کشمیر کے معاملے پر جھوٹ بولا جا رہا ہے، فضل الرحمٰن کا اے پی سی میں خطاب

مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف اور پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی غیر حاضری میں جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کی زیر صدارت مسئلہ کشمیر پر بات چیت کے لیے اپوزیشن جماعتوں کی آل پارٹیز کانفرنس (اے پی سی) منعقد ہوئی۔

اجلاس کے دوران گفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمٰن کا کہنا تھا کہ کشمیر کے معاملے پر قوم سے مسلسل جھوٹ بولا جا رہا ہے۔

جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ نے یہ بھی کہا کہ پارلیمنٹ اور سیاسی جماعتوں کو کشمیر کی موجودہ صورتحال پر بریفنگ نہیں دی جائے۔

اجلاس کے دوران اپوزیشن جماعتوں نے مقبوضہ کشمیر کی صورتحال کا جائزہ لیا جبکہ وادی میں بھارتی افواج کے مظالم کی شدید الفاظ میں مذمت بھی کی گئی۔

اے پی سی میں مطالبہ کیا گیا کہ حکومت پاکستان، مقبوضہ کشمیر کی عالمی سطح پر بھرپور وکالت کرے۔

اجلاس کے دوران کہا گیا کہ ہمیں بھارت کو کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے سے روکنے کے لیے سفارتی محاذ پر پہلے سے تیار رہنا چاہیے تھا۔

اے پی سی میں اعادہ کیا گیا کہ پاکستانی عوام کشمیریوں کے ساتھ ہے اور تمام اپوزیشن جماعتیں کشمیریوں کے ساتھ اظہار یکجیتی کرتی ہیں۔

اپوزیشن جماعتوں نے اقوام متحدہ اور عالمی برادری سے مقبوضہ وادی میں کرفیو ختم کروانے کا مطالبہ کردیا۔

حکومتی اقدامات کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا گیا کہ حکومت نے کشمیر پر پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں غیر سنجیدگی دکھائی، جبکہ مطالبہ کیا کہ حکومت کریڈٹ لینے کے بجائے کشمیر پر عملی اقدامات کرے۔

اے پی سی میں یہ بھی کہا گیا کہ مسئلہ کشمیر پر پاکستان، بھارت اور کشمیری فریق ہیں۔

اپوزیشن جماعتوں کا کہنا تھا کہ کشمیری عوام کے معاملے پر تمام جماعتیں فوج کے شانہ بشانہ کھڑی ہیں۔

اجلاس میں یہ بھی کہا گیا کہ پاک فوج بھارت کی کسی مہم جوئی کا جواب دینے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے۔

اجلاس میں رہبر کمیٹی کے کنوینئر اکرم خان درانی اور جمعیت علمائے اسلام کے سینیٹر عبدالغفور حیدری بھی اجلاس میں شریک ہوئے۔

شیری رحمٰن، فرحت اللہ بابر اور نئیر بخاری پر مشتمل پاکستان پیپلزپارٹی کا وفد بھی اجلاس میں شریک ہوا۔

عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کے میاں افتخار حسین اور امیر حیدرخان ہوتی، قومی وطن پارٹی کے سربراہ آفتاب شئیر پاو اور شفیق پسروری اور پشتونخوا ملی عوامی پارٹی (پی کے میپ) کے سربراہ محمود خان اچکزئی بھی اجلاس میں شریک ہوئے۔

مسلم لیگ (ن) کے وفد میں خواجہ محمد آصف، احسن اقبال اور سردار ایاز صادق اپنی پارٹی کے صدر شہباز شریک کی غیر موجودگی میں اجلاس میں شریک ہوئے۔

جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے تمام مہمانوں کو دروازے پر آکر خوش آمدید کہا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Next Post

پیپلزپارٹی اور(ن)لیگ نے مولانا فضل الرحمان کے ساتھ پھر ہاتھ کردیا، فردوس عاشق

پیر اگست 19 , 2019
Share on Facebook Tweet it Share on Google Email اسلام آباد: معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات فردوس عاشق اعوان کا کہنا ہے کہ اپوزیشن کی “آؤ آپس میں سیاست کریں” کی نئی قسط میں پیپلز پارٹی اور (ن) لیگ نے ایک بار پھر مولانا فضل الرحمان کے ساتھ ہاتھ کردیا۔ […]

چیف ایڈیٹر

سید ممتاز احمد

قارئین اور ناظرین کو لمحہ لمحہ باخبر رکھنے کے لئے” مشرق “ویب سائٹ اور” مشرق“ ٹی وی کااجراءکیاگیا ہے۔روزنامہ” مشرق“ کا قیام1962ءمیں عمل میں آیا تھا ۔یہ اخبار پاکستان کی جدید صحافت کے علمبردار آئین کی بالادستی ،جمہوری قدروں کے فروغ اور انسانی حقوق کے تحفظ کاعلم بلند کرنے کے عزم کے ساتھ دنیائے صحافت میں آیا تھا ۔ ”مشرق “نے جدید تقاضوں کے مطابق اپنے قارئین اور دنیا بھر میں پاکستانیوں کو باخبر رکھنے کے لئے ویب سائٹ اور ویب ٹی وی کا جناب سید ممتاز احمد شاہ چیف ایڈیٹر مشرق گروپ آف نیوزپیپرز کی نگرانی میں اجراءکیاہے ۔یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ اقلیم صحافت کے درخشندہ ستارے سید ممتاز احمد کا شمار پاکستانی صحافت کے اکابرین میں ہوتا ہے۔زندگی بھر قلم وقرطاس اور پرنٹ میڈیا ہی ان کا اوڑھنا بچھونا رہا۔سید ممتاز احمد شاہ نے آج سے 50 برس قبل صحافت جیسی وادی ¿ پرخار میںقدم رکھا۔ضیائی مارشل لا کے دور میں کئی مراحل آئے جب قلم اور قرطاس سے رشتہ برقرار اور استوار رکھنا انتہائی جانگسل ہوچکا تھا لیکن وہ کٹھن اور دشوار گزار راستوں پر سے گزرتے رہے لیکن ان کے پایہ¿ استقلال میں کبھی لغزش دیکھنے سننے میں نہیں آئی۔ واضح رہے کہ سید ممتاز احمد نے ملک کے اہم ترین انگریزی اخبار ”ڈان“ ”جنگ“ ”دی نیوز“ اور روزنامہ ”مشرق“ میں اپنی گراں قدر خدمات انجام دی ہیں۔ اور ان کا مشرق کے ساتھ صحافت کا سفر جاری ہے۔