پنجاب کی بیورو کریسی اور پولیس میں وسیع اکھاڑ پچھاڑ، 3 ڈی سیز، 8 ڈی پی اوز کے تقرر و تبادلے

لاہور (اپنے نمائندے سے ) پنجاب بیورو کریسی اور پولیس میں وسیع اکھاڑ پچھاڑ ،3ڈپٹی کمشنرز، 8 ڈی پی اوز اور ایک کمشنر کے تقرر و تبادلے کر دیئے گئے،ڈپٹی کمشنر سیالکوٹ ڈاکٹر احتشام انور کا 10 اکتوبر کو ڈپٹی کمشنر سیالکوٹ تبادلہ ہوا، حکومت نے تعیناتی کے ایک روز بعد پھر ڈپٹی کمشنر سیالکوٹ کو تبدیل کر دیا، ڈپٹی کمشنر ساہیوال زمان وٹو کا تبادلہ کر دیا گیا، ڈاکٹر احتشام کو ڈپٹی کمشنر ساہیوال تعینات کر دیا گیا،عمر شیر ڈپٹی سیکرٹری کیبنٹ ونگ کو بھی تبدیل کردیا گیا، عمر شیر چھٹہ ڈپٹی کمشنر سیالکوٹ بن گئے ،ایم علی کو ڈپٹی کمشنر فیصل آباد ،سیکرٹری اوقاف ذوالفقار گھمن کو تبدیل کر کے کمشنر گوجرانوالہ تعینات کر دیا گیا ،کمشنر گوجرانوالہ وقاص علی کو تبدیل کر کے ممبر سوشل انفرسٹرکچر پی اینڈ ڈی ،کیپٹن (ر) محمود سیکرٹری وائلڈ لائف کو تبدیل کر کے سیکرٹری اوقاف پنجاب بنادیاگیا،سیکرٹری کالونیز بورڈ آف ریونیو شاہد نیاز کو تبدیل کر کے ایس اینڈ جی اے ڈی میں رپورٹ کرنے کی ہدایت کردی گئی،زمان وٹو کو سیکرٹری کالونیز بورڈ آف ریونیو بنا دیا گیا ،عمر عباس میلہ کو ڈپٹی سیکرٹری خزانہ سے تبدیل کر کے ڈپٹی سیکرٹری کیبنٹ ونگ ،سرفراز خان ورک ڈی پی او بہاولپور بن گئے،وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کے رشتے دار امیر تیمور بزدار کو ڈی پی او بہاولپور سے تبدیل کر کے ڈی پی او رحیم یار خان تعینات کر دیا گیا ،وزیراعلیٰ کے سٹاف آفیسر اخلاق فاروق کو ڈی پی او وہاڑی ،ڈی پی او وہاڑی ثاقب سلطان الحمودکو سی پی او آفس رپورٹ کرنے کاحکم دےدیا گیا،ڈی پی او راجن پور ہارون الرشید خان کو عہدے سے ہٹا دیا گیا ،فیصل شہزاد ایس ایس پی اپریشنز لاہور بن گئے ،تمام تبادلوں سے متعلق حکومت پنجاب نے نوٹیفکیشن جاری کر دئیے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Next Post

نفرت کی سیاست،ایک بحران

اتوار اکتوبر 13 , 2019
Share on Facebook Tweet it Share on Google Email میں اس بات پر یقین کرنے کوتیارہوں کہ دعوو¿ں سے مسلمان ہونے کی بجائے مسلمانوں کی پہچان کے لیے بہت کچھ ہے۔ مذہبی وجود کومسلمانوں کے اتحاد کو اختیارکرکے ممکن بنایا جاسکتاہے جکہ ثقافت کے لئے لازمی جزو ہے۔ ضرورت اس […]

چیف ایڈیٹر

سید ممتاز احمد

قارئین اور ناظرین کو لمحہ لمحہ باخبر رکھنے کے لئے” مشرق “ویب سائٹ اور” مشرق“ ٹی وی کااجراءکیاگیا ہے۔روزنامہ” مشرق“ کا قیام1962ءمیں عمل میں آیا تھا ۔یہ اخبار پاکستان کی جدید صحافت کے علمبردار آئین کی بالادستی ،جمہوری قدروں کے فروغ اور انسانی حقوق کے تحفظ کاعلم بلند کرنے کے عزم کے ساتھ دنیائے صحافت میں آیا تھا ۔ ”مشرق “نے جدید تقاضوں کے مطابق اپنے قارئین اور دنیا بھر میں پاکستانیوں کو باخبر رکھنے کے لئے ویب سائٹ اور ویب ٹی وی کا جناب سید ممتاز احمد شاہ چیف ایڈیٹر مشرق گروپ آف نیوزپیپرز کی نگرانی میں اجراءکیاہے ۔یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ اقلیم صحافت کے درخشندہ ستارے سید ممتاز احمد کا شمار پاکستانی صحافت کے اکابرین میں ہوتا ہے۔زندگی بھر قلم وقرطاس اور پرنٹ میڈیا ہی ان کا اوڑھنا بچھونا رہا۔سید ممتاز احمد شاہ نے آج سے 50 برس قبل صحافت جیسی وادی ¿ پرخار میںقدم رکھا۔ضیائی مارشل لا کے دور میں کئی مراحل آئے جب قلم اور قرطاس سے رشتہ برقرار اور استوار رکھنا انتہائی جانگسل ہوچکا تھا لیکن وہ کٹھن اور دشوار گزار راستوں پر سے گزرتے رہے لیکن ان کے پایہ¿ استقلال میں کبھی لغزش دیکھنے سننے میں نہیں آئی۔ واضح رہے کہ سید ممتاز احمد نے ملک کے اہم ترین انگریزی اخبار ”ڈان“ ”جنگ“ ”دی نیوز“ اور روزنامہ ”مشرق“ میں اپنی گراں قدر خدمات انجام دی ہیں۔ اور ان کا مشرق کے ساتھ صحافت کا سفر جاری ہے۔