نفرت انگیز تقاریر: الطاف حسین ضمانت ختم ہونے پر پولیس اسٹیشن میں پیش

لندن(مشرق مانیٹرنگ ڈیسک) متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کے بانی الطاف حسین برطانیہ سے بیٹھ کر پاکستان میں نفرت انگیز تقاریر سے متعلق تفتیش میں ضمانت ختم ہونے کے بعد لندن کے مقامی پولیس اسٹیشن میں پیش ہوگئے۔الطاف حسین میٹروپولیٹن پولیس کے ساو¿تھ وارک پولیس اسٹیشن پہنچے، جہاں ان کے ہمراہ چند حمایتی بھی موجود تھے۔واضح رہے کہ نفرت انگیز تقاریر کے معاملے میں الطاف حسین کی یہ تیسری پیشی ہے۔اس سے قبل 12 ستمبر کو بانی ایم کیو ایم 5 گھنٹے تک پولیس اسٹیشن میں موجود رہے تھے، بعد ازاں انہیں ضمانت میں توسیع کرکے جانے دیا گیا تھا۔واضح رہے کہ ایم کیو ایم کے بانی الطاف حسین کو میٹرو پولیٹن پولیس نے 11 جون کو ان کی مبینہ نفرت انگیز تقاریر کی تفتیش کے سلسلے میں گرفتار کیا تھا، تاہم ایک روز بعد ہی برطانوی انتظامیہ نے چارجز فائل کیے بغیر انہیں ضمانت پر چھوڑ دیا تھا۔یاد رہے کہ جون 2019 میں الطاف حسین کی گرفتاری پر میٹروپولیٹن پولیس نے بتایا تھا کہ 60 سال سے زائد عمر کے شخص کو شمال مغربی لندن میں سنگین جرائم ایکٹ 2007 کی دفعہ 44 کے تحت دانستہ طور پر اکسانے یا جرائم میں معاونت فراہم کرنے کے شبے میں گرفتار کیا گیا تھا۔الطاف حسین کو پولیس اینڈ کرمنل ایویڈنس ایکٹ کے تحت حراست میں لے کر جنوبی لندن کے پولیس اسٹیشن منتقل کیا گیا تھا، جہاں ان سے پولیس حراست میں تفتیش کی گئی تھی۔تاہم الطاف حسین کی ایک روز بعد ہی ضمانت پر رہائی کے بعد ایم کیو ایم لندن کے ذرائع نے ڈان کو بتایا تھا کہ حکام نے ان پر چارجز عائد نہ کرنے کا فیصلہ کیا لیکن وہ ٹھوس ثبوت حاصل کرنے کے لیے اپنی تفتیش جاری رکھیں گے۔میٹرو پولیٹن پولیس نے کہا تھا کہ یہ تحقیقات ‘اگست 2016 میں ایم کیو ایم سے منسلک ایک شخص کی جانب سے پاکستان میں کی گئی تقریر سمیت اسی شخص کی گزشتہ تقاریر کے گرد گھومتی ہے’۔علاوہ ازیں جون میں پولیس افسران نے لندن کے شمال مغربی حصے میں ایم کیو ایم کے بانی سے منسلک دو جگہوں کی تلاشی لی تھی۔اس موقع پر پولیس نے کہا تھا کہ ان کے افسران جاری تفتیش کے سلسلے میں پاکستان سے رابطے میں ہیں۔واضح رہے کہ لندن میں رہنے والے ایم کیو ایم کے بانی الطاف حسین 27 سالہ خود ساختہ جلاوطنی کے دوران مختلف انکوائریز کا سامنا کر رہے ہیں اور انہیں پہلی مرتبہ 3 جون 2014 کو منی لانڈرنگ سے متعلق تفتیش کے دوران گرفتار کیا گیا تھا لیکن بعد ازاں انہیں ضمانت پر رہا کردیا گیا تھا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Next Post

طالبہ نمرتا اور ان کے دوست مہران ابڑو اور علی شان کےساتھ رابطوں کی تفصیلات جاری

جمعرات اکتوبر 10 , 2019
Share on Facebook Tweet it Share on Google Email لاہور(کرائم رپورٹر)آصفہ ڈینٹل کالج لاڑکانہ کی طالبہ نمرتا اور ان کے دوست مہران ابڑو اور علی شان کے رابطوں کی تفصیلات سامنے آگئیں۔ایس ایس پی نے بتایا کہ ایف آئی اے سائبرونگ کی جانب سے نمرتا ہلاکت کیس کی رپورٹ پولیس […]

چیف ایڈیٹر

سید ممتاز احمد

قارئین اور ناظرین کو لمحہ لمحہ باخبر رکھنے کے لئے” مشرق “ویب سائٹ اور” مشرق“ ٹی وی کااجراءکیاگیا ہے۔روزنامہ” مشرق“ کا قیام1962ءمیں عمل میں آیا تھا ۔یہ اخبار پاکستان کی جدید صحافت کے علمبردار آئین کی بالادستی ،جمہوری قدروں کے فروغ اور انسانی حقوق کے تحفظ کاعلم بلند کرنے کے عزم کے ساتھ دنیائے صحافت میں آیا تھا ۔ ”مشرق “نے جدید تقاضوں کے مطابق اپنے قارئین اور دنیا بھر میں پاکستانیوں کو باخبر رکھنے کے لئے ویب سائٹ اور ویب ٹی وی کا جناب سید ممتاز احمد شاہ چیف ایڈیٹر مشرق گروپ آف نیوزپیپرز کی نگرانی میں اجراءکیاہے ۔یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ اقلیم صحافت کے درخشندہ ستارے سید ممتاز احمد کا شمار پاکستانی صحافت کے اکابرین میں ہوتا ہے۔زندگی بھر قلم وقرطاس اور پرنٹ میڈیا ہی ان کا اوڑھنا بچھونا رہا۔سید ممتاز احمد شاہ نے آج سے 50 برس قبل صحافت جیسی وادی ¿ پرخار میںقدم رکھا۔ضیائی مارشل لا کے دور میں کئی مراحل آئے جب قلم اور قرطاس سے رشتہ برقرار اور استوار رکھنا انتہائی جانگسل ہوچکا تھا لیکن وہ کٹھن اور دشوار گزار راستوں پر سے گزرتے رہے لیکن ان کے پایہ¿ استقلال میں کبھی لغزش دیکھنے سننے میں نہیں آئی۔ واضح رہے کہ سید ممتاز احمد نے ملک کے اہم ترین انگریزی اخبار ”ڈان“ ”جنگ“ ”دی نیوز“ اور روزنامہ ”مشرق“ میں اپنی گراں قدر خدمات انجام دی ہیں۔ اور ان کا مشرق کے ساتھ صحافت کا سفر جاری ہے۔