وزیراعظم عمران خان کاملک میں پرانے مائنڈ سیٹ کو بدلنے اور اصلاحاتی پروگرام جاری رکھنے کا عزم !!

بلوچستان سمیت ملک بھر میں اس وقت بڑھتی ہوئی مہنگائی اور عوام کے دیگر معاشی مسائل بہت زیادہ زیر بحث آرہے ہیں اور ظاہر سی بات ہے کہ ملک و قوم کے مسائل جب بھی زیر بحث آئیںتب حکومت کی کارکردگی بھی موضوع بحث ٹھہرتی ہے موجودہ حکومت کا جہاں تک تعلق ہے تو اگرچہ یہ نہیں کہا جاسکتا کہ اس حکومت نے عوام کے مسائل کا سوفیصد حل نکالا ہے تاہم یہ کہنا بھی حقیقت سے آنکھیں چرانے کے مترادف ہے کہ اگر ہم حکومت کی کارکردگی کو مکمل ہی صفر کہیں کیونکہ یہ بات بہرحال اپنی امر مسلم کے طور پر موجود ہے کہ مشکل اور نامساعدحالات میں عنان اقتدار سنبھالنے کے بعد حکومت نے مختلف شعبوں کی بہتری ، بحالی اور اصلاحات کے حوالے سے اقدامات کا سلسلہ شروع کیا جو ہنوز جاری ہے اور وزیراعظم عمران خان نے ایک بار پھر اس عزم کااظہار کیا ہے کہ نہ صرف اصلاحات کا عمل جاری رکھا جائے گا بلکہ اس کے ساتھ ساتھ انہوںنے یہ بھی کہا ہے کہ ملک میں پرانے مائنڈ سینٹ کو بدلنے کاکام بھی جاری ہے تاکہ عوام کی خدمت کو مقدم بناتے ہوئے مسائل ومشکلات کا حل نکالا جاسکے ۔ان دنوں صوبائی حکومتوں کی کارکردگی بھی موضوع بحث ہے اور گزشتہ چند دنوں سے سیاسی منظرنامے پر پنجاب حکومت کی کارکردگی سے متعلق خبریں ، اظہاریئے ، تجزیئے ، تبصرے جاری ہیں وزیراعظم عمران خان نے پنجاب حکومت کی کارکردگی پر اطمینان کا اظہار کیا ہے تاہم ساتھ ہی ساتھ مثبت اقدامات کی تشہیر کی ضرورت پر زور دیا ہے ( یہ اور بات ہے کہ وزیر ریلوے شیخ رشید کا نکتہ نظر وزیراعظم سے مختلف ہے اور وہ کہتے ہیں کہ عوام پنجاب حکومت کی کارکردگی سے مطمئن نہیں )شیخ رشید کے جملہ معتزلہ کا ذکر بعد میں پہلے آتے ہیں وزیراعظم عمران خان کے اظہاریئے کی جانب انہوںنے گزشتہ روز لاہور میں وزیراعلیٰ سردا ر عثمان بزدار سمیت دیگر حکام سے ملاقات کے موقع پر بات چیت اور مختلف تقاریب سے خطاب کرتے ہوئے پنجاب حکومت کی کارکردگی ، وفاقی حکومت کے اٹھائے گئے اقدامات ، درپیش حالات کا تذکرہ کیا ہے اور کہا ہے کہ وزیراعلیٰ بزدار اچھا کام کررہے ہیں، انہیں اپنے کام کی تشہیر کرنی چاہئےپنجاب کی صوبائی بیوروکریسی اور پولیس کے سینئرافسران کے اجلاس سے خطاب میں وزیر اعظم نے کہا کہ ساٹھ کی دہائی میں پاکستان کی گورننس، بیوروکریسی اور پالیسیوں کی مثالیں دی جاتی تھیں۔ اِس وقت پاکستان ایک نازک دور سے گزر رہا ہے جس کیلئے معاشی استحکام ضروری ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ معیشت مستحکم ہو رہی ہے۔ اپنی معاشی ٹیم کو مبارکباد دیتا ہوں۔ بیوروکریسی اور دیگر عہدوں پر تعیناتیاں میرٹ پر کی گئی ہیں۔ ہم نے اپنے دور حکومت میں افسران کو ہر قسم کے سیاسی دباﺅ سے آزاد کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آپ نے سب کام میرٹ پر کرنے ہیں اور کسی سیاسی شخصیت کا کوئی بھی ناجائز کام ہر گز نہیں کرنا۔ معاشی ترقی کے لیے ایک قابل بیوروکریسی کا بہت اہم کردار ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ ہم نے نئے پاکستان میں پرانے ماینڈ سیٹ کو تبدیل کرنا ہے۔ پرانا نظام اب نہیں چل سکتا۔ بیورو کریسی کو مخاطب کرتے ہوئے انہوںنے کہا کہ عوام کی خدمت کرنا آپ کا اولین فرض ہے۔ افسران کی مدت ملازمت کو تحفظ فراہم کریں گے۔ غریب آدمی کی زندگی میں بہتری لانے کے لیے کوشش کریں بچوں کیخلاف جرائم کی روک تھام پر خصوص توجہ دیںآپ کا کام کمزور کو طاقتور کیخلاف تحفظ فراہم کرنا ہے۔ آاپ کے پاس قانونی اتھارٹی ہے مگر یہ طاقت صرف اور صرف عوام کی خدمت اور ان کی زندگیوں میں بہتری لانے کے لیے استعمال کی جائے۔ یقینا جو ہدایات وزیراعظم عمران خان نے دی ہیں اور جن امور کی نشاندہی انہوںنے کی ہے اگر افسران عملدرآمد کریں تو نہ صرف عوامی مسائل حل ہوں گے بلکہ ملک بھی ترقی اورخوشحالی کے منازل طے کرے گی ا س کے لئے ضروری ہے کہ ملک میں سب سے پہلے سیاسی فضاءکی بہتری اور مثبت اقدار کی بحالی و مضبوطی کے لئے کام کیا جائے وزیراعظم عمران خان نے گزشتہ روز بھی سیاسی امور پر اظہار خیال کیا ہے اور اپوزیشن رہنماﺅں کو کرارا قسم کا جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ایک مافیا ہے جن کا مفاد اپنا پیسہ بچانا ہے، مافیا کو ڈر لگا ہوا ہے کہ تیس سال سے جو حلوہ کھا رہے ہیں وہ پکڑے جائیں گے وزیر اعظم نے کہا کہ ہمارا بہت بڑے مافیا سے مقابلہ ہے جو مسلسل پروپیگنڈہ میں لگا ہوا ہے، اس مافیا نے مجھے پہلے دن اسمبلی میں تقریر نہیں کرنے دی۔ ان کاخیال تھا کہ ڈالر تین سو روپے تک پہنچ جائے گا اور ہم سے حکومت نہیں چل سکے گی۔ انہوں نے کہا کہ اب ملک اٹھنے لگا ہے اور ورلڈ بینک کے سربراہ نے آکر حکومت کی معاشی پالیسی کی تعریف کی ہے تو یہ سب اکٹھے ہوگئے ہیں، انہوں نے کہا کہ میں چیلنج کرتا ہوں کہ پاکستان میں جتنی اصلاحات ہوئی ہیں، اتنی پہلے نہیں ہوئیںاصلاحات کے جس عمل کا تذکرہ وزیراعظم عمران خان نے کیا ہے یقینی بات ہے کہ ماضی حکومتوں کے مقابلے میں موجودہ دور حکومت میں فی الواقعی اصلاحاتی عمل پر توجہ مرکوز رکھی گئی ہے تاہم اصلاحات سمیت کسی بھی حکومتی اقدام کے نتیجہ خیز ہونے کے لئے ضروری ہے کہ عوام تک ا س کے ثمرات پہنچیں گوکہ اب تک عوام کے مسائل میں خاطرخواہ کمی نہیں آئی تاہم امید رکھنی چاہئے کہ رفتہ رفتہ عوام کی طرز زندگی میں مثبت تبدیلی ، ان کے حقوق کی ضمانت ، مسائل کے حل کو یقینی بنانے میں کامیابی حاصل ہوگی معاشی استحکام کے لئے امید ہے کہ اقدامات کا سلسلہ جاری رہے گا پنجاب حکومت سے متعلق وزیراعظم عمران خان کی طرح وزیر ریلوے شیخ رشید نے بھی اظہارخیال کیا ہے انہوںنے ہفتے کے روز پریس کانفرنس سے خطاب کے دوران صحافیوں کے مختلف سوالات کے جوابات دیتے ہوئے پنجاب حکومت کی کارکردگی بارے کہا ہے کہ لوگ پنجاب حکومت کی کارکردگی سے مطمئن نہیں، پنجاب حکومت پر میرے بھی تحفظات ہیں تاہم ان کے بقول سردار عثمان بزدار اب سیکھ چکے ہیں، آگے ان کی کارکردگی میں بہتری آئے گی صرف پنجاب ہی نہیں باقی صوبوں کی صوبائی حکومتوں کی کارکردگی بھی زیر بحث آرہی ہے اور عجیب بات یہ ہے کہ موجودہ دور حکومت میں اسمبلیوں کی نصف مدت پوری ہونے کا بھی انتظار نہیں کیا جارہا ہے اور حکومت کی کارکردگی ، امیدوں اور توقعات پر اس قدربحث مباحثے ہورہے ہیں کہ کان پڑی آواز سنائی نہیں دے رہی اپوزیشن کی جانب سے قبل ا ز وقت انتخابات کی صدائیں ابھی نہیں تھمیںنہیں اپوزیشن حکومت پر تنقید کاکوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیںدیتی جے یوآئی (ف) کی قیادت میں اپوزیشن کی نو جماعتوں کی رہبر کمیٹی دامے درمے سخنے جہاں جہاں موقع ملے حکومتی کارکردگی کے بخیئے ادھیڑنے میں لگی ہوئی ہے جبکہ حکومتی اراکین ڈیڑھ سالہ حکومتی کارکردگی کو مثالی اور پاکستان کی تاریخ کا روشن دور قرار دیتی ہے یوں یہ بات پایہ ثبوت کو پہنچ جاتی ہے کہ ملکی تاریخ کی یہ پہلی حکومت ہے جسے ابھی عنان اقتدار سنبھالے ایک سال بھی پورا نہیں ہوا تھا کہ اس کی کارکردگی تواتر کے ساتھ زیر بحث آنے لگی اور اب تک یہ سلسلہ جاری ہے اور اس میں ہر گزرتے دن کے ساتھ شدت اور حدت آرہی ہے حکومت کی کارکردگی ہی کے تناظر میں امیر جماعت اسلامی سراج الحق کہتے ہیں کہ حکومت کی خواہش ہے کہ اسے شہادت کا رتبہ ملے حالانکہ موجودہ حکمرانوں سے بڑھ کر شاید ہی کوئی غیر سنجیدہ ہوانہوںنے کہا ہے کہ یہ حکومت فیصلے پہلے کرتی اور سوچتی بعد میں ہے، ہر گزرتا دن ان کی ناکامی ثابت کر رہا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ملک میں مہنگائی بڑھتی جا رہی ہے اور اگر یہی صورتحال رہی تو عام آدمی کا زندہ رہنا مشکل ہو جائےگا۔ دیکھا جائے تو پاکستان تحریک انصاف کی قیادت میں موجودہ حکومت جو تبدیلی کا نعرہ لے کر آئی ہے اس سے ملک بھر میں عام عوام نے بہت زیادہ امیدیں وابستہ کی ہیں اور مختلف حلقے اس خدشے کااظہار کررہے ہیں کہ اگر اس حکومت نے عوامی مسائل کے حل کے لئے عملی اقدامات کو ثمر آور نہیں بنایا تو عام آدمی پورے سسٹم سے مایوس ہوجائے گا جو بہت بڑا المیہ ہوگا اس لئے اس سارے تناظر میں ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت عوامی مسائل کے حل ، اصلاحات کے عمل کو یقینی بنانے اور جیسا کہ وزیراعظم عمران خان کہتے ہیں کہ پرانے مائنڈ سیٹ کو تبدیل کرنا ہے ضروری ہے کہ اس بابت اعلانا ت کی بجائے عملی اقدامات کو ترجیح دی جائے اور کوئی دقیقہ فروگزاشت نہ کیا جائے ۔!!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Next Post

برکینا فاسو میں چرچ پر حملے میں 14افرادہلاک

پیر دسمبر 2 , 2019
Share on Facebook Tweet it Share on Google Email اواگادوگو: مغربی افریقی ملک برکینا فاسو میں چرچ پر حملے میں پادری سمیت 14افرادہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے۔ بین الاقوامی خبرایجنسی کے مطابق برکینافاسوکےمشرقی قصبےہنتوکوراکےچرچ میں سنڈےسروس کےدوران حملہ کیاگیا۔ چرچ میں دعائیہ تقریب جاری تھی کہ اس دوران متعدد مسلح افراد […]

چیف ایڈیٹر

سید ممتاز احمد

قارئین اور ناظرین کو لمحہ لمحہ باخبر رکھنے کے لئے” مشرق “ویب سائٹ اور” مشرق“ ٹی وی کااجراءکیاگیا ہے۔روزنامہ” مشرق“ کا قیام1962ءمیں عمل میں آیا تھا ۔یہ اخبار پاکستان کی جدید صحافت کے علمبردار آئین کی بالادستی ،جمہوری قدروں کے فروغ اور انسانی حقوق کے تحفظ کاعلم بلند کرنے کے عزم کے ساتھ دنیائے صحافت میں آیا تھا ۔ ”مشرق “نے جدید تقاضوں کے مطابق اپنے قارئین اور دنیا بھر میں پاکستانیوں کو باخبر رکھنے کے لئے ویب سائٹ اور ویب ٹی وی کا جناب سید ممتاز احمد شاہ چیف ایڈیٹر مشرق گروپ آف نیوزپیپرز کی نگرانی میں اجراءکیاہے ۔یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ اقلیم صحافت کے درخشندہ ستارے سید ممتاز احمد کا شمار پاکستانی صحافت کے اکابرین میں ہوتا ہے۔زندگی بھر قلم وقرطاس اور پرنٹ میڈیا ہی ان کا اوڑھنا بچھونا رہا۔سید ممتاز احمد شاہ نے آج سے 50 برس قبل صحافت جیسی وادی ¿ پرخار میںقدم رکھا۔ضیائی مارشل لا کے دور میں کئی مراحل آئے جب قلم اور قرطاس سے رشتہ برقرار اور استوار رکھنا انتہائی جانگسل ہوچکا تھا لیکن وہ کٹھن اور دشوار گزار راستوں پر سے گزرتے رہے لیکن ان کے پایہ¿ استقلال میں کبھی لغزش دیکھنے سننے میں نہیں آئی۔ واضح رہے کہ سید ممتاز احمد نے ملک کے اہم ترین انگریزی اخبار ”ڈان“ ”جنگ“ ”دی نیوز“ اور روزنامہ ”مشرق“ میں اپنی گراں قدر خدمات انجام دی ہیں۔ اور ان کا مشرق کے ساتھ صحافت کا سفر جاری ہے۔