کلبھوشن کیس میں بھارتی درخواست مسترد ہونے پر مودی سرکار کی عیاریاں

نئی دلی: عالمی عدالت برائے انصاف نے کلبھوشن یادیو کیس کے فیصلے میں بھارت کی درخواست مسترد ہونے پر بوکھلاہٹ کی شکار مودی سرکار اپنی عوام کو فیصلے کا غلط رخ دکھا کر خوش کرنے کی ناکام کوششوں میں جُت گئی۔

عالمی عدالت برائے انصاف نے کلبھوشن یادیو کیس میں بھارت کی جانب سے جاسوس کو بری کر کے بھارت کے حوالے کرنے کی درخواست کو مسترد کر دیا اور بھارتی جاسوس کو پھانسی کی سزا پر پاکستان کو ریویو کا بھی موقع دے دیا گیا جس پر بھارتی میڈیا اور مودی سرکار روایتی عیاری کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی قوم کو جھوٹے بہلاوے دینے لگے۔

فیصلے سے قبل ہی سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر سابق بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج نے عالمی عدالت برائے انصاف کے فیصلے کو اپنے حق میں تصور کرتے ہوئے وزیراعظم نریندرا مودی کو مبارک باد بھی دے بیٹھیں۔ صارفین نے حیرت کا اظہار کیا اور فیصلے کے اقتباسات کے اسکین شاٹ لگائے جب کہ کچھ نے کہا کہ میڈم آپ کی آسانی کے لیے انگریزی فیصلے کا ترجمہ کردیں؟

بھارت کی اپوزیشن جماعت کانگریس نے بھی فیصلہ سنے بغیر ہی اپنے آفیشل ٹویٹر اکاؤنٹ سے ٹویٹ داغ دی کہ ’ عالمی عدالت برائے انصاف کے فیصلے کو خوش آمدید کہتے ہیں، یہ بھارت کی بہت بڑی جیت ہے اور ہم کلبھوشن کی جلد از جلد واپسی کے لیے دعا گو ہیں۔

حقیت تو یہ ہے کہ عالمی عدالت نے نہ تو کلبھوشن کی سزائے موت ختم کی ہے اور نہ ہی اسے بھارت کے حوالے کرنے کو کہا ہے البتہ فیصلے میں کلبھوشن یادیو کو قونصلر رسائی کا حق دے دیا گیا ہے جسے بھارتی میڈیا اور رہنما توڑ مروڑ کر پیش کر رہے ہیں۔

واضح رہے کہ بھارتی خفیہ ایجنسی ’را‘ کے جاسوس کلبھوشن یادیوکومارچ 2016 میں بلوچستان سے گرفتارکیا گیا تھا۔ بھارتی بحریہ کے حاضر سروس افسر نے پاکستان میں دہشت گردی کی متعدد کارروائیوں کا اعتراف کیا تھا جس پرفوجی عدالت نے کلبھوشن کو سزائے موت سنائی تھی جس کے خلاف بھارت نے مئی 2017 کو عالمی عدالت سے رجوع کیا تھا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Next Post

کلبھوشن کے ساتھ پاکستانی قوانین کے مطابق ہی سلوک ہوگا، وزیرخارجہ

جمعرات جولائی 18 , 2019
Share on Facebook Tweet it Share on Google Email  اسلام آباد: وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ بھارتی جاسوس کلبھوشن یادو پاکستان کی تحویل میں ہی رہے گا اور اس کے ساتھ پاکستانی قوانین کےمطابق ہی سلوک ہوگا۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنی ٹویٹ میں بھارتی […]

چیف ایڈیٹر

سید ممتاز احمد

قارئین اور ناظرین کو لمحہ لمحہ باخبر رکھنے کے لئے” مشرق “ویب سائٹ اور” مشرق“ ٹی وی کااجراءکیاگیا ہے۔روزنامہ” مشرق“ کا قیام1962ءمیں عمل میں آیا تھا ۔یہ اخبار پاکستان کی جدید صحافت کے علمبردار آئین کی بالادستی ،جمہوری قدروں کے فروغ اور انسانی حقوق کے تحفظ کاعلم بلند کرنے کے عزم کے ساتھ دنیائے صحافت میں آیا تھا ۔ ”مشرق “نے جدید تقاضوں کے مطابق اپنے قارئین اور دنیا بھر میں پاکستانیوں کو باخبر رکھنے کے لئے ویب سائٹ اور ویب ٹی وی کا جناب سید ممتاز احمد شاہ چیف ایڈیٹر مشرق گروپ آف نیوزپیپرز کی نگرانی میں اجراءکیاہے ۔یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ اقلیم صحافت کے درخشندہ ستارے سید ممتاز احمد کا شمار پاکستانی صحافت کے اکابرین میں ہوتا ہے۔زندگی بھر قلم وقرطاس اور پرنٹ میڈیا ہی ان کا اوڑھنا بچھونا رہا۔سید ممتاز احمد شاہ نے آج سے 50 برس قبل صحافت جیسی وادی ¿ پرخار میںقدم رکھا۔ضیائی مارشل لا کے دور میں کئی مراحل آئے جب قلم اور قرطاس سے رشتہ برقرار اور استوار رکھنا انتہائی جانگسل ہوچکا تھا لیکن وہ کٹھن اور دشوار گزار راستوں پر سے گزرتے رہے لیکن ان کے پایہ¿ استقلال میں کبھی لغزش دیکھنے سننے میں نہیں آئی۔ واضح رہے کہ سید ممتاز احمد نے ملک کے اہم ترین انگریزی اخبار ”ڈان“ ”جنگ“ ”دی نیوز“ اور روزنامہ ”مشرق“ میں اپنی گراں قدر خدمات انجام دی ہیں۔ اور ان کا مشرق کے ساتھ صحافت کا سفر جاری ہے۔