ طے پاگیا، ،موجودہ حکومت کے ساتھ افغان امن کے قیام کے لیے ڈیکلیریشن بھی سائن کر لیا گیا۔ معاہدے کا ڈھانچہ اپنی جگہ، مگر یہ تسلیم شدہ ہے کہ پاکستان کے بغیر اس امن معاہدے تک پہنچ پانا ناممکن تھا۔ پاکستان بھی افغان وار سے اپنا سبق سیکھ چکا ہے۔

ماضی میںعسکری اور سیاسی قیادت کی جانب سے طاقت کے توازن کو تبدیل کرنے کی دوڑ میں پشتون گھڑسواروں پر پیسے اور محنت صرف کرنا ملک کے لیے سودمند ثابت نہیں ہوا۔ افغان پناہ گزینوں کا بوجھ ہماری معیشت پر بوجھ ہے۔افغان وار کے نتیجے میں پاکستان میں عسکریت پسندی اور اسلحہ بڑھا۔افغان تحریک کے بعد پاکستانی مدارس میں، بیرونی فنڈنگ سے ،جہادی فکر کو فروغ دیا گیا، جس کے نتیجے میں پاکستانی طالبان کا ظہور ہوا۔

پس ماندہ قبائلی علاقوں میں پائے جانے والے خطرے کا ادراک کرنے کے بجائے پاکستانی اداروں نے تحریک طالبان کے پشتون اجزا پر اعتماد برقرار رکھا۔ یوں افغان معاشرے کے تاجک اور ازبک عناصر ہم سے دورہوگئے۔

1990 میں پاکستانی اداروں کی جانب سے گلبدین حکمت یار کواس جنگ میں بھیجنے سے حالات مزید سنگین ہوگئے۔ افغان صوبے پکتیا سے تعلق رکھنے والے حکمت یار کی شہرت ایک سخت گیر اور خودغرض انسان کی تھی۔حکمت یار نے احمد شاہ مسعود کو الگ تھلگ کر دیا۔ جنگ کی نئی صف بندی ہوئی۔سوویت افغان جنگ کے بعد کی صورت حال میں اپنی پوزیشن مستحکم کرنے کے لیے حکمت یار نے مخالفین پرتواتر سے حملے کیے۔ یہ رقابت پرانی تھی، جس میں 1976 میں پاکستان میں احمد شاہ کی، جاسوسی کے الزامات کے تحت، گرفتاری کے انتظامات کرنا بھی شامل تھا۔ ایک بار یوں بھی ہوا کہ وادی پنجشیر میں حکمت یار اور مسعود نے مشترکہ آپریشن کی تیاری کی ، مگر حکمت یار نے آخر لمحے میں پیچھے ہٹ کر مسعود کو ایک بڑی مشکل میں ڈال دیا، جو اپنی فورسز کے ساتھ بمشکل وہاں سے جان بچا کر نکلا۔

بھارت ایک ایسا ملک ہے، جس پر افغان اعتبار کرنے کوتیار نہیں۔ بھارت کی بی جے پی سرکار کی مسلم کش پالیسیاں عیاں ہیںاور وہاں بسنے والے مسلمانوں کی اکثریت کے اجداد تعلق افغانستان ہی سے ہے۔ افغانستان نے بھارت کو محض کسی اور کے خرچ پر لڑی جانے والی پراکسی وار کے پلیٹ فورم کے طور پر استعمال کیا۔ پہلے سوویت یونین اور بعد ازاں امریکی خرچ پر لڑی جانے والے جنگوں میں افغانستان کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا۔

پشتون تاجک اختلافات کا آغاز 1929میں ہوا۔تاجکوں کے قائد حبیب اللہ کلکانی کوبادشاہ گر اور افغان تخت کی اصل طاقت تصور کیا جاتا تھا۔حبیب اللہ کلکانی نے مغربی تصورات کے بے دریغ فروغ کا الزام عاید کرتے ہوئے افغان بادشاہ ،امان اللہ خان کا تختہ الٹ دیا ۔بادشاہ سے اختلافات کی وجہ سے کمانڈر ان چیف، نادر شاہ نے جلا وطنی اختیار کر رکھی تھی۔البتہ اس واقعے کے بعد نادر شاہ نے پاکستان سے ملحقہ سرحدی علاقے میں محسود اور وزیری لشکر منظم کرکے حبیب اللہ کی فوج کو شکست دی۔ کلکانی اور اس کے خاندان کے کئی افراد کوہلاک کر دیا گیا۔ بد قسمتی سے بعد میں اس لشکر نے تاجک علاقے میں خاصی لوٹ مار کی اور کئی مظالم ڈھائے ۔ یوں افغان اور تاجک تنازعے کا جنم ہوا، جو اگلے سو سال جاری رہنے والا تھا۔ البتہ وقت بہترین مرہم ہے اور اس کے لیے موزوں ترین شخص عبداللہ عبداللہ ہیں، جن کی رگوں میںپشتون باپ اور تاجک ماں کا خون دوڑتا ہے۔

90 کی دہائی میں ہماری غیردانش مندانہ افغان پالیسی کی وجہ سے امریکا کو ہمارے ہوائی اڈے، بندرگاہیں ، سڑکیں اور دیگر سہولیا ت استعمال کرنے کی اجازت مل گئی، جس سے پاکستان کی معیشت اور افرادی قوت کو نقصان پہنچا ۔ اسی پالیسی نے طالبان کو پاکستان سے دور کر دیا۔ پاکستان اب بھی اس ناکام پالیسی کا بوجھ اٹھا رہاہے۔البتہ اب بھی پاکستان کا اتنا اثر ہے کہ وہ افغانستان کے مختلف دھڑوں کو مذاکرات کی میز پر لا سکتا ہے۔ ایک ہفتے قبل غنی سرکار اور طالبان کے درمیان ہونے والے مذاکرات کی پہلی ہی میٹنگ کے بعد یہ بات پھر واضح ہوگئی کہ دونوں فریقین میں اتفاق کے معاملے میں کچھ شہبات موجود ہیں۔طالبان کی جانب سے افغان سیکیورٹی فورسز پر حملے ان اختلافات کی سمت اشارہ ہیں۔ مزید پریشانی کی بات یہ ہے کہ طالبان مخالف گروہ بھی منقسم ہے۔

افغانستان میں ہونے والے دونوں انتخابات میں غنی اور عبداللہ عبداللہ کے درمیان کانٹے کا مقابلہ رہا۔ خیال رہے کہ اشرف غنی دسمبر 2001 میں چوبیس سال بعد، یواین اور ورلڈ بینک میں اپنی ملازمت چھوڑ کرافغانستان لوٹے تھے۔وہ صدر،حامد کرزئی کے چیف ایڈوائز کے عہدے پر فائز ہوئے ۔دوسری جانب عبداللہ عبداللہ ناردرن الائنس کے سینئر رکن تھے اور 2001 سے پہلے احمد شاہ مسعودکے مشیر رہے۔ پانچ برس وزیر خارجہ کا منصب سنبھالنے کے بعد وہ حامد کرزئی سے الگ ہوئے۔ انھوں نے دو بار اشرف غنی کے خلاف صدارتی الیکشن لڑا۔دونوں ہی موقعوں پر مقابلہ انتہائی قریبی رہا۔ انتخابات اور ووٹوں کی گنتی پر تحفظات کے بنیاد پر انھوں نے نتائج کو رد کرتے ہوئے اپنے طو رپر صدر کا حلف اٹھا لیا تھا۔

2007 سے 2012کے دوران معتبر امریکی تھنک ٹینک ”ایس ویسٹ انسٹی ٹیوٹ “(EWI)کی جانب سے “Afghanistan Re-Connected” کے عنوان سے مذاکروں کا سلسلہ شروع ہوا۔ مجھے برسلز اور برلن کے لیے EWIکا ڈائریکٹر نامزد کیا گیا۔ وہاں مجھے غنی اور عبداللہ عبداللہ سے طویل مکالمے کا موقع ملا۔ دونو ںہی صاحبان کی افغان اور بین الاقوامی ایشوز پر شان دار گرفت ہے۔ البتہ میں نے عبداللہ عبداللہ کو ہمیشہ معتدل، متوازن اور سہل پایا۔

یہ اتفاق ہی تھا کہ برلن سے دبئی لوٹتے ہوئے عبداللہ عبداللہ میری ساتھ والی نشست پر برا جمان تھے۔ میں نے ان سے پوچھا،’ آپ نے پاکستان کے ساتھ تعمیری تعلقات استوار کیوں نہیں کیے؟‘ ان کے جواب نے مجھے چونکا دیا۔ ان کا کہنا تھا،’ اگر ہم چاہیں بھی، تو کیاپاکستان ہم سے بات کرے گا؟‘جب میں نے پاکستان میں طاقت کے مراکز سے رابطہ کیا، اس پیغام کے ساتھ کہ عبداللہ عبداللہ دیگر افغانوں کے برعکس زیادہ عملی ہے، گو اسے چند شکایات ہیں، تو مجھے خاموش رہنے کی ہدایت کر دی گئی۔

امن مذاکرات کے ابتدائی متنازع دنوں کے بعد اب عبداللہ عبداللہ پاکستان کے دورے پرآئے ہیں۔ ایک نوجوان ڈاکٹر کی حیثیت سے انھوں نے 85ءمیں کچھ عرصے یہاں کام کیا تھا۔ اس دورے سے ہمیں اپنی سابق افغان پالیسی پر نظر ثانی کرنے اوراسے بہتر بنانے کا نادر موقع ملتا ہے ۔پاکستان ایک پرامن افغانستان کا خواہش مند ہے۔ افغانستان ہمارا پڑوسی ہے اور یہ حقیقت کبھی تبدیل نہیں ہوسکتی۔ روس اور وسطی ایشیا کے درمیان مرکزی لنک کی حیثیت کا حامل افغانستان اس خطے میں پانی اور توانائی کی پالیسی میں کلیدی حیثیت کا حامل ہے ۔ سی پیک اور اس کی ایرانی توسیع افغانستان کو اہم شاہ راہ بنا دیتی ہے۔ اگر افغانستان میں امن ہوگیا، تو دو ملین افغان پناہ گزین بھی واپس لوٹ جائیں گے، جس سے پاکستانی معیشت پر بوجھ کم ہوگا۔

افغان امریکا امن معاہدے کے نتیجے میں امریکی فوج کا افغانستان سے انخلا صدر ٹرمپ کی ‘America first’پالیسی کا تسلسل ہے ۔امریکی فوج اس سے خوش نہیں۔ وہ کچھ دستے پیچھے چھوڑنا چاہیے گی۔ امکان ہے کہ امریکی انخلا کے بعد بھی لڑائی جاری رہے۔ایسے میں کوئی نہیں چاہے گاکہ افغانستان کا موجودہ حکومتی ڈھانچہ ڈھے جائے اور ایک خلا پیدا ہوجائے۔ اس لیے امریکی فوج کے چند دستوں کی موجودگی ضروری ہے۔ اشرف غنی عبداللہ عبداللہ کے مقابلے میں امریکیوں کے لیے زیادہ موزوں ثابت ہوئے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ ووٹوں کی گنتی ان کے حق میں گئی۔ البتہ غنی کے مقابلے میں عبداللہ عبداللہ کی زمین میں جڑیں زیادہ گہری ہیں۔ اول الذکر آج نہیں تو کل، امریکا لوٹ جائیں گے۔ ایک آزاد حکومت ہی افغانستان اور خطے کے لیے موزوں ہے۔

ایک باہم مربوط دنیا میں امن مذاکرات، جنھیں بھارت ہر صورت سبوتاژ کرنے کے درپے ہوگا، نہ صرف ہمارے، بلکہ پورے خطے کے مفاد میں ہیں۔ دفتر خارجہ اورآئی ایس آئی اس انتہائی اہم اقدام کے لیے تعریف کے مستحق ہیں۔ ہم امن کے ممکنہ نقیب کے طور پر عبداللہ عبداللہ کو پاکستان میں خوش آمدید کہتے ہیں۔

(فاضل کالم نگار سیکیورٹی اور دفاعی امور کے تجزیہ کار ہیں)

 

 

 

 

Leave A Reply

Your email address will not be published.