پاکستان فنِ موسیقی میں کسی بھی طرح بھارت سے کم نہیں، راحت فتح

 کراچی: سُر، لے اور تال کے بے تاج بادشاہ اور دنیا میں بھر میں یکساں مقبولیت حاصل کرنے والے راحت فتح علی خان کا کہنا ہے کہ پاکستان موسیقی کے میدان میں کسی بھی طرح بھارت سے پیچھے نہیں۔

مقامی اخبار کو انٹرویو میں فن موسیقی کے درخشاں ستارے نے پاکستان میں موسیقی کے روشن مستقبل کی نوید سناتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں بے پناہ ٹیلنٹ ہے، باصلاحیت گلوکاروں کی بھرمار ہے، سہولیات اور مواقع کے فقدان کے باوجود پاکستان فن موسیقی میں کسی بھی طرح بھارت سے پیچھے نہیں۔

راحت فتح علی خان نے فن قوالی کو اس کی اصل شکل میں بحال کرنے کی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میرا خاندان صدیوں سے اس فن سے منسلک ہے، دنیا کو قوالی کی صنف سے روشناس کرایا ہے، یہ ہماری اساس ہے، بزرگوں کا اثاثہ ہے جس کے احیاء کے لیے مستقبل میں نئے پروجیکٹس پر کام کروں گا۔

بھارتی فلم انڈسٹری میں دھاک بٹھانے والے راحت فتح علی خان نے کہا کہ میں پاکستانی فلموں کی موسیقی بھی ترتیب دے رہا ہوں لیکن اس کے ساتھ ساتھ میں قوالی کی صنف سے جڑے رہنا چاہتا ہوں اس سلسلے میں آئندہ برس صوفیا کی پسندیدہ روایتی قوالیوں کا ایک البم ریلیز کرنے کا ارادہ ہے۔

نصرت فتح علی خان نے مزید کہا کہ گانے، فلمی نغمے اور قوالیاں موسیقی کی تین الگ الگ اقسام ہیں، قوالی میں روحانیت ہے جو میری نئی آنے والی البم کا خاصہ ہوگی جس سے قوالی کے احیا کو فروغ حاصل ہوگا اور شائقین کو بھی پسند آئیں گی۔

موسیقی کے اعلیٰ خانوادے سے تعلق رکھنے والے راحت فتح علی خان نے چربہ سازی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کچھ لوگ برسوں کی محنت کو ایک لمحے میں چرا کر اپنے نام سے چلا دیتے ہیں جس پر دلی تکلیف ہوتی ہے، چربہ سازی کو روکنے کے لیے سخت قانون سازی اور اس پر عمل درآمد کا ہونا ضروری ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Next Post

امریکا میں ایک دن میں دو طیارے زمین بوس، 12 ہلاکتیں

منگل دسمبر 3 , 2019
Share on Facebook Tweet it Share on Google Email ٹیکساس / جنوبی ڈکوٹا: امریکا میں گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران دو مسافر بردار طیارے گر کر تباہ ہوگئے جس کے نتیجے میں مجموعی طور پر بچوں سمیت 12 افراد ہلاک ہوگئے۔ بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق دو امریکی ریاستوں ٹیکساس اور جنوبی ڈکوٹا […]

چیف ایڈیٹر

سید ممتاز احمد

قارئین اور ناظرین کو لمحہ لمحہ باخبر رکھنے کے لئے” مشرق “ویب سائٹ اور” مشرق“ ٹی وی کااجراءکیاگیا ہے۔روزنامہ” مشرق“ کا قیام1962ءمیں عمل میں آیا تھا ۔یہ اخبار پاکستان کی جدید صحافت کے علمبردار آئین کی بالادستی ،جمہوری قدروں کے فروغ اور انسانی حقوق کے تحفظ کاعلم بلند کرنے کے عزم کے ساتھ دنیائے صحافت میں آیا تھا ۔ ”مشرق “نے جدید تقاضوں کے مطابق اپنے قارئین اور دنیا بھر میں پاکستانیوں کو باخبر رکھنے کے لئے ویب سائٹ اور ویب ٹی وی کا جناب سید ممتاز احمد شاہ چیف ایڈیٹر مشرق گروپ آف نیوزپیپرز کی نگرانی میں اجراءکیاہے ۔یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ اقلیم صحافت کے درخشندہ ستارے سید ممتاز احمد کا شمار پاکستانی صحافت کے اکابرین میں ہوتا ہے۔زندگی بھر قلم وقرطاس اور پرنٹ میڈیا ہی ان کا اوڑھنا بچھونا رہا۔سید ممتاز احمد شاہ نے آج سے 50 برس قبل صحافت جیسی وادی ¿ پرخار میںقدم رکھا۔ضیائی مارشل لا کے دور میں کئی مراحل آئے جب قلم اور قرطاس سے رشتہ برقرار اور استوار رکھنا انتہائی جانگسل ہوچکا تھا لیکن وہ کٹھن اور دشوار گزار راستوں پر سے گزرتے رہے لیکن ان کے پایہ¿ استقلال میں کبھی لغزش دیکھنے سننے میں نہیں آئی۔ واضح رہے کہ سید ممتاز احمد نے ملک کے اہم ترین انگریزی اخبار ”ڈان“ ”جنگ“ ”دی نیوز“ اور روزنامہ ”مشرق“ میں اپنی گراں قدر خدمات انجام دی ہیں۔ اور ان کا مشرق کے ساتھ صحافت کا سفر جاری ہے۔