پاکستان جلد گرے لسٹ سے نکل آئےگا،حفیظ شیخ

واشنگٹن(مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان آئندہ برس فروری تک انسداد منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت روکنے کے لیے ایکشن پلان پر مکمل عملدرآمد کے لیے پر عزم ہے اور اس معاملے پر حکومت کے مختلف اداروں کے مابین مکمل اتفاق ہے۔تفصیلات کے مطابق مشیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ نے امریکا میں موجود پاکستانی میڈیا سے خطاب کرتے ہوئے ملکی معیشت کو نئی جہت بخشنے کی حکومتی کوششوں پر بھی روشنی ڈالی۔ایف اے ٹی ایف کی ڈیڈ لائن سے متعلق پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں مشیر خزانہ کا کہنا تھا کہ اس معاملے پر بنیادی طور پر تمام سرکاری ادارے ایک صفحے پر ہیں اور منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت کی روک تھام کے لیے جو فیصلہ ضروری ہوا ہم کریں گے۔واشنگٹن میں موجود امریکی سفارت خانے میں پریس بریفنگ کے دوران مشیر خزانہ کا کہنا تھا کہ اس سے قبل ہونے والے اجلاس میں ایف اے ٹی ایف نے 27 تجاویز میں سے صرف 5 پر عملدرآمد کو تسلیم کیا تھا۔تاہم اب انہوں نے 22 نکات پر پیش رفت کو تسلیم کیا جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایکشن پلان پر تیزی سے عمل ہورہا ہے اور ہم فروری تک اس پر مکمل عملدرآمد کے لیے پر عزم ہیں۔انہوں نے اس بات سے اختلاف کیا کہ ایف اے ٹی ایف کے مجوزہ اقدامات نے ملکی معیشت کو مسائل کا شکار کردیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ان اقدامات کا تعلق معاشی نمو سے نہیں بلکہ انسداد منی لانڈنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت کی روک تھام سے ہے۔مشیر خزانہ کا مزید کہنا تھا کہ انہوں نے واشنگٹن کا دورہ عالمی بینک کے سالانہ اجلاسوں میں شرکت کے لیے کیا تھا لیکن اس موقع سے فائدہ اٹھا کر ملکی معیشت کی بحالی کے لیے حکومتی منصوبے پر دیگر ریاستوں کے وزیر خزانہ اور حکام کے ساتھ تبادلہ خیال کیا۔خیال رہے کہ عالمی بینک کا سالانہ اجلاس مالیاتی عہدیداران کا دنیا کا سب سے بڑا اجتماع ہے جس میں دنیا بھر سے سیکڑوں وفود شرکت کرتے ہیں۔یہ بات مدِ نظر رہے کہ منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت پر نظر رکھنے والی فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) نے اسلام آباد کو تمام تر وعدوں پر عملدرآمد کے لیے 4 ماہ کی مہلت دی تھی جو فروری 2020 میں اختتام پذیر ہوجائے گی۔اس کے ساتھ ایف اے ٹی ایف نے پاکستان کو خبردار کیا تھا کہ اگر وہ اپنے وعدوں کو پورا کرنے میں ناکام رہا تو وہ اسے بلیک لسٹ میں ڈال دے گا۔یاد رہے کہ دہشت گردی کی مالی معاونت کے سازگار ماحول اور عدم تعاون پر 2012 میں پاکستان کا اندراج گرے لسٹ میں کردیا گیا تھا جہاں وہ 2015 تک موجود رہا۔بعدازاں 29 جون 2018 کو پاکستان کو ایک مرتبہ پھر گرے لسٹ میں شامل کیا تھا اور 27 نکات پر مشتمل ایکشن پلان پر عمل کرنے کے لیے 15 ماہ کی مہلت دی گئی تھی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Next Post

نواز شریف کی طبیعت ناساز،سروسز ہسپتال منتقل

منگل اکتوبر 22 , 2019
Share on Facebook Tweet it Share on Google Email لاہور(مشرق نیوز)سابق وزیر اعظم اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف کی طبیعت ناساز ہونے پر انہیں نیب کے دفتر سے لاہور کے سروسز ہسپتال منتقل کردیا گیا۔نیب لاہور کی ٹیم سابق وزیر اعظم کو لے کر سروسز ہسپتال […]

چیف ایڈیٹر

سید ممتاز احمد

قارئین اور ناظرین کو لمحہ لمحہ باخبر رکھنے کے لئے” مشرق “ویب سائٹ اور” مشرق“ ٹی وی کااجراءکیاگیا ہے۔روزنامہ” مشرق“ کا قیام1962ءمیں عمل میں آیا تھا ۔یہ اخبار پاکستان کی جدید صحافت کے علمبردار آئین کی بالادستی ،جمہوری قدروں کے فروغ اور انسانی حقوق کے تحفظ کاعلم بلند کرنے کے عزم کے ساتھ دنیائے صحافت میں آیا تھا ۔ ”مشرق “نے جدید تقاضوں کے مطابق اپنے قارئین اور دنیا بھر میں پاکستانیوں کو باخبر رکھنے کے لئے ویب سائٹ اور ویب ٹی وی کا جناب سید ممتاز احمد شاہ چیف ایڈیٹر مشرق گروپ آف نیوزپیپرز کی نگرانی میں اجراءکیاہے ۔یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ اقلیم صحافت کے درخشندہ ستارے سید ممتاز احمد کا شمار پاکستانی صحافت کے اکابرین میں ہوتا ہے۔زندگی بھر قلم وقرطاس اور پرنٹ میڈیا ہی ان کا اوڑھنا بچھونا رہا۔سید ممتاز احمد شاہ نے آج سے 50 برس قبل صحافت جیسی وادی ¿ پرخار میںقدم رکھا۔ضیائی مارشل لا کے دور میں کئی مراحل آئے جب قلم اور قرطاس سے رشتہ برقرار اور استوار رکھنا انتہائی جانگسل ہوچکا تھا لیکن وہ کٹھن اور دشوار گزار راستوں پر سے گزرتے رہے لیکن ان کے پایہ¿ استقلال میں کبھی لغزش دیکھنے سننے میں نہیں آئی۔ واضح رہے کہ سید ممتاز احمد نے ملک کے اہم ترین انگریزی اخبار ”ڈان“ ”جنگ“ ”دی نیوز“ اور روزنامہ ”مشرق“ میں اپنی گراں قدر خدمات انجام دی ہیں۔ اور ان کا مشرق کے ساتھ صحافت کا سفر جاری ہے۔