کرتارپور راہداری: سروس فیس پربھارت کا اتفاق

اسلام آباد: کشمیر کے حوالے سے پاکستان اور بھارت کے مابین پائی جانے والی کشیدگی کے باجود دونوں ممالک سکھ یاتریوں کے لیے ویزا فری کرتار پور راہداری کے انتظام کے حوالے سے معاہدہ کرنے کے لیے تیار ہیں۔مشرق نیوز کے مطابق ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر محمد فیصل نے اس بات کی تصدیق کی کہ دونوں ممالک کے درمیان مسودے پر اتفاق ہوگیا ہے جس پر جلد دستخط کردیے جائیں گے اور سمجھوتے پر دستخط کی تاریخ کے تعین کے کام ہورہا ہے۔اس سے قبل بھارتی وزارت خارجہ (ایم ای اے) نے میڈیا کو جاری کردہ ایک بیان میں کہا تھا کہ ’بھارتی حکومت نے 23 اکتوبر 2019 کو کرتار پور صاحب راہداری کے سمجھوتے پر دستخط کرنے کی آمادگی ظاہر کی ہے‘۔خیال رہے کہ مذکورہ سمجھوتے کی تفصیلات پر رواں برس مارچ سے مذاکرات کیے جارہے تھے اور بات چیت کا پہلا دور اٹاری واہگہ بارڈر پر بھارتی مقام میں 14 مارچ کو منعقد ہوا تھا۔عہدیداروں کی سطح پر مذاکرات کے 3 اداوار کے ساتھ ساتھ دونوں فریقین کے مابین منصوبے کے تکنیکی پہلوو¿ں پر غور کرنے کے لیے ماہرین پر مشتمل اجلاس بھی ہوئے تھے۔دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کے دوران مختلف امور پر اختلاف پایا گیا جس میں یاتریوں کی تعداد، راہداری کھلے رہنے کی مدت اور پاکستان سکھ پربندھک کمیٹی (پی اسی جی پی سی) میں شامل اراکین کا معاملہ بھی شامل تھا۔اختلاف کا آخری نقطہ پاکستان کی جانب سے راہداری استعمال کرنے والے ہر سکھ یاتری سے 20 ڈالر فیس لینے کا فیصلہ بھی تھا جو ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق اب حل ہوچکا ہے۔تاہم بھارتی وزارت خارجہ اس فیس کے حوالے سے معترض نظر آئی اور پاکستان پر زور دیا کہ اس فیصلے پر نظر ثانی کی جائے۔بھارتی وزارت خارجہ کا کہنا تھا کہ ’یہ مایوس کن بات ہے کہ جب پاکستان اور بھارت کے درمیان یاتریوں کو زیادہ سے زیادہ سہولیات فراہم کرنے پر اتفاق ہوگیا تھا اس کے باوجود پاکستان فی یاتری 20 ڈالر فیس نافذ کرنے پر مصر ہے‘۔دوسری جانب بھارت کے سکھ رہنماو¿ں نے بھی ویزا فیس پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے اسے ’شرمناک‘ قرار یا اور کہا کہ پاکستانی حکومت ’عقیدے کا کاروبار‘ کررہی ہے اور فیس کو اپنی ’ معیشت بہتر بنانے‘ کے لیے استعمال کررہی ہے۔علاوہ ازیں بھارتی پنجاب وزیراعلیٰ امریندر سنگھ نے بھی سماجی روابط کی ویب سائٹ پر ٹوئٹ کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے 20 ڈالر فیس کا فیصلہ واپس لینے کی درخواست کی۔خیال رہے کہ کرتارپور گردوارے تک سکھ یاتریوں کو ویزا کے بغیر رسائی دینے والی راہداری کا افتتاح 12 نومبر کو گرو نانک کی 550ویں جنم دن کے پیشِ نظر 3 روز قبل 9 نومبر کو کیا جائے گا۔مذکورہ راہداری کے ذریعے تقریباً 5 ہزار سکھ یاتری روزانہ زیارت کے لیے کرتارپور صاحب آسکتے ہی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Next Post

بھارت آبی جارحیت کی طرف بڑھ رہا ہے،قریشی

منگل اکتوبر 22 , 2019
Share on Facebook Tweet it Share on Google Email اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک ) وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ بھارت خطے کے امن کو داو¿ پرلگانا چاہتا ہے۔وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ ہم نے اوآئی سی کو مسئلہ کشمیرپریکجا کیا، بھارت کی ساکھ دنیا میں […]

چیف ایڈیٹر

سید ممتاز احمد

قارئین اور ناظرین کو لمحہ لمحہ باخبر رکھنے کے لئے” مشرق “ویب سائٹ اور” مشرق“ ٹی وی کااجراءکیاگیا ہے۔روزنامہ” مشرق“ کا قیام1962ءمیں عمل میں آیا تھا ۔یہ اخبار پاکستان کی جدید صحافت کے علمبردار آئین کی بالادستی ،جمہوری قدروں کے فروغ اور انسانی حقوق کے تحفظ کاعلم بلند کرنے کے عزم کے ساتھ دنیائے صحافت میں آیا تھا ۔ ”مشرق “نے جدید تقاضوں کے مطابق اپنے قارئین اور دنیا بھر میں پاکستانیوں کو باخبر رکھنے کے لئے ویب سائٹ اور ویب ٹی وی کا جناب سید ممتاز احمد شاہ چیف ایڈیٹر مشرق گروپ آف نیوزپیپرز کی نگرانی میں اجراءکیاہے ۔یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ اقلیم صحافت کے درخشندہ ستارے سید ممتاز احمد کا شمار پاکستانی صحافت کے اکابرین میں ہوتا ہے۔زندگی بھر قلم وقرطاس اور پرنٹ میڈیا ہی ان کا اوڑھنا بچھونا رہا۔سید ممتاز احمد شاہ نے آج سے 50 برس قبل صحافت جیسی وادی ¿ پرخار میںقدم رکھا۔ضیائی مارشل لا کے دور میں کئی مراحل آئے جب قلم اور قرطاس سے رشتہ برقرار اور استوار رکھنا انتہائی جانگسل ہوچکا تھا لیکن وہ کٹھن اور دشوار گزار راستوں پر سے گزرتے رہے لیکن ان کے پایہ¿ استقلال میں کبھی لغزش دیکھنے سننے میں نہیں آئی۔ واضح رہے کہ سید ممتاز احمد نے ملک کے اہم ترین انگریزی اخبار ”ڈان“ ”جنگ“ ”دی نیوز“ اور روزنامہ ”مشرق“ میں اپنی گراں قدر خدمات انجام دی ہیں۔ اور ان کا مشرق کے ساتھ صحافت کا سفر جاری ہے۔