Daily Mashriq Quetta Urdu news, Latest Videos Urdu News Pakistan updates, Urdu, blogs, weather Balochistan News, technology news, business news

عبدالمجیدخان اچکزئی کی بریت اور معاندانہ رویہ : جلال نورزئی

0

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

ملک کے اندر پکڑ دھکڑ ،قید و بند کی انتقامی سیاست نے اقدار، روایات اور شائستگی کو پامال کر رکھا ہے۔ پیپلز پارٹی کی جانب سے کُل جماعتی کانفرنس کے معاً بعد جمعیت علماءاسلام کے قائد مو لانا فضل الرحمن معتوب ٹھہرائے گئے۔اس سے قبل مسلم لیگ نواز کے رہنماءرانا ثناءاللہ کو بھی منشیات لیجانے کے الزام میں گرفتار کیا گیا۔ یہاں کوئٹہ میں پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے صوبائی ڈپٹی سیکریٹری عبدالمجید اچکزئی کا معاملہ بھی غور طلب ہے ۔20جون2017ءکو زرغون روڈ پر پیش آنے والے ایک حادثے میں ٹریفک سارجنٹ عطاءاللہ جاں بحق ہوگئے تھے۔ مجید خان اچکزئی فوری حراست میں نہ لئے گئے۔ سوشل میڈیا پرایک مہم چلی جس پر پروپیگنڈے کا عنصر غالب رہا تب نجی ٹی وی چینلز پر کوئٹہ کی بجائے ہیڈ آفسز سے سی سی ٹی وی فوٹیج بار بار چلی جس کے بعد نیم شب پولیس اور ایف سی مجید اچکزئی کی رہائشگاہ گئی، گرفتاری عمل میں لائی گئی۔ تاثر ان کی روپوشی کا پھیلایا گیا ۔ تب مجید اچکزئی بلوچستان اسمبلی کے ممبر اور پبلک اکاﺅنٹس کمیٹی کے چیئر مین تھے۔ ان کی جماعت پشتونخوا ملی عوامی پارٹی مخلوط حکومت میں شامل تھی۔در حقیقت وہ پولیس کے اعلیٰ حکام کواس روز ہی مطلع کر چکے تھے ، کہ جب بھی انہیں تھانہ طلب کر نے کی ضرورت پڑی تو وہ خود پہنچ جائیں گے۔مگراس کی نوبت آنے سے قبل ہی پولیس ان کے گھر پہنچ گئی اور بتایا گیا کہ مجید اچکزئی چھاپے کے دوران حراست میں لیے گئے۔لے جاتے ہوئے ان کی ویڈیو بنائی گئی اور سوشل میڈیا پر پھیلائی گئی۔ مجید اچکزئی پر قتل، دہشتگردی اور دوسری دفعات قائم کردی گئیں۔ یوں وہ چھ ماہ جیل میں قید رہے، ما بعد ضمانت پر رہا ہوئے۔ چناں چہ 4ستمبر2020کو کوئٹہ کی ماڈل کریمنل کورٹ سے انہیں عدم ثبوت کی بنیاد پر مقدمے میں بری کردیاگیا۔ عدالت کا فیصلہ آنے کے بعد ہی سماجی رابطے کی ویب سائٹس اور قومی ذرائع ابلاغ پر شور اُٹھا۔ ظالم اور مظلوم کا بیانیہ پیش ہونے لگا۔ مرحوم سارجنٹ عطاءاللہ کے بیٹے اور خاندان کے دوسرے افراد ٹاک شوز میں بٹھائے گئے۔منظر نامہ پہلے کی مانند اب بھی حادثہ کی بجائے دانستہ قتل کا پیش ہوا ۔ دراصل معروضی حقیقت سے سب ہی آگاہ ہیں کہ یہ سڑک حادثہ تھا ،نہ کہ ارادی قتل ۔ لواحقین پہلے گمراہ کن طور عدم تحفظ اور جان کو درپیش خطرات کا واویلا کرتے ر ہے ۔ گویا سب سوچی سمجھی اسکیم کے تحت بلوایا جاتا تھا۔ بریت کے بعد بلوچستان حکومت کے ترجمان لیاقت شاہوانی کو پتا نہیں کیا سوجھی کہ اُس نے بھی اعلان کیا کہ حکومت بریت کے خلاف عدالت سے رجوع کرے گی۔ سچ یہ ہے کہ مرحوم عطاءاللہ کے خاندان کو کسی نے دھمکی دی ناہی زور زبردستی والا معاملہ کیا گیا ۔بلکہ مجید اچکزئی کے خاندان کے افراد نے حادثہ کے بعد مرحوم عطاءاللہ کے خاندان سے میت آبائی علاقے ڈیرہ غازی خان منتقل کرنے میں تعاون کیا ، مابعدتعزیت کے لیے گئے۔ رسم و رواج کے تحت ان سے روابط بھی رکھے گئے۔ قبائلی عمائدین جرگہ لے کران کے گھر گئے تھے۔ اور مسئلہ کافی حد تک حل بھی ہوگیا تھا ۔بعد ازاں نادیدہ افراد نے تصفیہ میں خلل پیدا کیا۔چناں چہ اب بلوچستان پولیس نے بریت کا فیصلہ عدالت عالیہ بلوچستان میں چیلنج کردیالگ یہ رہا ہے کہ یہ ایک انتقامی عمل ہے جس میں مرحوم عطاءاللہ کے خاندان کو دھکیلنے کی کوشش ہورہی ہے۔ وگرنہ حادثات تو ہوتے رہتے ہیں ۔خود نیشنل ہائی ویز پولیس کے مطابق محض بلوچستان کی قومی شاہراہوں پر ٹریفک حادثات میں سالانہ چھ ہزار افرادجاں بحق ہوتے ہیں۔ تو کیا ان حادثات میں بھی لوگوں پر ارادی قتل اور دہشتگردی کے مقدمات قائم کئے جاتے ہیں ؟ ۔لہذا یہاں بھی مقدمہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کے تناظر میں دیکھنا چاہیے تھا ۔اگر پولیس کہتی ہے کہ یہ واقعہ دانستہ قتل کا ہے، تو پولیس کی اپنی کارکردگی پر بھی سوال اُٹھتے ہیں۔ جس نے تفتیش میں موٹی موٹی غلطیاں کیں۔یہاں تک ملزم کی شناخت پریڈ تک نہ کرائی گئی۔ مقدمہ پہلے نامعلوم افراد کے خلاف درج کیا ۔ کئی دنوں بعد جب معاملہ میڈیا پر اُٹھا تو مجید اچکزئی نامزد کرلیے گئے ۔ اور پھر دہشتگردی کی دفعات لگا ئی گئیں ۔ لہٰذا کوئی اپنے سیاسی انتقام میں مرحوم عطاءاللہ کے بیٹوں اور خاندان کو استعمال نہ کریں۔ نہ ہی نفرتوں کو دوام دینے کی مزید کوشش کریں۔ یہاں پہلے ہی نفرتیں موجود ہیں۔ صوبے کے مقامی نوجوان کہتے ہیں کہ دوسرے صوبوں کے لوگ ملازمتوں میں ان کا حق مار رہے ہیں ۔ یہاں تک کہ عدالتوں میں جعلی ڈومیسائل کے خلاف درخواستیں لگی ہوئی ہیں۔ شنید ہے کہ بلوچستان حکومت مرحوم عطاءاللہ کے بیٹے کو ملازمت اور پلاٹ دے چکی ہے۔جس میں مجید اچکزئی کا تعاون بھی شامل ہے ۔ اورمقدمے میں دہشتگردی کی دفعہ لگنے کی وجہ سے دہشتگردی کے متاثرین کی امداد کے لیے بلوچستان حکومت کی رائج پالیسی کے مطابق لواحقین کو ستر لاکھ روپے امداد دی جا چکی ہے ۔ خود مجید اچکزئی کے خاندان نے مالی مدد اور تعاون سے ہنوز پہلو تہی نہ کی ہے۔ حیرت ہے کہ امریکی جاسوس ریمنڈ ڈیوس سرعام پاکستانی شہریوں کو گولیاں برسا کر قتل کرتا ہے ۔ اس کی بریت کے لئے سبھی متحرک ہوتے ہیں اور قصاص و دیت کے قانون کے تحت رہا کرایا جاتا ہے۔ جبکہ اپنے ملک کے شہری کو سڑک حادثہ کیس میں سیاسی انتقام کے بھینٹ چڑھانے کی سعی کی جاتی ہے جو یقینا بہت بڑا المیہ ہے ۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.