نریندر مودی کرتارپور راہداری کی تکمیل پر عمران خان کے شکرگزار

کرتار پور راہداری کے بھارتی حصے کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے وزیراعظم عمران خان کا خصوصی شکریہ ادا کیا۔

اپنے خطاب میں نریندر مودی کا کہنا تھا کہ اس راہداری کی تعمیر سے گردوارا دربار صاحب کی زیارت آسان ہوجائے گی جسے مقررہ مدت میں تعمیر کرنے والے ہر فرد کا شکر ادا کرتا ہوں۔

بھارتی وزیراعظم نے خصوصی طور پر وزیراعظم عمران خان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ’میں پاکستان کے وزیراعظم جناب عمران خان نیازی کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ انہوں نے کرتار پور راہداری کے لیے بھارت کے جذبات کو سمجھا اسے عزت دی اور اسی جذبات کے تحت اقدمات اٹھائے۔

اس کے علاوہ انہوں نے پاکستان کی طرف کی راہداری اتنی قلیل مدت میں تیزی سے مکمل کرنے پر اس کام میں حصہ لینے والے ہر شخص کا شکریہ ادا کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ بابا کرونانک کی 55ویں سالگرہ سے قبل مشترکہ چیک پوسٹس، کرتار پور صاحب راہداری کی تکمیل ہونا سب کے دوہری خوشی کا باعث ہے۔

خیال رہے کہ پنجاب کے ضلع نارووال میں سکھ مذہب کے بانی بابا گرونانک کی آخری قیام گاہ کرتار پور کا مقام سکھوں کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہے جہاں سکھوں کے مذہبی پیشوا نے اپنی زندگی کے آخری 18 برس گزارے تھے۔

1947 میں تقسیم ہند کے بعد یہاں قائم گوردوارہ دربار صاحب کا 4 کلومیٹر تک کا مقام پاکستان کی حدود میں شامل ہوگیا تھا جس کے بعد سکھ یاتری بھارتی پنجاب کے ضلع گورداس پور میں ایک مقام سے دوربین کے ذریعے یہاں کی زیارت کرتے تھے۔

پاکستان میں واقع سکھوں کے دیگر مقدس مقامات ڈیرہ صاحب لاہور، پنجہ صاحب حسن ابدال اور جنم استھان ننکانہ صاحب کے برعکس کرتار پور ڈیرہ بابا نانک سرحد کے قریب ایک گاؤں میں ہے۔

مذہبی اہمیت کے پیشِ نظر بھارتی سکھوں کا 70 سال سے مطالبہ تھا کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان دربار صاحب کو جانے والا راستہ کھول دیا جائے۔

بھارت اور پاکستان کے درمیان کرتارپور سرحد کھولنے کا معاملہ 1988 میں طے پاگیا تھا لیکن بعد ازاں دونوں ممالک کے کشیدہ حالات کے باعث اس حوالے سے پیش رفت نہ ہوسکی تھی۔

تاہم گزشتہ برس اس حوالے سے بڑی پیش رفت دیکھنے میں اس وقت آئی جب نومنتخب وزیر اعظم عمران خان کی حلف برداری کی تقریب میں شرکت کے لیے ان کے دوست نوجوت سدھو پاکستان تشریف لائے۔

افتتاحی تقریب میں ان کی ملاقات آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے گرم جوش ملاقات ہوئی تھی جس میں انہوں نے کرتار پور راہداری کھولنے کا عندیہ دیا تھا۔

بعدازاں بعد ازاں 28 نومبر 2018 کو وزیراعظم عمران خان نے کرتارپور میں قائم گوردوارہ دربار صاحب کو بھارت کے شہر گورداس پور میں قائم ڈیرہ بابا نانک سے منسلک کرنے والی راہداری کا سنگِ بنیاد رکھ دیا تھا۔

پاکستان کی جانب سے کرتارپور راہداری کی بروقت تکمیل کے لیے دن رات کام کیا گیا اور 20 اکتوبر کو یہ اعلان کیا گیا کہ وزیراعظم عمران خان 9 نومبر کو اس کا افتتاح کریں گے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Next Post

پاکستانی سیاسی شخصیات نے بھارتی سپریم کورٹ کے فیصلےکو شرمناک قرار دیدیا

ہفتہ نومبر 9 , 2019
Share on Facebook Tweet it Share on Google Email اسلام آباد: بابری مسجد کی زمین ہندوؤں کو دینے  سے متعلق بھارتی سپریم کورٹ کے  فیصلے کو  سیاستدانوں نے شرمناک فیصلہ قرار دیا ہے۔ وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے کہا ہے کہ بھارتی سپریم کورٹ نے شرمناک فیصلہ سنایا،بھارتی […]

چیف ایڈیٹر

سید ممتاز احمد

قارئین اور ناظرین کو لمحہ لمحہ باخبر رکھنے کے لئے” مشرق “ویب سائٹ اور” مشرق“ ٹی وی کااجراءکیاگیا ہے۔روزنامہ” مشرق“ کا قیام1962ءمیں عمل میں آیا تھا ۔یہ اخبار پاکستان کی جدید صحافت کے علمبردار آئین کی بالادستی ،جمہوری قدروں کے فروغ اور انسانی حقوق کے تحفظ کاعلم بلند کرنے کے عزم کے ساتھ دنیائے صحافت میں آیا تھا ۔ ”مشرق “نے جدید تقاضوں کے مطابق اپنے قارئین اور دنیا بھر میں پاکستانیوں کو باخبر رکھنے کے لئے ویب سائٹ اور ویب ٹی وی کا جناب سید ممتاز احمد شاہ چیف ایڈیٹر مشرق گروپ آف نیوزپیپرز کی نگرانی میں اجراءکیاہے ۔یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ اقلیم صحافت کے درخشندہ ستارے سید ممتاز احمد کا شمار پاکستانی صحافت کے اکابرین میں ہوتا ہے۔زندگی بھر قلم وقرطاس اور پرنٹ میڈیا ہی ان کا اوڑھنا بچھونا رہا۔سید ممتاز احمد شاہ نے آج سے 50 برس قبل صحافت جیسی وادی ¿ پرخار میںقدم رکھا۔ضیائی مارشل لا کے دور میں کئی مراحل آئے جب قلم اور قرطاس سے رشتہ برقرار اور استوار رکھنا انتہائی جانگسل ہوچکا تھا لیکن وہ کٹھن اور دشوار گزار راستوں پر سے گزرتے رہے لیکن ان کے پایہ¿ استقلال میں کبھی لغزش دیکھنے سننے میں نہیں آئی۔ واضح رہے کہ سید ممتاز احمد نے ملک کے اہم ترین انگریزی اخبار ”ڈان“ ”جنگ“ ”دی نیوز“ اور روزنامہ ”مشرق“ میں اپنی گراں قدر خدمات انجام دی ہیں۔ اور ان کا مشرق کے ساتھ صحافت کا سفر جاری ہے۔