کرتار پور کوریڈور کھلنے کا انتظارختم لیکن لفظی جنگ کا سلسلہ تیز

کرتارپور کوریڈورکھلنے کا انتظار ختم ہوگیا لیکن اس کے باوجود بھارت اور پاکستان کے درمیان لفظی جنگ کا سلسلہ ہنوز جاری ہے۔بھارت کا کہنا ہے کہ پاکستان سے آنے والی متضاد رپورٹوں کی وجہ سے معاملہ الجھاو¿ کا شکار ہوگیا ہے۔ کرتارپور گردوارہ کی یاترا پرجانے والے بھارتی یاتریوں کے لیے ضروری دستاویزات کے متعلق پاکستانی میڈیا میں شائع ہونے والی خبروں کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان رویش کمار کا کہنا تھا، ”پاکستان سے آنے والی خبریں گمراہ کن ہیں۔ پہلے وہ کہتے ہیں کہ پاسپورٹ کی ضرورت نہیں ہے۔ پھر کہتے ہیں کہ اب ضرورت ہوگی۔ ہمیں لگتا ہے کہ ان کی ایجنسیوں اور وزارت خارجہ کے درمیان کافی اختلافات ہیں۔ ہم نے کرتار پور کوریڈور کے سلسلے میں ایک معاہدہ کیا ہے۔ یہ بدل نہیں سکتا۔ اس معاہدہ کے مطابق پاکستان جانے والے یاتریوں کو پاسپورٹ کی ضرورت ہوگی۔“رویش کمار کا مزید کہنا تھا، ”ہم یہ بات اچھی طرح جانتے ہیں کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان ایک معاہدے پر دستخط کیے گئے ہے۔ اس میں واضح
طور پر لکھا ہے کہ یاتریوں کو دستاویز لے کر آنا ہوں گی۔ ایسے میں اس معاہدہ میں لکھی باتوں کو یک طرفہ طور پر ہٹایا نہیں جاسکتا۔کسی طرح کی ترمیم کے لیے پہلے دونوں فریقین کو متفق ہونا پڑے گا۔“یہ امر قابل ذکر ہے کہ پاکستانی میڈیا میں یہ خبر آئی تھی کہ پاکستانی آرمی کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے کہا ہے کہ بھارتی یاتریوں کو پاسپورٹ کی ضرورت ہوگی اور سیکورٹی یا خود مختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ اس سے قبل پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے کہا تھا کہ کرتار پور صاحب گردوارہ آنے والے یاتریوں کو پاسپورٹ کی ضرورت نہیں ہوگی۔ بھارت کا کہنا ہے کہ پاکستان اس معاملے پر کنفیوز نظر آتا ہے کہ یاترا کرنے کے لیے کن چیزوں کی ضرورت پڑے گی۔ کیو ں کہ پاکستانی دفتر خارجہ کی طرف سے ایک بیان آیا ہے جب کہ آئی ایس پی آر کے ڈی جی نے کچھ دوسرا ٹوئٹ کیا ہے۔بھارت نے کرتارپور گردوارہ کے افتتاح کے حوالے سے پاکستان کی طرف سے تیار کردہ ویڈیو پر بھی سخت اعتراض کیا ہے۔ بھارت نے الزام لگایا کہ پاکستان کرتارپور کوریڈور کو کھولنے کے پس پشت اصل مقصد کی نظر اندا ز کر رہا ہے۔ وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا، ”پاکستان کی طرف سے جاری کردہ ویڈیو میں خالصتان کے باغی رہنما جرنیل سنگھ بھنڈراں والے کو دکھایا گیا ہے۔ ہم پاکستان کی اس کارروائی کی مزمت کرتے ہیں۔ ہم نے پاکستان کے ساتھ بات چیت میں اس بات کو واضح کردیا ہے کہ ہم بھارت مخالف چیزوں کو برداشت نہیں کریں گے۔ ہم نے مطالبہ کیا ہے کہ اس قابل اعتراض ویڈیو اور پرنٹ میٹریل کو فوراً ہٹایا جائے۔“کرتارپور گردوارہ کی افتتاحی تقریب میں شرکت کے لیے کل نو نومبر کو بھارت سے پہلاجتھا پاکستان روانہ ہوگا۔ اس جھتے میں سابق وزیر اعظم ڈاکٹر من موہن سنگھ، پنجاب کے وزیر اعلی امریندر سنگھ، وفاقی وزیر ہرسمرت کور بادل اور ہردیپ پوری، فلم اداکار اور گرداس پور پارلیمانی حلقہ سے ممبر پارلیمان سنی دیول سمیت متعدد ممبران پارلیمان اور اراکینِ اسمبلی شامل ہوں گے۔سکھ مذہب کے بانی بابا گورو نانک بعض روایتوں کے مطابق پندرہ اپریل سن 1469 کو رائے بھوئی کی تلونڈی نامی قصبے میں پیدا ہوئے تھے۔ پاکستانی پنجاب میں واقع یہ قصبہ اب ننکانہ صاحب کے نام سے مشہور ہے۔ ا±ن کا انتقال بائیس ستمبر سن 1539 میں کرتارپور میں ہوا تھا۔ انہوں نے اپنی زندگی کے آخری تقریباً اٹھارہ برس کرتارپور میں گزارے تھے۔مودی حکومت نے کانگریسی رہنما سابق کرکٹر اور پنجاب کے سابق وزیر نوجوت سنگھ سدھو کو افتتاحی تقریب میں شرکت کے لیے مودی حکومت نے اجازت دے دی ہے۔ اس سے پہلے انہوں نے اجازت کے لیے وزیر خارجہ ایس جے شنکر کو دو خط لکھے تھے۔ لیکن انہیں جواب نہیں ملا تھا، جس کے بعد انہوں نے دھمکی دی تھی کہ اگر حکومت انہیں اجازت نہیں دے گی تب بھی وہ افتتاحی تقریب میں شرکت کریں۔بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ بھارت نے افتتاحی پروگرام میں شرکت کے لیے کرتار پور جانے والے افراد کی فہرست پاکستان کو 30اکتوبرکو سونپی تھی۔ جس پر پانچ نومبر تک پاکستان کی منظوری آجانی تھی۔ لیکن ابھی تک رسمی منظوری نہیں آئی ہے تاہم ہم یہ مان کرچل رہے ہیں کہ منظوری مل جائے گی اور اسی لحاظ سے ہم نے ان تمام لوگوں کو کہہ دیا ہے کہ وہ چلنے کو تیار رہیں۔وزیر اعظم مودی آج کرتار پور کوریڈور کے بھارتی حصے کا افتتاح کریں گے اور 550یاتریوں پر مشتمل پہلے جھتے کو گردوارہ دربار صاحب روانہ کریں گے۔کرتار پور کوریڈور کے کھلنے کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان امن مذاکرات دوبارہ شروع ہونے کے امکان کے بارے میں پوچھے جانے پربھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ ہم نے کبھی نہیں کہا کہ اس کوریڈور کے کھلنے سے امن مذاکرات دوبارہ شروع ہوں گے۔ بھارت کا موقف بالکل واضح ہے کہ پاکستان اپنے کنٹرول والے علاقوں میں دہشت گردوں کے خلاف معتبر کارروائی کرے اور دہشت گردی کے ڈھانچے کو تباہ کرے تبھی دہشت گردی سے پاک ماحول میں باہمی بات چیت شروع ہوسکتی ہے۔

تحریر :جاوید اختر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Next Post

کرتارپور راہداری: سکھ یاتریوں کے لیے خصوصی رعایتیں

ہفتہ نومبر 9 , 2019
Share on Facebook Tweet it Share on Google Email کرتارپور راہداری کا افتتاح آج ہوگا جس کے تحت انڈیا سے پاکستان آنے والے سِکھ یاتری کرتاپور گورو دوارہ آ سکیں گے ۔پاکستان کے دفترِ خارجہ نے اپنے ایک بیان کی وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان نے گرونانک کی […]

چیف ایڈیٹر

سید ممتاز احمد

قارئین اور ناظرین کو لمحہ لمحہ باخبر رکھنے کے لئے” مشرق “ویب سائٹ اور” مشرق“ ٹی وی کااجراءکیاگیا ہے۔روزنامہ” مشرق“ کا قیام1962ءمیں عمل میں آیا تھا ۔یہ اخبار پاکستان کی جدید صحافت کے علمبردار آئین کی بالادستی ،جمہوری قدروں کے فروغ اور انسانی حقوق کے تحفظ کاعلم بلند کرنے کے عزم کے ساتھ دنیائے صحافت میں آیا تھا ۔ ”مشرق “نے جدید تقاضوں کے مطابق اپنے قارئین اور دنیا بھر میں پاکستانیوں کو باخبر رکھنے کے لئے ویب سائٹ اور ویب ٹی وی کا جناب سید ممتاز احمد شاہ چیف ایڈیٹر مشرق گروپ آف نیوزپیپرز کی نگرانی میں اجراءکیاہے ۔یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ اقلیم صحافت کے درخشندہ ستارے سید ممتاز احمد کا شمار پاکستانی صحافت کے اکابرین میں ہوتا ہے۔زندگی بھر قلم وقرطاس اور پرنٹ میڈیا ہی ان کا اوڑھنا بچھونا رہا۔سید ممتاز احمد شاہ نے آج سے 50 برس قبل صحافت جیسی وادی ¿ پرخار میںقدم رکھا۔ضیائی مارشل لا کے دور میں کئی مراحل آئے جب قلم اور قرطاس سے رشتہ برقرار اور استوار رکھنا انتہائی جانگسل ہوچکا تھا لیکن وہ کٹھن اور دشوار گزار راستوں پر سے گزرتے رہے لیکن ان کے پایہ¿ استقلال میں کبھی لغزش دیکھنے سننے میں نہیں آئی۔ واضح رہے کہ سید ممتاز احمد نے ملک کے اہم ترین انگریزی اخبار ”ڈان“ ”جنگ“ ”دی نیوز“ اور روزنامہ ”مشرق“ میں اپنی گراں قدر خدمات انجام دی ہیں۔ اور ان کا مشرق کے ساتھ صحافت کا سفر جاری ہے۔