وکلاء کی پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں غنڈہ گردی، لاہور: 4 مریض جاں بحق

0

لاہور میں پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی (پی آئی سی) میں وکلا نے ہنگامہ آرائی کر کے ہسپتال کے اندر اور باہر توڑ پھوڑ کی جس سے 4 مریض جاں بحق اور متعدد افراد زخمی ہوگئے جبکہ وزیراعظم اور وزیراعلیٰ پنجاب نے واقعے کا نوٹس لے لیا۔

تاہم گرینڈ ہیلتھ الائنس کے چیئرمین ڈاکٹر سلمان حسیب کے مطابق اس پرتشدد مظاہرے کے دوران 4 مریض اپنی زندگی کی بازی ہار گئے۔

وکلا نے الزام عائد کیا کہ کل وائرل ہونے والی ایک ویڈیو میں ینگ ڈاکٹرز وکلا کا مذاق اڑا رہے تھے جس پر انہوں نے سوشل میڈیا پر مہم چلائی۔

مشتعل افراد نے پولیس موبائل کو بھی آگ لگا دی—فوٹو: ڈان نیوز

ڈاکٹر کے مطابق وکلا کا ایک گروپ انسپکٹر جنرل کے پاس گیا تھا اور انہیں کہا تھا کہ ‘دو ڈاکٹرز’ کے خلاف اے ٹی اے کی دفعہ 7 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا،تاہم ان کے بقول آئی جی نے اس معاملے پر انکار کردیا۔

بعد ازاں آج وکلا کے گروپ نے پی آئی سی پر دھاوا بول دیا اور داخلی اور خارجی راستے بند کردیے اور ہسپتال کے گیٹ توڑتے ہوئے ہسپتال میں داخل ہوگئے، وکلا نے نہ صرف ہسپتال پر پتھر برسائے بلکہ ہسپتال کی ایمرجنسی میں شیشے توڑے اس کے ساتھ ڈنڈوں اور لاتوں سے باہر کھڑی گاڑیوں کو توڑ پھوڑ کا نشانہ بنایا۔

ہنگامہ آرائی کے باعث ہسپتال میں زیر علاج مریضوں کے ساتھ ڈاکٹروں کو دکھانے کے لیے آنے والے مریضوں اور ان کے اہلِ خانہ کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

ایک شخص نے اسلحے کے زور پر دکان بند کروادی—فوٹو: ڈان نیوز

وکلا کی جانب سے ہسپتال کے آئی سی یو، سی سی یو اور آپریشن تھیٹر کی جانب بھی پیش قدمی کی گئی جبکہ ہسپتال کے کچھ عملے کی جانب سے بھی وکلا پر تشدد کیا گیا۔

ہسپتال پر دھاوے، توڑ پھوڑ کے باعث اپنی جان بچانے لیے عملہ فوری طور پر باہر نکل گیا۔

یہی نہیں بلکہ مشتعمل وکلا نے میڈیا کے نمائندوں پر بھی پتھراؤ کیا جس سے ڈان نیوز ٹی وی کی خاتون رپورٹر زخمی ہوگئیں جبکہ ان کا موبائل بھی چھین لیا گیا۔

بگڑتی صورتحال کے پیش نظر پولیس کی اضافی نفری موقع پر پہنچی اور حالات پر قابو پانے کی کوشش کی، تاہم اس دوران مشتعل افراد نے ایک پولیس موبائل کو بھی آگ لگادی۔

ادھر پولیس نے مشتعل وکلا کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کا استعمال کیا اور لاٹھی چارج بھی کیا۔

پولیس نے کچھ وکلا کی کو گرفتار کرلیا، جس پر وکلا نے سول سیکریٹریٹ کے اطراف کی سڑک کو بند کردیا۔

فیاض الحسن چوہان پر تشدد

وکلا نے صوبائی وزیراطلاعات فیاض الحسن چوہان پر بھی تشدد کیا

اس موقع پر پنجاب کے وزیراطلاعات فیاض الحسن چوہان بھی ہسپتال پہنچے، تاہم ان پر بھی مشتعل افراد جو بظاہر وکلا نظر آرہے تھے انہوں نے تشدد کیا۔

مذکورہ معاملے کی ایک ویڈیو سامنے آئی، جس میں فیاض الحسن چوہان پر تشدد اور انہیں بالوں سے پکڑتے ہوئے دیکھا گیا۔

اس حوالے سے صوبائی وزیر اطلاعات فیاض الحسن چوہان نے کہا کہ ‘وکلا نے انہیں اغوا’ کرنے کی کوشش کی۔

جائے وقوع پر صورتحال کے پیش نظر پنجاب کی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد بھی پی آئی سی پہنچی جبکہ ڈی آئی جی آپریشن ہسپتال پہنچے۔

ڈی آئی جی آپریشن کا کہنا تھا کہ ‘جن لوگوں نے قانون کو ہاتھ میں لیا ان سے سختی سے نمٹا جائے گا’۔

وزیراعظم کا نوٹس

ادھر پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیولوجی کی بگڑتی صورتحال پر وزیراعظم عمران خان نے بھی نوٹس لے لیا۔

وزیراعظم عمران خان نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے چیف سیکریٹری پنجاب اور آئی جی پنجاب سے رپورٹ طلب کرلی۔

وزیراعلیٰ کا نوٹس

دوسری جانب وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے بھی پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں وکلا کی جانب سے ہنگامہ آرائی کے واقعہ کا سخت نوٹس لے لیا۔

انہوں نے سی سی پی او لاہور اور صوبائی سیکریٹری سپشلائزڈ ہیلتھ اینڈ میڈیکل ایجوکیشن سے تفصیلی رپورٹ طلب کرلی۔

وزیراعلیٰ نے واقعہ کی تحقیقات کا حکم دیتے ہوئے ہنگامہ آرائی کے ذمہ داروں کے خلاف قانون کے تحت کارروائی عمل میں لانے کی ہدایت کی۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.