Daily Mashriq Quetta Urdu news, Latest Videos Urdu News Pakistan updates, Urdu, blogs, weather Balochistan News, technology news, business news

بلوچستان میں سمگل شدہ ایرانی تیل کی بندش

0

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

بس دو سال قبل جب پورے پاکستان میں پیٹرول قریب 110 روپے فی لیٹر فروخت ہو رہا تھا تو اس وقت حاجی رحیم داد کے ہاں اس کی قیمت صرف 80 روپے فی لیٹر تھی۔

ایرانی سرحد سے ساڑھے چھ سو کلومیٹر کے فاصلے پر پاکستان میں صوبہ بلوچستان کے ضلع مستونگ میں وہ ایک منی پیٹرول پمپ کے مالک ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ یہ وہ وقت تھا جب پاکستانی حکام کی جانب سے سمگل شدہ ایرانی تیل پر بہت زیادہ رکاوٹیں نہیں تھیں۔ ’مستونگ میں ایرانی پیٹرول اور ڈیزل فی لیٹر 80 روپے تک فروخت ہو رہا تھا۔ لیکن اب یہ 114 سے 118 روپے میں فروخت ہو رہے ہیں۔‘

مستونگ، جو صوبائی دارالحکومت کوئٹہ سے صرف 50 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے، میں بہت سے لوگ میں حاجی رحیم داد کی طرح کئی دہائیوں سے اسی کاروبار سے منسلک ہیں۔

24 سالہ نذر محمد وسائل نہ ہونے کے باعث تعلیم مکمل نہیں کرسکے۔ سرکاری ملازمت کے لیے سر توڑ کوششوں کے باوجود جب مایوسی ہوئی تو اپنے خاندان کا معاشی سہارا بننے کے لیے انھوں نے مستونگ شہر میں ایرانی تیل فروخت کرنا شروع کیا لیکن گذشتہ چھ ماہ سے یہ کام بھی بُری طرح سے متاثر ہوا ہے۔

فون پر بی بی سی بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اب سرحد پر سختیاں بڑھ گئی ہیں۔ ’تیل کی آمد کا سلسلہ یا تو بند ہوا ہے یا اگر ملتا بھی ہے تو نہ ہونے کے برابر۔‘

ایرانی تیل، بلوچستان

ایران سے تیل کی آمد میں کمی سے نہ صرف نذر محمد بلکہ بلوچستان میں ایسے لاکھوں افراد متاثر ہو رہے ہیں جن کا بالواسطہ یا بلاواسطہ کاروبار ایرانی تیل سے وابستہ ہے۔

جہاں لوگوں کا روزگار متاثر ہوا ہے وہاں بلوچستان کے نصف سے زائد علاقوں میں تیل کے بحران کا بڑا خدشہ بھی پیدا ہو گیا ہے کیونکہ گذشتہ ڈیڑھ دو دہائیوں سے ان علاقوں میں پاکستانی تیل کمپنیوں کی جانب سے تیل فراہم کرنے کی کوئی سہولت موجود نہیں۔

عام لوگوں کی طرح بلوچستان کے وزیر اعلیٰ جام کمال خان نے بھی اس صورتحال پر پریشانی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ متبادل کے بغیر خود حکومتی مشینری کے لیے بھی مسائل پیدا ہوں گے۔

’ایرانی تیل بند ہوا تو بلوچستان میں بے روزگاری بڑھے گی‘

نذر محمد باقی بہن بھائیوں میں سب سے بڑے ہیں۔ جب انھیں کوئی اچھی نوکری نہ ملی تو انھوں نے والد کی جمع پونجی سے ایرانی تیل کی دکان قائم کر لی۔ گذشتہ تین سال کے دوران ان کا گزر بسر اسی کاروبار سے ہوتا رہا لیکن اب اس کا بھی کوئی مستقبل نہیں رہا۔

وہ کہتے ہیں کہ ’گذشتہ پانچ چھ ماہ سے ایرانی پیٹرول اور ڈیزل دونوں کی فراہمی نہ ہونے کے برابر رہ گئی ہے۔‘

نذر محمد کی طرح مستونگ ہی سے تعلق رکھنے والے 40 سالہ نبی بخش کے معاش کا انحصار بھی ایرانی تیل پر ہے۔

وہ پیشے کے لحاظ سے ڈرائیور ہیں اور تین چار سال پہلے تک وہ کسی اور کا ٹرک چلا رہے تھے۔ گھریلو مسائل کی وجہ سے جب گھر سے دور رہنا مشکل ہو گیا تو انھوں نے ایرانی تیل لانے کے لیے اپنی گاڑی خریدی۔

فون پر انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ ایران سے متصل بلوچستان کے ضلع چاغی کے علاقے نوکنڈی اور کبھی کبھار ضلع واشک سے تیل لا کر اپنے کنبے کی کفالت کرتے تھے۔

بلوچستان میں صنعتیں نہ ہونے کے برابر ہیں جبکہ موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے لوگوں کے معاش کے فطری ذرائع بھی متاثر ہوئے ہیں۔

جب گذشتہ سال حکومت بلوچستان کی جانب سے ایرانی تیل کی سمگلنگ پر سختی کی گئی تو بلوچستان بے روزگار ایسوسی ایشن کے چیئرمین شاہنواز بلوچ کی قیادت میں اس کے خلاف مستونگ کی جانب سے کوئٹہ کے لیے ایک لانگ مارچ کیا گیا۔

تاہم مذاکرات کے نتیجے میں لانگ مارچ کو راستے میں ہی ختم کیا گیا۔

بلوچستان، ایرانی تیل، سمگلنگ

شاہنواز نے کہا کہ صرف ضلع مستونگ میں ان کی تنظیم کے ساتھ 25 ہزار سے زائد ایسی گاڑیاں رجسٹرڈ ہیں جو کہ سرحدی علاقوں سے مستونگ تیل لاتی ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ مستونگ کے بعد یہ تیل کوئٹہ سے ژوب اور مستونگ سے جنوب میں قلات، سوراب، خضدار اور لسبیلہ تک جاتا تھا۔

انھوں نے کہا کہ ایک محتاط اندازے کے مطابق وہ یہ بتا سکتے ہیں کہ مستونگ اور یہاں سے جن علاقوں میں ایرانی تیل جاتا تھا اس کی بندش سے ان علاقوں میں ڈیڑھ سے دو لاکھ افراد کا معاش اور روزگار متاثر ہوا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر ایرانی تیل بند ہوا تو بلوچستان میں بے روزگاری کا مسئلہ مزید سنگین ہو جائے گا۔ بلوچستان کے ایران سے پانچ اضلاع کی سرحدیں ملتی ہیں جن میں چاغی، واشک، پنجگور، کیچ اور گوادر شامل ہیں۔

پنجگور میں تیل کے کاروبار سے وابستہ انیس احمد بلوچ نے بتایا کہ ان علاقوں کا ایندھن کے لیے ’سو فیصد انحصار ایرانی تیل پر ہے کیونکہ گوادر یا کیچ میں پاکستان سٹیٹ آئل کے ایک دو سٹیشنز کے علاوہ کوئی اور پمپ نہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ ان علاقوں میں گذشتہ چند سال سے نہیں بلکہ ڈیڑھ دو دہائیوں سے پاکستانی کمپنیوں کی جانب سے تیل فراہم کرنے کی کوئی سہولت نہیں۔

‘پنجگور اور واشک کے علاقے ناگ میں ہمارے اپنے پی ایس او کے دو پمپ تھے لیکن پندرہ، بیس سال میں ان کو کمپنی کی جانب سے تیل فراہم نہیں کیا گیا۔’

انیس احمد کا کہنا تھا کہ نہ صرف ان سرحدی اضلاع میں لوگوں کا تیل کے لیے انحصار ایران پر ہے بلکہ بہت ساری اشیائے خورد و نوش بھی وہاں سے آتی ہیں۔

‘ان علاقوں میں نہ کوئی کارخانہ لگایا گیا ہے اور نہ ہی معاش اور روزگار کے دوسرے ذرائع ہیں۔ اس لیے لوگوں کے روزگار اور معاش کا انحصار بھی ایرانی اشیا بالخصوص ایرانی تیل پر ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ اب پاکستانی حکام کی جانب سے سرحد پر آمد و رفت کے اکثر راستوں کو بند کرنے اور ایک دو راستوں سے ٹوکن نظام رائج کرنے سے سرحدی علاقوں میں بھی تیل کا بحران پیدا ہو گیا ہے۔

انیس احمد نے بتایا ایرانی تیل کی بندش سے نہ صرف ان اضلاع میں لوگوں کا روزگار متاثر ہوا ہے بلکہ ان کی طرح بلوچستان کے پورے تین ڈویژن رخشاں، مکران اور قلات میں لوگوں کو تیل کے حصول میں بھی مشکلات کا سامنا ہے۔

انھوں نے بتایا کہ ’پنجگور ایران کے ساتھ ہے لیکن پابندیوں کی وجہ سے عید سے قبل پنجگور میں قلت کے باعث ایرانی تیل کی قیمت 150روپے سے اوپر تک پہنچ گئی۔ اس سے قبل 70 سے 75 روپے فی لیٹر سے اس کی قیمت کبھی زیادہ نہیں رہی۔’

خود کوئٹہ شہر میں عید سے قبل چند دن کے لیے تیل کی جو قلت پیدا ہو گئی اس کا بھی بعض پمپ مالکان نے ناطہ ایران سے تیل کم آنے سے جوڑ دیا تھا کیونکہ ایرانی تیل کی قلت سے کوئٹہ شہر میں سارا انحصار پاکستانی کمپنیوں کے پیٹرول پمپوں پر ہو گیا تھا۔

بلوچستان میں لوگ ایرانی تیل کے بغیر گزارا کر سکیں گے؟

جب ایرانی تیل کو روکنے کے لیے اقدامات کے نتیجے میں لوگوں کی مشکلات کے حوالے سے محکمہ کسٹمز کے ایک سینئر افسر سے رابطہ کیا گیا تو انھوں نے رسمی بات کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ بورڈ آف ریونیو کا ترجمان ہی رسمی طور پر میڈیا سے بات کرنے کا مجاز ہے۔

پٹرول، پاکستان

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنوزیر اعلیٰ بلوچستان کا کہنا ہے کہ اگر کچھ علاقوں میں ایرانی تیل نہیں ہوگا تو وہاں پولیس گشت کرنا بند کر دے گی ‘کیونکہ ان کی گاڑی پانی سے تو نہیں چلے گی۔’

انھوں نے کہا کہ اب ہر سطح پر اس بات پر اتفاق ہے کہ ایرانی تیل کی سمگلنگ کو روکنا ہے اور افغانستان اور ایران کے ساتھ باڑ لگانے کی دیگر وجوہات میں سے ایک وجہ سمگلنگ کی روک تھام بھی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ایرانی تیل پر بلوچستان میں ابھی تک نرمی کی جا رہی ہے لیکن بلوچستان سے باہر اس پر بہت زیادہ سختی کی گئی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان کی سرحد کے ساتھ دیگر صوبوں میں ایسے دو سو سے زیادہ پیٹرول پمپ سیل کر دیے گئے تھے جو بلوچستان سے آنے والا سمگل شدہ ایرانی تیل فروخت کر رہے تھے۔

ان کا کہنا تھا مستقبل میں بلوچستان میں بھی ایرانی تیل سمیت دیگر اشیا کی سمگلنگ کو مکمل طور پر بند کیا جائے گا۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ایرانی تیل کے بغیر بلوچستان میں لوگوں کا گزارا ممکن ہو گا۔ جب یہ سوال بلوچستان اسمبلی کے رکن اور بلوچستان نیشنل پارٹی کے رہنما ثنا بلوچ سے پوچھا گیا تو ان کا جواب تھا کہ ’یہ ممکن نہیں۔‘

ثنا بلوچ کا تعلق خاران سے ہے جو کہ رخشاں ڈویژن کے ایران سے متصل سرحدی ضلع واشک سے جڑا ہے۔ ثنا بلوچ کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں صرف لوگوں کے سفر کا انحصار ایرانی تیل پر نہیں ہے بلکہ بلوچستان میں زراعت، مائننگ، ماہی گیری اور کاروبار کے دیگر شعبوں کا انحصار بھی ایرانی تیل ہی پر ہے۔

‘بلوچستان کی 60 فیصد آبادی کا سفر اور 70 فیصد آبادی کے کاروبار کا انحصار ایرانی تیل پر ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی کمپنیاں جس قیمت پر تیل فراہم کر رہی ہیں غربت کی لکیر سے زندگی نیچے زندگی گزارنے والے بلوچستان کے لوگوں کا کاروبار اس پر چل نہیں سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ایرانی تیل کو بند کرنے کی غلطی کی گئی تو نتیجے میں غربت اور بدامنی میں مزید اضافہ ہو گا۔

ایرانی تیل کی بندش کے اقدامات سے نہ صرف بلوچستان میں لوگوں میں پریشانی ہے بلکہ خود بلوچستان میں حکومتی سطح پر بھی پریشانی پائی جاتی ہے۔

ایران، تیل

،تصویر کا ذریعہANEES AHMED BALOCH

،تصویر کا کیپشنبلوچستان میں ایرانی تیل کی سمگلنگ پر بندش کے بعد لوگوں میں پریشانی پائی جاتی ہے کیونکہ متبادل کی عدم دستیابی ہے

وزیر اعلیٰ بلوچستان جام کمال خان کراچی سے متصل حب کے اپنے حالیہ دورے پر تھے جب میڈیا کے نمائندوں نے ان سے ایرانی تیل سے متعلق سوال پوچھا۔ ان کا جواب تھا کہ ‘یہ اعلان بڑا اچھا ہے کہ تیل بند کر دیا ہے لیکن بلوچستان کے تین ڈویژن میں سے رخشاں، مکران اور آدھے قلات ڈویژن میں ملکی کمپنیوں کا ایک پیٹرول پمپ بھی نہیں ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ متبادل کے بغیر تیل بند کرنے سے ڈپٹی کمشنر، اسسٹنٹ کمشنر، میں، آپ، ٹرک اور بس تیل کہاں سے لائیں گے۔

‘پہلے ایک متبادل لائیں۔ میں بولوں کہ اب ان تین ڈویژنز میں ملکی کمپنیوں نے دو سو پیٹرول پمپ لگائے ہیں۔ اس لیے اب بلوچستان کے لوگوں کو ایندھن کا مسئلہ نہیں ہو گا اب مہربانی کر کے اس سلسلے کو کم کریں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’متبادل کے لیے کچھ نہیں ہو رہا ہے لیکن زور ایرانی تیل بند کرنے پر چل رہا ہے۔ اس پر ہماری وفاقی حکومت سے بات چیت چل رہی ہے۔ میں نے وزیر اعظم کے علاوہ وزیر توانائی کو کہا ہے۔ میڈیا کے توسط سے پھر کہوں گا کہ کالٹیکس، پی ایس او اور شیل کو پابند کریں کہ ان تین ڈویژنوں میں جا کر سہولیات دیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ اگر ان علاقوں میں ایرانی تیل نہیں ہو گا تو پولیس کا ایس پی گشت کرنا بند کر دے گا کیونکہ ’ان کی گاڑی پانی سے تو نہیں چلے گی۔‘

بلوچستان، ایرانی تیل، سمگلنگ

،تصویر کا ذریعہANEES AHMED BALOCH

،تصویر کا کیپشنپاکستان میں کام کرنے والی آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کی جانب سے جہاں ملک کے دوسرے صوبوں میں فلنگ سٹیشنوں کی بھرمار ہے، اس کے مقابلے میں بلوچستان میں ان کی تعداد بہت کم ہے

انھوں نے استفسار کیا کہ اگر یہ تیل نہیں ہو گا تو مچھیروں کی کشتیاں، کاشتکاروں کے ڈیزل انجن کیسے چلیں گے۔

وزیر اعلیٰ نے کہا کہ کچھ چیزیں ٹھیک ہوتی ہیں اور کچھ غلط ہوتی ہیں۔ لیکن متبادل کا انتظام کریں پھر آپ آہستہ آہستہ بند کرنے کی جانب جائیں۔

اب بلوچستان میں تیل کی ضروریات کیسے پوری ہو سکیں گی؟

ایران سے بلوچستان پہنچنے والے سمگل شدہ تیل کی مصنوعات صوبے کی صنعت، زراعت، ماہی گیری اور دوسرے شعبوں کی تیل کی ضرویات کو پورا کر رہی تھیں۔ تاہم اب بلوچستان میں تیل کی ضروریات پوری کرنا بحرانی کیفیت سے دوچار ہے۔

پاکستان کے دوسرے صوبوں کے مقابلے بلوچستان میں ملکی تیل کے شعبے کی فارمل یعنی رسمی موجودگی بہت کم رہی ہے اور اب بلوچستان کے دور دراز کے اضلاع میں تیل کی ضرورت پورا ہونا مشکل تر ہوتا جا رہا ہے۔

قلات سے کراچی پہنچنے والے ذوالفقار بلوچ نے بی بی سی کو بتایا کہ قلات میں ایک پمپ پر جہاں پاکستانی تیل دستیاب تھا وہاں بہت طویل قطاریں دیکھنے کو ملیں اور انھیں اپنی گاڑی کا فیول ٹینک بھروانے میں بہت زیادہ دیر لگی۔

ان کے مطابق قلات کے بعد خضدار میں بھی پاکستانی تیل پر چلنے والے ایک پیٹرول پمپ پر یہی منظر دیکھنے میں آیا جب لوگ ڈیزل اور پیٹرول کے لیے لمبی قطاریں میں لگی ہوئی تھیں۔

پاکستان میں کام کرنے والی آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کی جانب سے جہاں ملک کے دوسرے صوبوں میں فلنگ سٹیشنوں کی بھرمار ہے، اس کے مقابلے میں بلوچستان میں ان کی تعداد بہت کم ہے۔

پاکستان میں کام کرنے والی تین درجن سے زیادہ آئل مارکیٹنگ کمپنیوں میں سے سوائے چند کے دوسری کمپنیوں کی بلوچستان میں موجودگی سرے سے موجود ہی نہیں اور جن چند کمپنیوں کے فلنگ سٹیشن کام کر رہے ہیں وہ دوسرے صوبوں کے مقابلے میں بہت کم ہیں۔ آبادی کے تناسب سے بھی یہ موجودگی بہت کم ہے۔

تیل کے شعبے میں سب سے بڑی آئل مارکٹینگ کمپنی پی ایس او کو ہی لیا جائے جو حکومتی ادارہ ہے تو اس کے ملک بھر میں قائم پیٹرول پمپوں کی تعداد 3500 ہے اور ان میں سے صرف 198 بلوچستان میں قائم ہیں۔ صوبے میں پی ایس او کے صرف تین ڈپو ہیں۔

نجی شعبے میں کام کرنے والی چند بڑی آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے پیٹرول پمپ کی تعداد بھی بلوچستان میں بہت کم ہے۔ جبکہ ایرانی تیل کی بندش سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے تین ڈویژنوں قلات، مکران اور رخشاں میں یہ نہ ہونے کے برابر ہے۔

حکومتی نگرانی میں چلنے والے ادارے پی ایس او سے جب بلوچسستان میں تیل کی ضروریات کے بارے میں پوچھا گیا تو ادارے نے اپنے ایک تحریری جواب میں بی بی سی اردو کو بتایا کہ پی ایس او کے بلوچستان میں ریٹیل پیٹرول پمپوں پر تیل کی ضروریات کراچی، خضدار، شکار پور اور کوئٹہ سے پوری کی جا رہی ہیں۔

ادارے کے مطابق پی ایس او کے پاس یہ صلاحیت ہے کہ ایران سے سمگل ہونے والے تیل کی بندش کے بعد بلوچستان میں تیل کی ضروریات کو باآسانی پورا کر سکے۔

پی ایس او

،تصویر کا ذریعہPSO

،تصویر کا کیپشنملک بھر میں پی ایس او کے 3500 پیٹرول پمپ ہیں مگر بلوچستان میں ان کی تعداد بس 198 ہے

پی ایس او سے جب پوچھا گیا کہ کیا ان کے پاس تیل کی سپلائی کا ایسا انفراسٹرکچر موجود ہے کہ وہ بلوچستان میں تیل کی ضروریات کو پورا کر سکے تو ادارے نے جواب دیا کہ وہ صوبے کی تیل کی ضروریات کو پورا کرنے کے اہل ہیں اور بلوچستان میں اپنے سٹوریج اور تقسیم کے نظام کو مزید بہتر بنانے کے لیے کام کر رہے ہیں۔

پاکستان میں تیل کی نجی کمپنیوں نے بلوچستان میں انفراسٹرکچر کیوں قائم نہیں کیا؟

بلوچستان میں آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے انفراسٹرکچر کی کمی کے بارے میں بات کرتے ہوئے آئل کمپنیز ایڈوائزی کونسل (او سی اے سی) کے سابقہ چیف ایگزیکٹو اور آئل مارکیٹنگ ایسوسی ایشن آف پاکستان کے موجودہ سربراہ الیاس فاضل نے بتایا کہ ایران سے پیٹرول اور ڈیزل کی سمگلنگ اس شعبے کے لیے ایک مسئلہ بنا رہا۔

انھوں نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ بلوچستان میں آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے پانچ آئل ڈپو اور 300 کے قریب پیٹرول پمپ نہ صرف سمگل شدہ ایرانی تیل کی وجہ سے خطرے کا شکار رہے بلکہ صوبے میں امن و امان کی صورتحال نے بھی ان کے لیے خطرات بڑھا دیے۔

انھوں نے کہا ماضی میں بہت سارے فورمز پر یہ ایشو اٹھایا گیا کہ کیسے ایرانی تیل کی سمگلنگ کو روک کر وہاں فارمل سیکٹر کو کام کرنے کا موقع دیا جائے تاہم سلامتی کی صورتحال کے ساتھ سمگلروں اور مقامی حکام کے مبینہ گٹھ جوڑ نے ان سارے منصوبوں پر پانی پھیر دیا۔

الیاس فاضل نے بتایا کہ 2014 میں بلوچستان میں دو سو نئے پیٹرول پمپ قائم کرنے کے بارے میں تخیمنے لگائے گئے لیکن یہ سرمایہ کاری صرف اس صورت میں ممکن تھی کہ جب بلوچستان میں ایرانی تیل کی سمگلنگ بند اور امن و امان کی صورت حال بہتر ہوتی۔

انھوں نے کہا ابھی بھی اگر ایران سے سمگل ہو کر بلوچستان میں آنے والے تیل کی سپلائی رُکی ہوئی ہے تاہم سکیورٹی کے خطرات ابھی بھی موجود ہیں اور آئل مارکیٹگ کمپنیوں کی جانب سے تیل کی سپلائی خطرے سے دوچار ہو سکتی ہے۔

انھوں نے کہا اگر امن و امان قائم کرنے والے ادارے تیل کی ڈپو اور وہاں سے پیٹرول پمپوں تک سپلائی کو یقینی بنانے کے لیے سیکورٹی کور دیں تو تیل کی سپلائی زیادہ ہو سکتی ہے۔

آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کی بلوچستان میں کم موجودگی پر بات کرتے ہوئے الیاس فاضل نے کہا کہ سمگل شدہ ایرانی تیل اور صوبے میں سکیورٹی کی صورتحال کو مد نظر رکھا جائے تو کمپنیوں کو الزام نہیں دیا جا سکتا کہ انھوں نے بلوچستان میں تیل سپلائی کا انفراسٹرکچر کیوں قائم نہیں کیا۔

انھوں نے اپنی بات کا اختتام کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان میں پاکستانی تیل کی سپلائی دو چیزوں سے مشروط ہے۔ یعنی ایرانی تیل کی سمگلنگ مکمل بند ہو اور دوسرا سپلائی کو پورا تحفظ حاصل ہو۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.