کشمیر معاملہ؛ پاکستانی فنکاروں نے انوپم کھیر کو آڑے ہاتھوں لے لیا

کراچی: بالی ووڈ اداکار انوپم کھیر کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں مزید 70 ہزار بھارتی فوجیوں کی تعنیاتی اوربھارتی حکومت کے مقبوضہ کشمیر کو 2 حصوں میں تقسیم کے اعلان کی حمایت کرنے پر پاکستانی فنکاروں نے انوپم کھیر کو آڑے ہاتھوں لے لیا۔

گزشتہ روز  بالی ووڈ اداکار انوپم کھیر نے مودی حکومت کے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کرنے کے فیصلے پر معتصابہ ٹوئٹ کرتے ہوئے کہا تھا کہ مسئلہ کشمیر کے حل کا آغاز ہوچکا ہے۔ انوپم کھیر کے اس ٹوئٹ کے ردعمل میں سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے انہیں شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا اوراب پاکستانی فنکاروں کی جانب سے بھی انہیں کشمیریوں کی نسل کشی کی حمایت کرنے پرتنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔

اداکارہ ارمینا خان نے انوپم کھیر کے اس معتصبانہ ٹوئٹ پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس طرح کی زبان جنگ عظیم کے دوران لاکھوں یہودیوں کے قتل عام سے قبل بھی استعمال کی گئی تھی۔ یہ لکھتے ہوئے میرے ہاتھ کانپ رہے ہیں۔ مجھے یہ سوچ کر خوف محسوس ہورہا ہے کہ کیا ہم ایک اور سیاہ دور میں داخل ہونے جارہے ہیں۔ ارمینا خان نے انوپم کھیر کی سوچ پر تنقید کرتے ہوئے کہا تاریخ ان لوگوں پر رحم نہیں کرے گی جو بڑے پیمانے پر نسل کشی کا مطالبہ کرتے ہیں۔

اداکارہ ارمینا خان کے علاوہ نامور ٹی وی اداکار عثمان مختار نے بھی انوپم کھیر کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا مسٹر کھیر آپ کی نظر میں مسلمانوں کی نسل کشی مسئلہ کشمیر کا حل ہے؟

واضح رہے کہ بھارتی حکومت نے مقبوضہ کشمیر کی نیم خود مختار حیثیت سے متعلق آرٹیکل 370 اور 35 اے ختم کرتے ہوئے ریاست کو 2 حصوں میں تقسیم کرنے کا اعلان کردیا ہے۔ مودی سرکار کے اس فیصلے پر جہاں پاکستانی فنکاروں نے شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے وہیں بالی ووڈ کے کچھ اداکاروں نے بھی اس فیصلے کے خلاف آواز اٹھائی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Next Post

بالی ووڈ ستارے بھی کشمیریوں کے حق میں بول پڑے

بدھ اگست 7 , 2019
Share on Facebook Tweet it Share on Google Email ممبئی: مقبوضہ کشمیر میں انسانیت سوز بھارتی مظالم کے خلاف جہاں پاکستانی فنکاروں نے شدید ردعمل ظاہر کیا ہے وہیں بالی ووڈ سے بھی کشمیریوں کے حق میں آوازیں اٹھ رہی ہیں۔ بالی ووڈ اداکارہ دیا مرزا اور زائرہ وسیم نے کشمیریوں […]

چیف ایڈیٹر

سید ممتاز احمد

قارئین اور ناظرین کو لمحہ لمحہ باخبر رکھنے کے لئے” مشرق “ویب سائٹ اور” مشرق“ ٹی وی کااجراءکیاگیا ہے۔روزنامہ” مشرق“ کا قیام1962ءمیں عمل میں آیا تھا ۔یہ اخبار پاکستان کی جدید صحافت کے علمبردار آئین کی بالادستی ،جمہوری قدروں کے فروغ اور انسانی حقوق کے تحفظ کاعلم بلند کرنے کے عزم کے ساتھ دنیائے صحافت میں آیا تھا ۔ ”مشرق “نے جدید تقاضوں کے مطابق اپنے قارئین اور دنیا بھر میں پاکستانیوں کو باخبر رکھنے کے لئے ویب سائٹ اور ویب ٹی وی کا جناب سید ممتاز احمد شاہ چیف ایڈیٹر مشرق گروپ آف نیوزپیپرز کی نگرانی میں اجراءکیاہے ۔یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ اقلیم صحافت کے درخشندہ ستارے سید ممتاز احمد کا شمار پاکستانی صحافت کے اکابرین میں ہوتا ہے۔زندگی بھر قلم وقرطاس اور پرنٹ میڈیا ہی ان کا اوڑھنا بچھونا رہا۔سید ممتاز احمد شاہ نے آج سے 50 برس قبل صحافت جیسی وادی ¿ پرخار میںقدم رکھا۔ضیائی مارشل لا کے دور میں کئی مراحل آئے جب قلم اور قرطاس سے رشتہ برقرار اور استوار رکھنا انتہائی جانگسل ہوچکا تھا لیکن وہ کٹھن اور دشوار گزار راستوں پر سے گزرتے رہے لیکن ان کے پایہ¿ استقلال میں کبھی لغزش دیکھنے سننے میں نہیں آئی۔ واضح رہے کہ سید ممتاز احمد نے ملک کے اہم ترین انگریزی اخبار ”ڈان“ ”جنگ“ ”دی نیوز“ اور روزنامہ ”مشرق“ میں اپنی گراں قدر خدمات انجام دی ہیں۔ اور ان کا مشرق کے ساتھ صحافت کا سفر جاری ہے۔