پی پی رہنما خورشید شاہ گرفتار، آمدن سے زائد اثاثے بنانے کا الزام

3

راولپنڈی: قومی احتساب بیورو (نیب) نے آمدن سے زائد اثاثوں کے کیس میں پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما سید خورشید شاہ کو گرفتار کر لیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق نیب ذرائع کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی کے رہنما خورشید شاہ کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ ان کی یہ گرفتاری آمدن سے زائد اثاثوں کے کیس میں عمل میں آئی ہے۔

یاد رہے کہ چند ماہ قبل چیئرمین نیب جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال کے زیر صدارت ہونے والے اعلیٰ سطح اجلاس میں پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما خورشید شاہ کے خلاف انکوائری کی منظوری دی گئی تھی۔ خورشید شاہ کیخلاف 7 اگست سے تحقیقات کا آغاز ہوا تھا۔ ذرائع کے مطابق خورشید شاہ کیخلاف ابتدائی تحقیقات میں تمام الزامات ثابت ہوئے، اب گرفتاری کے بعد ان سے مزید تفتیش کی جائے گی۔ نیب راولپنڈی اور سکھر کی ٹیم نے مشترکہ کارروائی کرکے خورشید شاہ کو گرفتار کیا۔

نیب ذرائع کا کہنا ہے کہ خورشید شاہ نے ہوٹل، پٹرول پمپس اور بنگلے فرنٹ مین اور بے نامی داروں کے ناموں پر بنائے۔ انہوں نے کوآپریٹو سوسائٹی میں بنگلے کیلئے پلاٹ غیر قانونی طور پر نام کرائے۔ انھیں ریمانڈ کیلئے کل عدالت میں پیش کیا جائے گا اور راہداری ریمانڈ لے کر خورشید شاہ کو سکھر منتقل کیا جائے گا۔

سابق اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ کیخلاف بینک اکاؤنٹس اور بے نامی جائیدادوں کی تفصیلات جاری ‏کر دی گئی ہیں جس کے مطابق خورشید شاہ نے اعجاز کے نام سے سکھر اور روہڑی میں دو جائیدادیں بنا رکھی ہیں۔

اس کے علاوہ ‏خورشید شاہ نے لڈو مل کے نام پر 11 اور آفتاب حسین سومرو کے نام پر 10 جائیدادیں بنا رکھی ہیں۔ خورشید شاہ نے مبینہ فرنٹ مین کیلئے کارڈیو ہسپتال سے متصل ڈیڑھ ایکڑ اراضی نرسری کیلئے الاٹ کرائی۔ ‏خورشید شاہ کی بے نامی جائیدادوں میں ایک شخص عمر جان کا بھی اہم کردار ہے۔

پیپلز پارٹی کی جانب سے خورشید شاہ کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کی گئی ہے۔ سندھ کے وزیر اطلاعات مرتضیٰ وہاب کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ جس کا تعلق پیپلز پارٹی سے ہو، اسے گرفتار کر لیا جاتا ہے۔ پرویز خٹک، محمود خان اور وزیراعظم کیخلاف ہیلی کاپٹر کیس میں ایسی کارروائی نظر نہیں آتی۔ احتساب میں دہرا معیار نہیں ہونا چاہیے۔

وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی جانب سے بھی کہا گیا ہے کہ میں خورشید شاہ کی گرفتاری کی شدید مذمت کرتا ہوں، وہ کہیں بھاگ نہیں رہے تھے۔

خورشید شاہ کے ملازمین نے میڈیا سے گفتگو میں بتایا کہ نیب افسران سمیت 20 سے 25 اہلکار گھر میں بلا اجازت داخل ہوئے۔ اس وقت خورشید شاہ کے برادر نسبتی اور ان کی اہلیہ بھی موجود تھیں۔ نیب اہلکاروں نے گھر میں موجود افراد کو اپنی جگہ سے ہلنے بھی نہیں دیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Next Post

زلمی گلگت بلتستان گرلز فٹبال لیگ چپرسن کی فتح کیساتھ اختتام پذیر

جمعرات ستمبر 19 , 2019
Share on Facebook Tweet it Share on Google Email گلگت: زلمی گلگت بلتستان گرلز فٹبال لیگ چپرسن کی فتح کےساتھ اختتام پذیر ہوگئی۔ سنسنی خیز فائنل میں چپرسن نے شمشال کو پینلٹی ککس پر ہرا دیا۔ پاکستان سپر لیگ کی نمبرون فرنچائز پشاور زلمی کے اشتراک سے ہونیوالی زلمی گلگت […]

چیف ایڈیٹر

سید ممتاز احمد

قارئین اور ناظرین کو لمحہ لمحہ باخبر رکھنے کے لئے” مشرق “ویب سائٹ اور” مشرق“ ٹی وی کااجراءکیاگیا ہے۔روزنامہ” مشرق“ کا قیام1962ءمیں عمل میں آیا تھا ۔یہ اخبار پاکستان کی جدید صحافت کے علمبردار آئین کی بالادستی ،جمہوری قدروں کے فروغ اور انسانی حقوق کے تحفظ کاعلم بلند کرنے کے عزم کے ساتھ دنیائے صحافت میں آیا تھا ۔ ”مشرق “نے جدید تقاضوں کے مطابق اپنے قارئین اور دنیا بھر میں پاکستانیوں کو باخبر رکھنے کے لئے ویب سائٹ اور ویب ٹی وی کا جناب سید ممتاز احمد شاہ چیف ایڈیٹر مشرق گروپ آف نیوزپیپرز کی نگرانی میں اجراءکیاہے ۔یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ اقلیم صحافت کے درخشندہ ستارے سید ممتاز احمد کا شمار پاکستانی صحافت کے اکابرین میں ہوتا ہے۔زندگی بھر قلم وقرطاس اور پرنٹ میڈیا ہی ان کا اوڑھنا بچھونا رہا۔سید ممتاز احمد شاہ نے آج سے 50 برس قبل صحافت جیسی وادی ¿ پرخار میںقدم رکھا۔ضیائی مارشل لا کے دور میں کئی مراحل آئے جب قلم اور قرطاس سے رشتہ برقرار اور استوار رکھنا انتہائی جانگسل ہوچکا تھا لیکن وہ کٹھن اور دشوار گزار راستوں پر سے گزرتے رہے لیکن ان کے پایہ¿ استقلال میں کبھی لغزش دیکھنے سننے میں نہیں آئی۔ واضح رہے کہ سید ممتاز احمد نے ملک کے اہم ترین انگریزی اخبار ”ڈان“ ”جنگ“ ”دی نیوز“ اور روزنامہ ”مشرق“ میں اپنی گراں قدر خدمات انجام دی ہیں۔ اور ان کا مشرق کے ساتھ صحافت کا سفر جاری ہے۔