چین کی مدد سے پاکستان مشکل معاشی حالات سے نکل گیا،عمران خان

بیجنگ(مشرق نیوز) وزیراعظم عمران خان کی بیجنگ میں چینی صدرشی جن پنگ سے ملاقات ،دوطرفہ تعلقات، علاقائی صورتحال اور باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال ،وزیراعظم نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی جارحیت سے آگاہ کیا،وزیراعظم کے دفتر سے جاری بیان کے مطابق دونوں ممالک کے وفود کے ہمراہ ہونےوالی ملاقات میں وزیر اعظم نے اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 74 ویں اجلاس میں مسئلہ کشمیر پر پیش کردہ موقف پر چینی صدر کا شکریہ ادا کیاانہوں نے بالخصوص چینی وزیر خارجہ وانگ ژی کے موقف کا تذکرہ کیا جو انہوں نے اقوامِ متحدہ میں پیش کیا اور کہا آپ نے ہر جگہ اور ہر مشکل میں پاکستان کا ساتھ دیا،عمران خان نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی جارحیت سے آگاہ کرتے ہوئے کہا 2ماہ سے لاکھوں کشمیریوں کے مسلسل لاک ڈاون نے انسانیت سوز صورتحال پیدا کر رکھی ہے،خطے میں امن و سلامتی کے خطرات سے بچنے کیلئے فوری طور پرکرفیو اٹھانا ہوگا،وزیراعظم نے چینی صدر کو پاکستان کی موجودہ صورتحال سے آگاہ کرتے ہوئے کہا پاکستان سخت ترین معاشی حالات سے نکل گیا اور اس سلسلے میں چین نے جو مالی تعاون کیا اس کو کبھی فراموش نہیں کریں گے،وزیر اعظم نے مزید کہا چین نے حمایت فراہم کرنے کےلئے کبھی ہمارے قومی مفاد کےخلاف کسی چیز کا مطالبہ نہیں کیا اور ہماری غیر مشروط مدد کی،چین نے پاکستان کو سخت معاشی حالات سے باہر آنے کا موقع فراہم کیا اس کےساتھ وزیراعظم نے پاک چین اقتصادی راہداری کے تحت فراہم کیے گئے تعاون کو سراہا،وزیراعظم عمران خان نے چینی صدر کو چین کی آزادی کے 70 سال مکمل ہونے پر مبارکباد پیش کی اور کہا پاکستان ،چین کی دوستی سدا بہار ہے، وزیراعظم نے بھرپور خیر مقدم کرنے پر بھی صدر شی جنگ پنگ کا شکریہ ادا کیا،دوران ملاقات چینی صدر نے اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان اور چین کے تعلقات کے حوالے سے بات کرنے پر وزیراعظم کی تعریف کی اور کہادونوں ممالک کے قریبی دوستانہ تعلقات ہیں جو مختلف شعبوں میں ایک دوسرے کےساتھ تعاون بھی کرتے ہیں ،صدرشی جن پنگ نے پاکستان کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کےلئے بھرپور تعاون کے عزم کا اظہار کیا،قبل ازیں صدر شی جنگ پنگ نے وزیراعظم عمران خان اور ان کے وفد کا گرمجوشی سے استقبال کیا،وزیر اعظم عمران خان اور چینی صدر شی جنگ پنگ کے درمیان ہونے والی ملاقات کے بعد جاری کردہ اعلامیے کے مطابق چینی صدر نے وزیراعظم عمران خان اور وفد کے اعزاز میں ظہرانہ دیا، آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے علاوہ وزیرخارجہ، وزیر منصوبہ بندی، وزیرریلوے، مشیر تجارت اور ڈی جی آئی ایس آئی بھی وزیراعظم کے ہمراہ تھے، دونوں رہنماﺅں نے خوشگوار ماحول میں دوطرفہ تعلقات، خطے کی صورتحال اور بین الاقوامی مسائل پر تبادلہ خیال کیا، دونوں رہنماو¿ں نے باہمی تعلقات مزید مضبوط اور اور وسیع تر کرنے پر اتفاق کیا،ملاقات کے دوران وزیراعظم عمران خان نے چینی صدر کو مقبوضہ کشمیر میں بھارتی جارحیت سے آگاہ کیا اور کہا مقبوضہ وادی میں انسانی حقوق کی بدترین پامالی کی جارہی ہے، 2ماہ سے لاکھوں کشمیریوں کے مسلسل لاک ڈاون نے انسانیت سوز صورتحال پیدا کر رکھی ہے، خطے میں امن کےلئے مقبوضہ کشمیر سے کرفیو فوری ہٹایا جائے،وزیر اعظم نے کہا چین پاکستان کا آئرن برادر، ثابت قدم اتحادی اور شراکت دار ہے، چین نے ہمیشہ قومی مفادات پر پاکستان کا بھرپور ساتھ دیا، پاکستان چینی مفادات پراس کی بھرپور حمایت کرتا رہے گا، چین پاکستان کی اقتصادی ترقی اور اہداف کے حصول میں اہم کردار ادا کررہا ہے، چینی صدر کا بیلٹ اینڈ روڈ منصوبہ پاکستان و خطے کی اقتصادی صورتحال میں تبدیلی اور خوشحالی لائے گا، سی پیک منصوبوں کی بروقت تکمیل حکومت کی ترجیح ہے،اس موقع پر چینی صدر نے کہا چین کے پاکستان کےساتھ تعلقات مضبوط اور مستحکم ہیں،مستقبل میں پاک چین تعلقات مزید گہرے و مضبوط ہوں گے ، پاکستان کی خودمختاری اورعلاقائی سلامتی کےلئے غیرمتزلزل حمایت جاری رکھیں گے، انہوں نے سماجی و معاشی ترقی پر مبنی حکومتی ایجنڈے اور سی پیک منصوبوں میں تیزی لانے پر پاکستان کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہاسی پیک منصوبے سے قومی و علاقائی معاشی ترقی کے عمل میں مدد ملے گی، معاشی اصلاحات کے ذریعے پاکستان مستحکم معاشی ترقی کی راہ پر گامزن ہے ، چینی صدر نے دہشتگردی کےخلاف جنگ میں پاکستانی کوششوں کی تعریف کی اورکہا معاشی اصلاحات کے ذریعے پاکستان مستحکم معاشی ترقی کی راہ پر گامزن ہے،مستحکم افغانستان کے خطے کی معاشی ترقی میں کردار پر دونوں رہنماﺅں نے اتفاق کیا اور افغانستان میں قیام امن کےلئے مزید حمایت جاری رکھنے پر بھی اتفاق کیا ، پاکستان اور چین کے مابین مختلف شعبوں میں تعاون پر اظہار اطمینان اور دونوں ممالک کے مابین اعلیٓ سطحی روابط کے مزید فروغ پر بھی دونوں رہنماﺅں نے مہر تصدیق ثبت کردی،دریں اثناءوزیراعظم عمران خان نے چین کے چیئرمین نیشنل کانگریس لی ژان شو سے ملاقات کی جس میں وزیراعظم نے چین کی 70ویں سالگرہ پر ان کو مبارکباد دی، اس موقع پر عمران خان نے گفتگو کرتے ہوئے کہا پاکستان اور چین قریبی دوست و ثابت قدم پارٹنر ہیں اور چین کی گزشتہ عشروں کی اقتصادی ترقی بہت ہی متاثر کن ہے، ہم پاکستان میں غربت کے خاتمے کےلئے چین کے تجربات سے فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں، وزیراعظم عمران خان نے کہا سی پیک کی تکمیل میری حکومت کی ترجیح ہے، وزیراعظم نے لی ژان شو کے سامنے کشمیر کا مقدمہ رکھتے ہوئے کہا مقبوضہ وادی میں بھارت کے غیر قانونی اقدامات نے سنگین صورتحال پیدا کر دی لہٰذا مقبوضہ علاقوں سے 2 ماہ کے طویل کرفیو کو فوری ہٹانے کی ضرورت ہے، اس ضمن میں چین اپنا بہترین کردار ادا کر سکتا ہے، وزیراعظم نے کہا بھارت کے غیر قانونی اقدامات سے خطے میں امن و استحکام کیلئے خطرات پیدا ہوئے ہیں اس موقع پر چیئرمین نیشنل پیپلز کانگریس نے وزیراعظم عمران خان کو یقین دہانی کراتے ہوئے کہا چین پاکستان کے اہم قومی مفاد میں کشمیر پر حمایت جاری رکھے گا اور مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے پاکستان سے ہرممکن تعاون کریں گے ،دوسری جانب وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے بیجنگ میں وزیر اعظم عمران خان کے دورہ چین کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا 5 اگست کو بھارت کی جانب سے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے اقدام کے بعد 6 اگست کو مشترکہ حکمت عملی سے آگے بڑھے تھے،جنیوا میں جب ہیومن رائٹس کونسل کا اجلاس ہوا تو اس میں بھی ہماری مشترکہ حکمت عملی تھی،شاہ محمود قریشی نے کہا حال ہی میں اقوام متحدہ جنرل اسمبلی میں جہاں پاکستان نے مقبوضہ جموں و کشمیر کے حوالے سے اپنا نقطہ نظر پیش کیا وہاں چین کے سٹیٹ قونصلر اور وزیر خارجہ وانگ ژی نے بھی کشمیر کے حوالے سے بات کی اور تشویش کا اظہار کیا،وزیر خارجہ نے کہا مسئلہ کشمیر کے حوالے سے چین کی بہت واضح پوزیشن ہے اور انہوں نے ہماری تاریخی پوزیشن کو اپنایا ہوا ہے،صدر شی جنگ پنگ مختصر غیر رسمی دورے پر بھارت جا رہے ہیں چنانچہ دو طرفہ خواہش تھی اس حوالے سے ایک دوسرے کو اعتماد میں لیا جائے جبکہ دورہ مکمل ہونے کے بعد بھی ہمارا رابطہ ہو گا اور وہ ہمیں باخبر رکھیں گے،وزیر خارجہ نے کہا وزیر اعظم عمران خان کا 13 ماہ کے عرصے میں چین کا تیسرا دورہ ہے ہماری خواہش ہے جس طرح انہوں نے مہمان نوازی کی ہے انہیں بھی پاکستان آنے کی دعوت دی جائے،انہوں نے مزید کہاہماری چینی وزیر اعظم کےساتھ 2 ملاقاتیں ہوئیں اور وفود کی سطح پر بھی مذاکرات ہوئے جن میں تجارتی و اقتصادی تعاون کے فروغ اور سی پیک کے حوالے سے تفصیلی گفتگو کی گئی،انہوں نے کہادو طرفہ اقتصادی تعاون کو مزید بہتر بنانے کے حوالے سے بھی بات چیت کی اور متعدد مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے،شاہ محمود قریشی نے کہاپانی کےلئے ایک ڈی سیلینیشن پلانٹ لگانے کا فیصلہ کیا گیا ہے جس سے گوادر بھی مستفید ہو گا جبکہ تعلیم کے شعبے، معذور افراد کی فلاح و بہود و منشیات کی روک تھام کےلئے مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے گئے،

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Next Post

سری لنکا کی بی ٹیم نے شاہینوں پر سفیدی پھیر دی،سیریز0-3 سے جیت لی

بدھ اکتوبر 9 , 2019
Share on Facebook Tweet it Share on Google Email لاہور(سپورٹس رپورٹر)سری لنکا کی بی ٹیم نے شاہینوں پر سفیدی پھیر دی،سیریز 3-0سے جیت لی ،عالمی رینکنگ میں 8ویں نمبر پر براجمان آئی لینڈرز نے نمبر ون ٹیم کو بیٹنگ ،باﺅلنگ اور فیلڈنگ میں آﺅٹ کلاس کردیا،تفصیلات کے مطابق قومی ٹیم […]

چیف ایڈیٹر

سید ممتاز احمد

قارئین اور ناظرین کو لمحہ لمحہ باخبر رکھنے کے لئے” مشرق “ویب سائٹ اور” مشرق“ ٹی وی کااجراءکیاگیا ہے۔روزنامہ” مشرق“ کا قیام1962ءمیں عمل میں آیا تھا ۔یہ اخبار پاکستان کی جدید صحافت کے علمبردار آئین کی بالادستی ،جمہوری قدروں کے فروغ اور انسانی حقوق کے تحفظ کاعلم بلند کرنے کے عزم کے ساتھ دنیائے صحافت میں آیا تھا ۔ ”مشرق “نے جدید تقاضوں کے مطابق اپنے قارئین اور دنیا بھر میں پاکستانیوں کو باخبر رکھنے کے لئے ویب سائٹ اور ویب ٹی وی کا جناب سید ممتاز احمد شاہ چیف ایڈیٹر مشرق گروپ آف نیوزپیپرز کی نگرانی میں اجراءکیاہے ۔یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ اقلیم صحافت کے درخشندہ ستارے سید ممتاز احمد کا شمار پاکستانی صحافت کے اکابرین میں ہوتا ہے۔زندگی بھر قلم وقرطاس اور پرنٹ میڈیا ہی ان کا اوڑھنا بچھونا رہا۔سید ممتاز احمد شاہ نے آج سے 50 برس قبل صحافت جیسی وادی ¿ پرخار میںقدم رکھا۔ضیائی مارشل لا کے دور میں کئی مراحل آئے جب قلم اور قرطاس سے رشتہ برقرار اور استوار رکھنا انتہائی جانگسل ہوچکا تھا لیکن وہ کٹھن اور دشوار گزار راستوں پر سے گزرتے رہے لیکن ان کے پایہ¿ استقلال میں کبھی لغزش دیکھنے سننے میں نہیں آئی۔ واضح رہے کہ سید ممتاز احمد نے ملک کے اہم ترین انگریزی اخبار ”ڈان“ ”جنگ“ ”دی نیوز“ اور روزنامہ ”مشرق“ میں اپنی گراں قدر خدمات انجام دی ہیں۔ اور ان کا مشرق کے ساتھ صحافت کا سفر جاری ہے۔