پیرس پولیس نے مہاجرین کے دو غیر قانونی کیمپ زبردستی خالی کرا لیے

پیرس (مشرق نیوز)فرانسیسی پولیس نے تارکین وطن کے دو ایسے غیر قانونی کیمپ زبردستی خالی کرا لیے ہیں، جن میں سے ایک پیرس میں اور دوسرا ملکی دارالحکومت کے مضافات میں تھا۔ ان ’خیمہ بستیوں‘ کے سولہ سو سے زائد تارکین وطن کو بے دخل کر دیا گیا۔نیوز ایجنسی روئٹرز نے لکھا ہے کہ فرانسیسی دارالحکومت میں ڈیڑھ ہزار سے زائد تارکین وطن نے یہ کیمپ غیر قانونی طور پر اور ‘خیموں سے بنائی گئی بستیوں‘ کے طور پر قائم کر رکھے تھے۔ پناہ کے متلاشی مہاجرین کی یہ ‘ناجائز خیمہ بستیاں‘ ملکی حکومت کے اس اعلان کے محض ایک دن بعد خالی کرا لی گئیں، جس میں کہا گہا تھا کہ فرانس کی تارکین وطن سے متعلق پالیسیاں اب سخت تر بنا دی جائیں گی۔آج جمعرات سات نومبر کو ختم کر دیے گئے ان غیر قانونی مہاجر کمیپوں میں سے ایک تو پیرس شہر کے شمال میں قائم کیا گیا تھا اور دوسرا شہر کے ایک مضافاتی علاقے سینیٹ ڈینیس میں۔ میڈیا ادارے ‘فرانس انفو‘ نے بتایا کہ ان کیمپوں میں 1600 سے زائد تارکین وطن بلااجازت لگائے گئے اپنے خیموں میں بہت تکلیف دہ اور انسانی وقار کے منافی حالات میں رہ رہے تھے۔’فرانس انفو‘ کے مطابق یہ دونوں کیمپ خالی کرائے جانے کے وقت وہاں درجنوں کی تعداد میں بسیں بھی تھیں، جن میں سوار کرا کر ان مہاجرین کو مختلف بڑے بڑے سپورٹس ہالوں میں پہنچا دیا گیا۔ کوئی زیادہ بہتر اور دیرپا انتظام ہونے تک ان ڈیڑھ ہزار سے زائد تارکین وطن کے لیے یہی ہال ہنگامی رہائش گاہوں کا کام دیں گے۔پیرس شہر کی نائب میئر ڈومینیک ویرسینی کے مطابق آج کی اس کارروائی سے قبل ان غیر قانونی کیمپوں کے سینکڑوں رہائشی اس لیے موقع سے غائب بھی ہو گئے تھے کہ وہ اپنے لیے حکومت کی مہیا کردہ سرکاری رہائش گاہوں کے خواہش مند نہیں تھے۔یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ان کیمپوں کے رہائشی غیر ملکیوں میں سے 15 سے لے کر 20 فیصد تک مکین ایسے مہاجرین تھے، جن کی فرانس میں پناہ کی درخواستیں منظور ہو چکی ہیں۔ مگر پناہ گزینوں کے طور پر منظور شدہ سرکاری حیثیت کے باوجود ان غیر ملکیوں کو رہنے کے لیے کوئی فلیٹ وغیرہ دستیاب نہیں ہو سکے تھے۔فرانس میں یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ پولیس نے مہاجرین اور تارکین وطن کا کوئی غیر قانونی کیمپ زبردستی خالی کرایا ہے۔ یہ سلسلہ 2015ئ میں شروع ہوا تھا اور مجموعی طور پر یہ ایسے غیر قانونی کیمپوں کے خاتمے کی پولیس کی طرف سے کی گئی 59 ویں کارروائی تھی۔جنگل کیمپ کی بندش کے بعد پیرس کی سڑکوں پر رہنے والے مہاجرین کی تعداد میں ایک تہائی اضافہ ہوا ہے۔پیرس میں ملکی وزیر داخلہ کرسٹوف کاستانر نے کل بدھ چھ نومبر کو اعلان کیا تھا کہ پورے ملک میں تارکین وطن کے قائم کردہ تمام غیر قانونی کیمپ اگلے ماہ کے آخر تک ختم کر دیے جائیں گے۔کاستانر نے تارکین وطن سے متعلق جن زیادہ سخت حکومتی پالیسیوں کا اعلان کیا تھا، ان میں یہ بھی شامل ہے کہ آئندہ پناہ کی درخواست دینے والے کسی بھی غیر ملکی کو صحت کے قومی نظام تک رسائی فوراًنہیں بلکہ تین ماہ بعد حاصل ہو سکے گی۔اس کے علاوہ پناہ کی درخواستوں پر کارروائی اور فیصلے کیے جانے تک کی مدت بھی نہ صرف مختصر کر دی جائے گی بلکہ آئندہ ناکام درخواست دہندگان کو تیز رفتاری سے ملک بدر بھی کیا جا سکے گا۔ اس بارے میں فرانسیسی وزیر اعظم ایڈوآرڈ فیلیپ نے کہا تھا کہ ‘تارکین وطن کے حوالے سے حقوق و فرائض میں توازن‘ انتہائی لازمی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Next Post

مائیک پومپیو'منقسم‘ پیغامات کے ساتھ جرمنی میں

جمعہ نومبر 8 , 2019
Share on Facebook Tweet it Share on Google Email جرمنی (مشرق نیوز)امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو دیوار برلن کے انہدام کے تیس برس پورے ہونے کے موقع پر منقعد ہونے والی تقریبات میں شرکت کی خاطر جرمنی کے دورے پر ہیں۔ وہ سرد جنگ کے دور میں جرمنی میں تعینات […]

چیف ایڈیٹر

سید ممتاز احمد

قارئین اور ناظرین کو لمحہ لمحہ باخبر رکھنے کے لئے” مشرق “ویب سائٹ اور” مشرق“ ٹی وی کااجراءکیاگیا ہے۔روزنامہ” مشرق“ کا قیام1962ءمیں عمل میں آیا تھا ۔یہ اخبار پاکستان کی جدید صحافت کے علمبردار آئین کی بالادستی ،جمہوری قدروں کے فروغ اور انسانی حقوق کے تحفظ کاعلم بلند کرنے کے عزم کے ساتھ دنیائے صحافت میں آیا تھا ۔ ”مشرق “نے جدید تقاضوں کے مطابق اپنے قارئین اور دنیا بھر میں پاکستانیوں کو باخبر رکھنے کے لئے ویب سائٹ اور ویب ٹی وی کا جناب سید ممتاز احمد شاہ چیف ایڈیٹر مشرق گروپ آف نیوزپیپرز کی نگرانی میں اجراءکیاہے ۔یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ اقلیم صحافت کے درخشندہ ستارے سید ممتاز احمد کا شمار پاکستانی صحافت کے اکابرین میں ہوتا ہے۔زندگی بھر قلم وقرطاس اور پرنٹ میڈیا ہی ان کا اوڑھنا بچھونا رہا۔سید ممتاز احمد شاہ نے آج سے 50 برس قبل صحافت جیسی وادی ¿ پرخار میںقدم رکھا۔ضیائی مارشل لا کے دور میں کئی مراحل آئے جب قلم اور قرطاس سے رشتہ برقرار اور استوار رکھنا انتہائی جانگسل ہوچکا تھا لیکن وہ کٹھن اور دشوار گزار راستوں پر سے گزرتے رہے لیکن ان کے پایہ¿ استقلال میں کبھی لغزش دیکھنے سننے میں نہیں آئی۔ واضح رہے کہ سید ممتاز احمد نے ملک کے اہم ترین انگریزی اخبار ”ڈان“ ”جنگ“ ”دی نیوز“ اور روزنامہ ”مشرق“ میں اپنی گراں قدر خدمات انجام دی ہیں۔ اور ان کا مشرق کے ساتھ صحافت کا سفر جاری ہے۔