پولیس نے خود کو کیسے معاف کروایا؟

’میں نے اللہ کے واسطے ان پولیس والوں کو معاف کر دیا ہے جنھوں نے میرے زیر حراست بیٹے کو تشدد کر کے قتل کر دیا تھا۔‘یہ وہ اعلان تھا جو گذشتہ ہفتے 17 اکتوبر کو صلاح الدین کے والد محمد افضال نے گوجرانوالہ کے قریب اپنے گاو¿ں گورالی کی مسجد سے کیا۔ اس اعلان کے وقت پہلے سے ہی مسجد کے اندر اور باہر بڑی تعداد میں لوگ جمع تھے۔یاد رہے کہ گرفتاری سے قبل صلاح الدین کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھی جس میں انھیں اے ٹی ایم توڑتے اور اس دوران سی سی ٹی وی کیمرے کو دیکھ کر منھ چڑاتے ہوئے دیکھا جا سکتا تھا۔پولیس نے صلاح الدین کو رحیم یار خان سے حراست میں لیا تھا اور یکم ستمبر کو یہ بات سامنے آئی کہ وہ دورانِ حراست تشدد کے باعث ہلاک ہو گئے ہیں۔صلاح الدین کے والد نے اس وقت بتایا تھا ’ہمیں اطلاع دیے بغیر اس کا پوسٹ مارٹم کروایا گیا۔‘صلاح الدین کے والد محمد افضال کی درخواست پر متعلقہ تھانے کے ایس ایچ او، اے ایس آئی اور تقتیشی افسر کے خلاف قتل کا مقدمہ درج ہوا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ پولیس کو کیسے یہ نہیں پتا چلا کہ وہ کسی ذہنی معذور شخص سے بات کر رہے تھے۔صلاح الدین کے والد محمد افضال نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے تصدیق کی کہ عام معافی کا مسجد سے اعلان انھوں نے خود اپنی مرضی سے کیا تھا۔معافی نامے سے متعلق ان کا کہنا تھا کہ انھیں ایک دن لاہور کی کیمپ جیل سے ان کی جماعت کے امیر حافظ سعید کا پیغام موصول ہوا،افضال کے مطابق ’اس کے بعد مجھے جیل لے جایا گیا جہاں پر حافظ صاحب نے میرے سامنے تین آپشنز رکھے: آپ چاہیں تو پولیس اہلکار سزا بھگتنے کو تیار ہیں، اگر آپ دیت کا مطالبہ کریں تو وہ پیسے دینے کو تیار ہیں اور تیسرا آپشن یہ ہے کہ آپ اللہ کے واسطے ان پولیس اہکاروں کو معاف کر دیں۔‘صلاح الدین کے والد نے کہا کہ وہ حافظ صاحب کا بہت احترام کرتے ہیں کیونکہ وہ ان کی جماعت کے امیر بھی ہیں۔انھوں نے بتایا کہ: ’میں نے اللہ سے اجر حاصل کرنے کی خاطر ان پولیس اہلکاروں کو معاف کرنے کا فیصلہ کیا جس میں میرے ساتھ باقی گھر والوں کی رائے بھی شامل تھی۔‘راضی نامے والے دن یہ اعلان بھی کیا گیا کہ صلاح الدین کے گاو¿ں گورالی میں سوئی گیس کی فراہمی، سکول اور رابطہ سڑک کی تعمیر کے منصوبے جلد مکمل کر لیے جائیں گے۔محمد افضال کے مطابق گاو¿ں میں تین منصوبوں کا معافی سے تعلق نہیں ہے اور ’یہ اپنے طور پر راضی نامے والے دن علاقے کے لوگوں کے سامنے انتظامیہ کے افسران نے اعلان کیا تھا۔‘ان کا کہنا تھا کہ اس سے قبل ان منصوبوں کا وعدہ گورنر پنجاب محمد سرور نے اس دن کیا تھا جب وہ صلاح الدین کی تعزیت کے لیے ان کے گاو¿ں آئے تھے۔پولیس نے صلاح الدین کو رحیم یار خان سے حراست میں لیا تھا اور یکم ستمبر کو یہ بات سامنے آئی کہ وہ دورانِ حراست تشدد کے باعث ہلاک ہو گئے ہیں لواحقین کا دعویٰ ہے کہ صلاح الدین ذہنی مریض تھے جو ہمیشہ اِدھر ا±دھر گھومتے رہتے تھے۔دوسری جانب پولیس نے صلاح الدین پر الزام عائد کیا تھا کہ انھوں نے اے ٹی ایم کارڈ چرائے تھے۔
صلاح الدین کے والد محمد افضال نے مو¿قف اختیار کیا تھا کہ انھوں نے اپنے بیٹے کے بازو پر نام اور گھر کا پتا کندہ کروایا ہوا تھا۔اس گرفتاری کے بعد رحیم یار خان کے تھانہ سٹی اے ڈویڑن کے ایس ایچ او محمود الحسن نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ 30 اگست کو شاہی روڈ پر واقع نجی بینک کے مینیجر نے شکایت درج کروائی تھی کہ ان کی برانچ کی اے ٹی ایم مشین توڑی گئی ہے۔اگلے دن شہریوں نے ریلوے سٹیشن پر صلاح الدین کو شور شرابہ کرتے ہوئے پہچان لیا کہ یہ وہی شخص ہے جس کی ویڈیو وائرل ہوئی ہے اور انھیں پولیس کے حوالے کیا گیا۔صلاح الدین کی ایک اور ویڈیو بھی منظر عام پر آئی تھی جس کے بارے میں کہا گیا تھا کہ یہ صلاح الدین سے پوچھ گچھ کی ویڈیو ہے۔اس ویڈیو میں سوال کرنے والا پوچھتا ہے کہ ’تم نے اشاروں کی زبان کس طرح سیکھی ہے تو صلاح الدین سوال کرنے والے سے کہتے ہیں کہ ’ایک سوال پوچھوں؟ مارو گے تو نہیں؟ یہ بتائیں کہ آپ نے مارنا کہاں سے سیکھا ہے۔‘صلاح الدین کے چچا محمد اعجاز نے بی بی سی کو بتایا کہ ایک محکمے کے کچھ لوگ ان کے بھائی کے گھر آئے تھے جس کے بعد حافظ سعید سے ملاقات کروائی گئی اور پھر ان کے کہنے پر راضی نامہ ہو گیا۔ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ وہ خود راضی نامے میں شریک نہیں ہو سکے تھے، تاہم انھیں فون پر تمام تفصیلات کا پتا چلا۔انھوں نے بھی تصدیق کی کہ صلاح الدین مقدمے میں راضی نامے والے دن ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل کا اعلان کیا گیا تھا جس پر علاقے کے لوگوں نے کہا کہ جو سڑک تعمیر ہو گی اس کا نام بھی صلاح الدین کے نام پر رکھا جائے گا۔رحیم یار خان پولیس کے ترجمان ارشد نواز نے بی بی سی کو بتایا کہ معافی کے بعد تینوں پولیس اہلکاروں کو آئی جی پنجاب نے بحال کر کے پولیس لائن رپورٹ کرنے کا کہا ہے۔بحال کیے جانے والوں میں ا±س وقت متعلقہ تھانے کے ایس ایچ او محمود الحسن اور دیگر دو پولیس اہلکار شفاقت علی اور مطلوب حسین شامل ہیں۔پولیس ترجمان کے مطابق یہ تینوں اہلکار ضمانت پر تھے اور ایک دن بھی ان کو جیل نہیں جانا پڑا۔
راضی نامے سے متعلق سوال پر ان کا کہنا تھا کہ وہ اس بارے میں کچھ نہیں کہنا چاہتے۔اس مقدمے کی پیروی کرنے والے ایک وکیل نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ دوران تفتیش ایک ایسی ویڈیو کے بارے میں پتا چلا ہے کہ جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ساڑھے چار بجے پولیس لاک اپ سے سادہ کپڑوں میں ملبوس تین افراد صلاح الدین کو ایک سفید ویگو گاڑی میں لے کر جاتے ہیں اور پھر رات نو بجکر 45 منٹ پر صلاح الدین کی لاش ہسپتال پہنچا دی جاتی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ صلاح الدین کے والد نے انھیں بتایا کہ اب وہ مزید اس مقدمے کی پیروی نہیں کر سکتے اور اب انھیں عدالت آنے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ حافظ سعید نے راضی نامے کے بارے میں جو کہا وہ انھیں بھی منظور ہے۔ویڈیو سے متعلق سوال پر پولیس ترجمان کا کہنا تھا کہ انھیں ایسی ویڈیو اور انکوائری کے عمل کے بارے میں کچھ معلوم نہیں ہے۔اس مقدمے کی انکوائری کرنے والے پنجاب پولیس کے ڈی آئی جی ذوالفقار حمید سے جب ویڈیو سے متعلق پوچھا گیا تو انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ انھوں نے اپنی انکوائری رپورٹ عدالت میں جمع کروا دی ہے، اب وہ اس کے بارے میں کوئی تبصرہ نہیں کریں گے، نہ ہی ان کا راضی نامے سے کوئی تعلق ہے۔اس مقدمے کی پیروی کرنے والے ایک وکیل حسان نیازی نے بی بی سی کو بتایا کہ انھیں اس راضی نامے میں شریک ہونے کا پیغام ملا لیکن انھوں نے یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ اقبالِ جرم سے قبل کسی کو معافی کیسے دی جا سکتی ہے۔ان کی رائے میں پہلے عدالت میں ملزم اپنا جرم تسلیم کریں اور پھر سزا، دیت یا معافی کا مرحلہ شروع ہوتا ہے۔حسان نیازی کا کہنا ہے کہ پولیس کی حتمی انکوائری رپورٹ سے قبل ہی راضی نامہ ہونا ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔ انھوں نے دعویٰ کیا کہ اس مقدمے کی ایف آئی آر درج ہونے سے قبل بھی صلاح الدین کے والد سے ایک محکمے کے کچھ افراد نے رابطہ کر کے مقدمہ درج نہ کرنے کا کہا، لیکن اس وقت وہ کسی دباو¿ میں نہیں آئے۔حسان نیازی نے الزام عائد کیا کہ اس واقعے کے حقائق کو چھپانے کے لیے یہ سب کیا جا رہا ہے اور راضی نامے کے لیے دباو¿ ڈالا گیا ہے۔ابتدائی دنوں میں رحیم یار خان کے ایک مقامی وکیل بشارت ہندل اس مقدمے میں عدالت کے سامنے پیش ہوتے تھے، تاہم بعد میں انھوں نے اس مقدمے کی پیروی سے انکار کردیا۔وکیل بشارت ہندل نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کو جب لگا کہ یہ کیس سیاسی بنتا جا رہا ہے تو انھوں نے اس سے علیحدگی اختیار کر لی تھی تاہم ان پر کسی نے کوئی دباو¿ نہیں ڈالا۔حسان نیازی کا کہنا ہے کہ وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے اس مقدمے میں جس عدالتی کمیشن کا اعلان کیا تھا وہ آج تک نہیں بن سکا ہے۔
انھوں نے مزید بتایا کہ وزیر اعلیٰ نے اس ٹرائل کو رحیم یار خان سے لاہور منتقل کرنے کا بھی وعدہ کیا تھا جو پورا نہ ہو سکا۔صلاح الدین کے والد کا کہنا ہے کہ پولیس کو کیسے یہ نہیں پتا چلا کہ وہ کسی ذہنی معذور شخص سے بات کر رہے تھے۔ یاد رہے کہ حکومتِ پنجاب نے لاہور ہائی کورٹ کو صلاح الدین کی موت کے واقعے کی تحقیقات کے لیے عدالتی کمیشن بنانے کے لیے خط لکھا تھا۔حسان نیازی کا کہنا ہے کہ اس کمیشن کے لیے کسی جج کی تقرری عمل میں نہیں لائی جا سکی۔حسان نیازی کے مطابق ان کے علم میں آیا کہ کسی سِول جج نے بھی اس واقعہ کی تحقیقات کی ہیں لیکن کوشش کے باوجود وہ انکوائری رپورٹ حاصل نہیں کرسکے۔صلاح الدین کے والد محمد افضال نے بتایا کہ یہ پولیس اہلکار پہلے سے ہی ضمانت پر تھے اور ان کا رحیم یار خان کی ایک ضلعی عدالت میں اس وقت ان سے آمنا سامنا ہوا جس دن وہ عدالت میں معافی نامے کا بیان ریکارڈ کروانے گئے تھے۔’جیسے ہی مجھے ان پولیس اہلکاروں نے دیکھا تو مجھ سے معافی مانگی اور پھر جب میں نے عدالت میں اپنا بیان ریکارڈ کروا دیا تو عدالت کے باہر بھی یہ اہلکار میرے پاس آئے اور دوبارہ معافی مانگی۔‘صلاح الدین کے والد کا کہنا ہے کہ ’میں نے ان پولیس اہلکاروں سے کہا کہ اگر آپ معافی نہ بھی مانگیں تو میں نے آپ کو معاف کر دیا ہے۔‘

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Next Post

عمران مولاناسے نہیں، لوگوں کی بھوک سے ڈریں

پیر اکتوبر 21 , 2019
Share on Facebook Tweet it Share on Google Email وزیر اعظم عمران خان نے متعدد ٹوئٹ پیغامات میں اپنی اقتصادی ٹیم کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ ایک سال کی مدت میں ہی ملکی معیشت کو درست راستے پر ڈال دیا گیا ہے۔ اس طرح سابقہ حکومتوں کی […]

چیف ایڈیٹر

سید ممتاز احمد

قارئین اور ناظرین کو لمحہ لمحہ باخبر رکھنے کے لئے” مشرق “ویب سائٹ اور” مشرق“ ٹی وی کااجراءکیاگیا ہے۔روزنامہ” مشرق“ کا قیام1962ءمیں عمل میں آیا تھا ۔یہ اخبار پاکستان کی جدید صحافت کے علمبردار آئین کی بالادستی ،جمہوری قدروں کے فروغ اور انسانی حقوق کے تحفظ کاعلم بلند کرنے کے عزم کے ساتھ دنیائے صحافت میں آیا تھا ۔ ”مشرق “نے جدید تقاضوں کے مطابق اپنے قارئین اور دنیا بھر میں پاکستانیوں کو باخبر رکھنے کے لئے ویب سائٹ اور ویب ٹی وی کا جناب سید ممتاز احمد شاہ چیف ایڈیٹر مشرق گروپ آف نیوزپیپرز کی نگرانی میں اجراءکیاہے ۔یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ اقلیم صحافت کے درخشندہ ستارے سید ممتاز احمد کا شمار پاکستانی صحافت کے اکابرین میں ہوتا ہے۔زندگی بھر قلم وقرطاس اور پرنٹ میڈیا ہی ان کا اوڑھنا بچھونا رہا۔سید ممتاز احمد شاہ نے آج سے 50 برس قبل صحافت جیسی وادی ¿ پرخار میںقدم رکھا۔ضیائی مارشل لا کے دور میں کئی مراحل آئے جب قلم اور قرطاس سے رشتہ برقرار اور استوار رکھنا انتہائی جانگسل ہوچکا تھا لیکن وہ کٹھن اور دشوار گزار راستوں پر سے گزرتے رہے لیکن ان کے پایہ¿ استقلال میں کبھی لغزش دیکھنے سننے میں نہیں آئی۔ واضح رہے کہ سید ممتاز احمد نے ملک کے اہم ترین انگریزی اخبار ”ڈان“ ”جنگ“ ”دی نیوز“ اور روزنامہ ”مشرق“ میں اپنی گراں قدر خدمات انجام دی ہیں۔ اور ان کا مشرق کے ساتھ صحافت کا سفر جاری ہے۔