مولاناصاحب ضد اور ہٹ دھرمی چھوڑیں:فردوس عاشق اعوان

اسلام آباد(مشرق نیوز)معاون خصوصی برائے اطلاعات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے مولانا فضل الرحمان سے کہا کہ مولانا صاحب! عوام سے مسترد ہونے پر ذاتی انتقام کا بدلہ قوم کو ذہنی اذیت سے دوچارکرکے نہ لیں۔سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پرفردوس عاشق اعوان نے لکھا کہ ضد اور ہٹ دھرمی چھوڑ دیں،عوام نے آپ کو مسترد کر دیا تو اس کا بدلہ قوم قوم سے مت لیں، کارکنان کو یخ بستہ ہواوں کی نذر کر کے ظلم نہ کریں۔ ” 1973 کے آئین کے تناظر” میں جمہوریت اور آئینی اصولوں کی پاسداری کریں۔انہوں نے لکھا کہ "مذاکرات جمہوری عمل کا نام ہے جس کے آپ خود داعی رہے ہیں۔مذاکرات کو بے معنی قرار دے کر اپنے ذہن کی کھڑکیوں کوکیوں بند رکھنا چاہتے؟وہم کا علاج لقمان حکیم کے پاس بھی نہیں تھا”انہوں نے موقف اپنا یا کہ "مولانا صاحب! انتخابات میں اگر دھاندلی ہوئی تھی تو آپ نے صدر کا الیکشن کیوں لڑا تھا؟آپ کے صاحب زادے نے ایم این اے کا حلف کیوں اٹھایاتھا؟ایک سال بعد دھاندلی کا واویلا عوام کو گمراہ اور جمہوری نظام کو کمزور کرنے کے سوا کچھ نہیں”۔انہوں نے لکھا کہ ” سیاسی تنہائی کا شکار مولانا ذاتی مفادات کی عینک اتار کر دیکھیں تو پتہ چلے گا کہ پاکستان تنہائی کا شکار نہیں۔وزیراعظم عمران خان کی قیادت میں نئے پاکستان کا تشخص پوری دنیا میں ابھر کر سامنے آرہا ہے”۔ڈاکٹرفردوس عاشق اعوان کی ٹوئیٹس پر ایک صارف نے لکھا کہ "ان کا حال یہ ہے کہ محمود اچکزئی جس بندے ہارا ہے وہ جمعیت علمائ اسلام کا ہے اور دونوں اس وقت ایک ہی کنٹینر پر کھڑے ہو کر دھاندلی دھاندلی کا رونا رو رہے ہیں۔ اچکزئی کو چاہیئے کہ مولانا کی پارٹی پر کیس کر دے کہ ا±ن کا امیدوار دھاندلی سے جیتا ہے ورنہ اصل میں ا±ن کو جیتنا تھا”۔عائشہ نامی صارف نے لکھا کہ "فضل الرحمن جب صدر پاکستان کا الیکشن لڑ رہا تھا تب حکومت اصلی تھی جب ناکامی ہوئی تو حکومت جعلی ہوگئی”خیال محمد نے لکھا کہ "اور دھاندلی کا یہ واویلا ایک سال بعد نہیں پہلے دن سے ہیں بلکہ انخابات کے ریزلٹ ابھی کلئیر بھی نہیں ھوئے تھے کہ یہ واویلا تمام اہوزیشن اور خصوصاً عام لوگوں نے شروع کیا تھا۔۔۔بے تحاشا ویڈیوز ٹبوت سوشل میڈیا پہ موجود ہیں”۔ایک اور صارف نے لکھا کہ "باجی اعوان صاحبہ یہی تو سیاست ہے شیخ رشید اور آپ لوگوں نے قوم کو سکھایا جو بویا تھا اب وہیں کاٹیں”

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Next Post

ڈپٹی سپیکر قاسم سوری کےخلاف تحریک عدم اعتماد کی قرارداد جمع

جمعہ نومبر 8 , 2019
Share on Facebook Tweet it Share on Google Email اسلام آباد (بیورورپورٹ )اپوزیشن نے ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی قاسم سوری کےخلاف تحریک عدم اعتماد کی قرارداد سیکرٹری قومی اسمبلی کو جمع کرا دی، تفصلا ت کے مطابق قاسم سوری کےخلاف تحریک عدم اعتماد کی قرارداد کا نوٹس رہنما ن لیگ […]

چیف ایڈیٹر

سید ممتاز احمد

قارئین اور ناظرین کو لمحہ لمحہ باخبر رکھنے کے لئے” مشرق “ویب سائٹ اور” مشرق“ ٹی وی کااجراءکیاگیا ہے۔روزنامہ” مشرق“ کا قیام1962ءمیں عمل میں آیا تھا ۔یہ اخبار پاکستان کی جدید صحافت کے علمبردار آئین کی بالادستی ،جمہوری قدروں کے فروغ اور انسانی حقوق کے تحفظ کاعلم بلند کرنے کے عزم کے ساتھ دنیائے صحافت میں آیا تھا ۔ ”مشرق “نے جدید تقاضوں کے مطابق اپنے قارئین اور دنیا بھر میں پاکستانیوں کو باخبر رکھنے کے لئے ویب سائٹ اور ویب ٹی وی کا جناب سید ممتاز احمد شاہ چیف ایڈیٹر مشرق گروپ آف نیوزپیپرز کی نگرانی میں اجراءکیاہے ۔یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ اقلیم صحافت کے درخشندہ ستارے سید ممتاز احمد کا شمار پاکستانی صحافت کے اکابرین میں ہوتا ہے۔زندگی بھر قلم وقرطاس اور پرنٹ میڈیا ہی ان کا اوڑھنا بچھونا رہا۔سید ممتاز احمد شاہ نے آج سے 50 برس قبل صحافت جیسی وادی ¿ پرخار میںقدم رکھا۔ضیائی مارشل لا کے دور میں کئی مراحل آئے جب قلم اور قرطاس سے رشتہ برقرار اور استوار رکھنا انتہائی جانگسل ہوچکا تھا لیکن وہ کٹھن اور دشوار گزار راستوں پر سے گزرتے رہے لیکن ان کے پایہ¿ استقلال میں کبھی لغزش دیکھنے سننے میں نہیں آئی۔ واضح رہے کہ سید ممتاز احمد نے ملک کے اہم ترین انگریزی اخبار ”ڈان“ ”جنگ“ ”دی نیوز“ اور روزنامہ ”مشرق“ میں اپنی گراں قدر خدمات انجام دی ہیں۔ اور ان کا مشرق کے ساتھ صحافت کا سفر جاری ہے۔