کچھ زخم ہمیشہ تازہ رہتے ہیں

آج سو بچوں کو زیادتی کے بعد قتل کرنے والے لاہور کے جنونی قاتل جاوید اقبال کا یوم پیدائش اور یوم وفات ہے۔جاوید اقبال کو 16 مارچ 2000 کو سزائے موت سنائی گئی تھی لیکن عملدرآمد سے پہلے ہی اس نے 8 اکتوبر 2001 کو خودکشی کر لی۔جاوید اقبال ایک جنونی قاتل تھا جو 100 سے زیادہ بچوں کے قتل اور انھیں جنسی طور پر ہراساں کرنے کا اقراری مجرم تھا۔جاوید اقبال مغل 8 اکتوبر 1956 کو پیدا ہوا اور 8 اکتوبر 2001 کو کوٹ لکھپت جیل میں خودکشی کر لی۔ جاوید اقبال کے والد ایک تاجر تھے اور جاوید کا نمبر اپنے بہن بھائیوں میں چھٹا تھا۔ اس نے گورنمنٹ اسلامیہ کالج ریلوے روڈ لاہور سے انٹرمیڈیٹ کیا۔ 1978ئ میں اس نے اسٹیل کا کاروبار شروع کیا۔ جاوید کچھ لڑکوں کے ساتھ ایک الگ حویلی میں رہا کرتا تھا جو شاد باغ میں واقع تھی۔30 دسمبر 1999ءکو جاوید نے پولیس اور ایک اخباری مدیر خاور نعیم ہاشمی کو ایک خط لکھا جس میں اس نے 100 بچوں کے قتل کا اعتراف کیا جن کی عمریں 6 سے 16 سال کے درمیان تھیں۔ اس نے ساتھ میں یہ بھی اعتراف کیا کہ اس نے ان بچوں کو گلا گھونٹ کر مارا اور ان کے جسم کے کئی ٹکڑے کئے۔ وہ ان بچوں کو جو گھر سے بھاگے تھے یا سڑک کنارے رہنے والے یتیم لاوارث بچے تھے، کو نشانہ بنایا کرتا تھا۔ نیز قتل کے بعد ان کے جسم کو تیزاب (ہائیڈرو کلورک ایسڈ) میں ڈال دیا کرتا اس کے بعد وہ اسے دریا میں بہا دیتا۔ جب پولیس اور رپورٹر اس کے گھر گئے تو انھوں نےکئی نشانہ بننے والوں کی تصویریں پائیں، نیز دیواریں بھی خون سے آلودہ تھیں اور انھیں زنجیریں بھی ملی جو جاوید کے مطابق گلا گھونٹنے کے لیے تھیں۔ ان تمام چیزوں پر مجرم نے تحریریں لکھی تھیں جو ان چیزوں کے تعارف میں تھیں۔ نیز پولیس والوں کو ایک بیگ بھی ملا جس میں تیزاب اور جسمانی بقایاجات تھیں جس پر مجرم نے لکھا تھا کہ ” اسے میں نے اس لیے ٹھکانے نہیں لگایا تاکہ حکام کو ثبوت مل سکے "۔جاوید اقبال کے ان انکشافات کے بعد لاہور پولیس نے پاکستانی تاریخ کے سب سے بڑے چھاپوں کا آغاز کیا جس میں اقبال کے ساتھ رہنے والے چار لڑکوں کو بھی گرفتار کیا گیا جن میں سے ایک کی موت مبینہ طور پر جیل سے فرار ہوتے ہوئے ہوئی۔جاوید اقبال کی ڈائری میں اس کے ہاتھوں قتل کیے گئے تمام بچوں کی تفصیلات تھیں لیکن عدالت میں اقبال نے خود کو بے گناہ قرار دیا۔ اس کے مطابق اس نے یہ تمام کہانی گھر سے بھاگنے والے بچوں کے معاملات کو سامنے لانے کے لئے گھڑی تھی۔ 100 افراد نے اقبال کے جرم سے متعلق شہادتیں جمع کرائیں جس پر 16 مارچ 2000 کو عدالت کے جج نے ان الفاظ میں فیصلہ دیا "تمھیں ان والدین جن کے بچوں کے تم قاتل ہو، کے سامنے گلا گھونٹ کر مارا جائے گا۔ تمہاری لاش کے سو ٹکڑے کئے جائیں گے اور اس کے بعد اسے تیزاب میں ڈالا جائے گا۔”8 اکتوبر 2001 کو اقبال اور اس کے ساتھی ساجد احمد نے کوٹ لکھپت جیل میں خود کشی کر لی۔ ان دونوں نے اپنے پیچھے کوئی وصیت نہیں چھوڑی تھی۔نوے کی دہائی میں ایک سیریل قاتل جاوید اقبال نے پنجاب میں 100 بچوں کے قتل کا اعتراف کیا تھا۔جاوید اقبال نامی شخص نے سو بچوں کا قتل کرنے کے بعد ان کی لاشوں کو تلف کرنے کے لئے تیزاب کا استعمال کیا تھا۔جاوید اقبال کے ہاتھوں قتل ہونے والے بچوں کی عمر 6 سے تقریبا 16 سال تک تھی۔تیس دسمبر 1999کو جاوید اقبال کو ایک اردو اخبار کے دفتر سے گرفتار کیا گیا ،جیسے ہی اخبار کے دفتر میں اقبال نے اپنا اعترافی بیان لکھنا شروع کیا وہاں موجود عملے نے پاکستان کے فوج ادارے کو خبر کردی جس کے سو سے زائد جوانوں نے اس عمارت کو گھیر لیا تھا۔جاوید اقبال کی درندگی کا نشانہ بننے والے تمام بچوں کی عمریں 6 سے 16 سال کے درمیان تھی اور ان میں سے زیادہ تر بچے گھر سے بھاگے ہوئے اور لاہور کی سڑکوں پر رہنے والے تھے۔ جاوید اقبال معصوم بچوں کو قتل کرنے کے بعد ان کی لاش کو تیزاب میں ڈال کر دریائے راوی میں بہا دیتا تھا۔جاوید اقبال کی گرفتاری کے چند ہی گھنٹوں کے بعد پنجاب کے ٹاون سواہا سے اس کے دو مبینہ ساتھی بھی گرفتار کر لئے گئے تھےجو اسے پیسے اور سفر میں مدد کرتے تھے۔جاوید اقبال کے اعترافی خط کے مہنے بعد پولیس کئی دنوں تک گمشدہ اور مقتول بچوں کے والدین سے تفتیش کرتے رہے۔ 80 سے زائد کی شناخت ان کے اہلِخانہ کی مدد سے کر لی گئی تھی، جاوید اقبال کے گھر میں موجود ڈھیر سے کئی بچوں کی تصاویر اور ان کے کپڑے بھی ملے۔اس نے اپنے گھر میں تیزاب کے ڈرم رکھے ہوئے تھے جن میں یہ بچوں کی لاشں ڈبو کر گلا دیتا تھا۔ روزنامہ ڈان کے 2001 میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق جاوید اقبال کا مقصد معصوم بچوں کو اپنی طرف راغب کرنا تھا، جس کے لئے اس نے شاد باغ میں ایک ویڈیو گیم کی دکان کھولی، وہ معصوم بچوں کو کم قیمت میں ٹوکن دیا کرتا تھا بلکہ کبھی کبھی تو مفت بھی دے دیا کرتا تھا۔ وہ اپنی دکان میں سو روپے کا نوٹ جان کر گراتا تھا اور دیکھتا تھا کون سا بچا اسے اٹھا رہا ہے پھر وہ اعلان کرواتا تھا کہ پیسے گر گئے ہیں جس کے بعد سب کی تلاشی لیتا تھا، بعد ازاں وہ بچے کو پکڑ کر ایک کمرے میں لے جاتا تھا اور اسے زیادتی کا نشانہ بنا کر تعلقات اچھے رکھنے کے لئے اٹھائے ہوئے پیسے واپس دے دیتا تھا۔رپورٹ کے مطابق جب عوام نے بچوں کو اس کی دکان پر بھیجنا بند کر دیا تو جاوید اقبال نے فش ایکوریم کی دکان کھولی بعد ازاں لڑکوں کو اپنی طرف راغب کرنے کے لئے جم بھی کھولا۔جاوید اقبال نے ایک ایئر کنڈیشنر اسکول بھی کھولا لیکن وہ اس میں ناکام رہا، اس نے ایک دکان بھی کھولی جس میں بازار سے کم قیمت پر اشیائ فروخت کرتا تھا۔ جو صرف چند ہفتوں کے لئے جاری رہی۔تیس دسمبر 1999 کو جاوید اقبال نے ایک اردو اخبار کے دفتر میں پہنچ کر کہا:” میں جاوید اقبال ہوں، سو بچوں کا قاتل، مجھے نفرت ہے اس دنیا سے، مجھے اپنے کیے پر کوئی شرمندگی نہیں ہے اور میں مرنے کے لیے تیار ہوں، مجھے سو بچوں کو قتل کرنے پر کوئی افسوس نہیں ہے "۔اس کا کہنا تھا کہ میں 500 لوگوں کو مار سکتا تھا کوئی مسئلہ نہیں تھا اور نہ ہی پیسے کا مسئلہ تھا لیکن میں نے اپنے ا?پ سے ایک وعدہ کیا تھا سو بچوں کا جسے میں توڑنا نہیں چاہتا تھا۔جاوید اقبال قاتل کیوں بنا؟جاوید اقبال نے اخبار کو بتایا اس نے پولیس سے انتقام کے لئے یہ سب کیا، اس نے بتایا کہ نوے کی دہائی میں اسے پولیس نے بچوں سے زیادتی کے الزام میں تفتیش کی تھی مگر اس پر کوئی الزام عائد نہیں ہو سکا۔اس کا کہنا تھا کہ دوران تفتیش مجھ پر شدید تشدد کیا گیا میرا سر پھاڑ دیا گیا ، میری ریڑھ کی ہڈی ٹوٹ گئی تھی ، مجھے معزور کردیا گیا تھا ، مجھے اس دنیا سے نفرت ہے۔ جاوید اقبال نے کہا کہ میری ماں میرے لئے روئی تھی میں چاہتا تھا کہ سو مائیں اپنے بچوں کے لئے روئیں۔عدالت میں کیس کی سماعت کے دوران جج نے ملکی تاریخ کے سفاک ترین قاتل پر فرد جرم عائد کرتے ہوئے کہا کہ ملزم کو اسی طرح سزا دی جائے جس طرح اس نے معصوم بچوں کو قتل کیا۔ جج نے اپنے فیصلے میں کہا: تمہیں متاثرہ بچوں کے والدین کے سامنے پھانسی دی جائے گی اور اس کے بعد تمہاری لاش کے سو ٹکڑے کر کے انہیں اسی طرح تیزاب میں گلایا جائے گا، جس طرح تم نے بچوں کی لاشوں کو گلا یا تھا۔تاہم اس وقت کی حکومت نے ایسا کرنے نہ دیا ان کا کہنا تھا کہ یہ قانون کے خلاف ہے۔مارچ 2000 میں 100 بچوں کے قتل کے الزام میں اکتالیس سالہ جاوید اقبال کو موت کی سزا سنا دی گئی تھی ، ایک سال بعد 8 اکتوبر 2001 کو اقبال اور اس کے مبینہ ساتھی نے جیل میں زہر کھا کر خوکشی کر لی تھی۔
تحریر:(حافظ کاشف سندھو سے)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Next Post

عالمی کرکٹ بحال:انگلینڈ اور آئرلینڈ کی ٹیمیں بھی پاکستان آئیں گی

بدھ اکتوبر 9 , 2019
Share on Facebook Tweet it Share on Google Email لاہور(سپورٹس رپورٹر)سری لنکن ٹیم کے دورہ پاکستان کے بعد شائقین کرکٹ کےلئے ایک اورخوشخبری آگئی۔انگلینڈ اورآئرلینڈ کی کرکٹ ٹیموں کے دورہ پاکستان کے امکانات بھی روشن ہوگئے۔تفصیلات کے مطابق انگلینڈ اورآئرلینڈکرکٹ بورڈزکے اعلیٰ سطحی وفدنے سیف سٹیزاتھارٹی کادورہ کیااور سیکورٹی انتظامات […]

چیف ایڈیٹر

سید ممتاز احمد

قارئین اور ناظرین کو لمحہ لمحہ باخبر رکھنے کے لئے” مشرق “ویب سائٹ اور” مشرق“ ٹی وی کااجراءکیاگیا ہے۔روزنامہ” مشرق“ کا قیام1962ءمیں عمل میں آیا تھا ۔یہ اخبار پاکستان کی جدید صحافت کے علمبردار آئین کی بالادستی ،جمہوری قدروں کے فروغ اور انسانی حقوق کے تحفظ کاعلم بلند کرنے کے عزم کے ساتھ دنیائے صحافت میں آیا تھا ۔ ”مشرق “نے جدید تقاضوں کے مطابق اپنے قارئین اور دنیا بھر میں پاکستانیوں کو باخبر رکھنے کے لئے ویب سائٹ اور ویب ٹی وی کا جناب سید ممتاز احمد شاہ چیف ایڈیٹر مشرق گروپ آف نیوزپیپرز کی نگرانی میں اجراءکیاہے ۔یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ اقلیم صحافت کے درخشندہ ستارے سید ممتاز احمد کا شمار پاکستانی صحافت کے اکابرین میں ہوتا ہے۔زندگی بھر قلم وقرطاس اور پرنٹ میڈیا ہی ان کا اوڑھنا بچھونا رہا۔سید ممتاز احمد شاہ نے آج سے 50 برس قبل صحافت جیسی وادی ¿ پرخار میںقدم رکھا۔ضیائی مارشل لا کے دور میں کئی مراحل آئے جب قلم اور قرطاس سے رشتہ برقرار اور استوار رکھنا انتہائی جانگسل ہوچکا تھا لیکن وہ کٹھن اور دشوار گزار راستوں پر سے گزرتے رہے لیکن ان کے پایہ¿ استقلال میں کبھی لغزش دیکھنے سننے میں نہیں آئی۔ واضح رہے کہ سید ممتاز احمد نے ملک کے اہم ترین انگریزی اخبار ”ڈان“ ”جنگ“ ”دی نیوز“ اور روزنامہ ”مشرق“ میں اپنی گراں قدر خدمات انجام دی ہیں۔ اور ان کا مشرق کے ساتھ صحافت کا سفر جاری ہے۔