Daily Mashriq Quetta Urdu news, Latest Videos Urdu News Pakistan updates, Urdu, blogs, weather Balochistan News, technology news, business news

مہنگائی 49 سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، اگست میں 29 فیصد اضافہ

0

پاکستان ادارہ شماریات (پی بی ایس) کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق اگست میں صارف قیمت انڈیکس سے پیمائش کردہ مہنگائی سالانہ اعتبار سے 27.26 فیصد کی سطح تک جاپہنچی۔

گزشتہ ماہ سالانہ مہنگائی کی شرح 24.93 فیصد تھی جو کہ 14 سال کی بلند ترین سطح تھی جبکہ گزشتہ برس اگست میں مہنگائی 8.4 فیصد تھی۔

پی بی ایس کے ایک عہدیدار نے ڈان نیوز ڈاٹ ٹی وی کو بتایا کہ اگست کی 27.26 فیصد افراطِ زر ملکی تاریخ میں ریکارڈ کی گئی دوسری سب سے بلند ترین شرح ہے۔

پی بی ایس کے مطابق شہری اور دیہی علاقوں میں مہنگائی میں بالترتیب 26.24 فیصد اور 28.70 فیصد سالانہ اضافہ ہوا جبکہ ماہانہ اعتبار سے یہ اضافہ 2.45 فیصد رہا۔

مہنگائی میں سالانہ اضافے کی شرح:

  • ٹرانسپورٹ: 63.08 فیصد
  • خراب ہونے والی غذائی اشیا: 33.85 فیصد
  • نہ خراب ہونے والی اشیائے خوراک: 28.25 فیصد
  • ہاؤسنگ اور یوٹیلیٹیز: 27.57 فیصد
  • ریسٹورنٹ اور ہوٹلز: 27.43 فیصد
  • الکوحل والے مشروبات اور تمباکو: 25.78 فیصد
  • فرنشننگ اور گھریلو سامان کی مرمت: 21.86 فیصد
  • تفریح اور ثقافت: 21.78 فیصد
  • متفرق اشیا اور خدمات: 19.97 فیصد
  • کپڑے اور جوتے: 17.63 فیصد
  • صحت: 11.89 فیصد
  • تعلیم: 9.99 فیصد
  • مواصلات: 1.23 فیصد

پی بی ایس کے اعداد و شمار سے پتا چلتا ہے کہ بجلی کی قیمتوں میں سالانہ 123.37 فیصد تک اضافہ ہوا جبکہ گاڑیوں کا ایندھن 87.34 فیصد تک مہنگا ہوا۔

اس کے علاوہ گزشتہ سال کے اسی مہینے کے مقابلے میں کھانے پینے کی اشیا کی قیمتیں بھی آسمان کو چھو رہی ہیں، دال مسور اور پیاز کی قیمتوں میں بالترتیب 118.64 فیصد اور 96.70 فیصد تک اضافہ ہوا۔

خیال رہے کہ رواں سال تباہ کن مون سون سیلابوں نے پاکستان میں بڑے پیمانے پر تباہی مچائی ہے اور خور و نوش کی بہت سی اشیا غریبوں کی پہنچ سے دور ہوگئی ہیں۔

سیلاب سے ملک کا ایک تہائی حصہ ڈوب گیا ہے، جس کے نتیجے میں 11 سو سے زائد افراد جاں بحق جبکہ 3 کروڑ 30 لاکھ سے زیادہ متاثر ہوئے۔

ملک میں جون میں شروع ہونے والی مون سون بارشوں کی غیر معمولی شدت کو موسمیاتی تبدیلیوں کا شاخسانہ قرار دیا جارہا ہے، جس نے زرعی زمینوں اور فصلوں کے وسیع حصے کو بھی نقصان پہنچایا ہے۔

لاکھوں ایکڑ کھیتوں کی زمین اب بھی پانی میں ڈوبی ہوئی ہے جبکہ کچھ سڑکیں ناقابل رسائی ہیں جس کے باعث قیمتیں مزید بڑھنے کی توقع ہے۔

You might also like
Leave A Reply

Your email address will not be published.