مورگن نے باؤنڈری کی بنیاد پر فاتح قرار دیے جانے کو ‘غیرمنصفانہ’ قرار دیدیا

ورلڈ کپ فائنل سنسنی خیز مقابلے کے بعد دو مرتبہ ٹائی ہونے پر انگلینڈ کو متنازع قانون کی روشنی میں چیمپیئن قرار دے دیا گیا لیکن انگلینڈ کے کپتان اوئن مورگن نے خود اس قانون پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے غیرمنصفانہ قرار دے دیا ہے۔

انگلینڈ اور نیوزی لینڈ کے درمیان 14جولائی کو لارڈز میں کھیلے گئے سنسنی خیز فائنل میچ میں مقابلہ مقررہ اوورز میں ٹائی رہا جس کے بعد ون ڈے کی تاریخ میں پہلی مرتبہ میچ کا فیصلہ سپر اوور میں کرانے کا فیصلہ کیا گیا۔

لیکن شائقین کرکٹ اس وقت دم بخود رہ گئے جب سپر اوور میں بھی مقابلہ ٹائی ہو گیا اور انگلینڈ کو میچ میں زیادہ باؤنڈریز مانرے کی بنیاد پر چیمپیئن قرار دیا گیا۔

انگلینڈ کو اس انداز میں چیمپیئن قرار دیے جانے پر دنیا بھر کے سابق کرکٹرز اور ماہرین نے اس قانون کو تنقید کا نشانہ بنایا جس کے بعد انٹرنیشنل کرکٹ کونسل(آئی سی سی) نے اپنی کرکٹ کمیٹی کو اس قانون کا جائزہ لینے کی ہدایت کی ہے۔

انگلینڈ کے کپتان اوئن مورگن بھی مقابلہ ٹائی ہونے کے باوجود اپنی ٹیم کو چیمپیئن قرار دیے جانے کے فیصلے سے مطمئن نہیں اور انہوں نے اسے غیرمنصفانہ قرار دیا ہے۔

مورگن نے ٹائمز کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ جب دونوں ٹیموں میں اتنا معمولی فرق ہو تو میرے خیال میں اس طرح سے فیصلہ کرنا منصفانہ نہیں، ہم میچ کے کسی بھی لمحے کے بارے میں یہ نہیں کہہ سکتے کہ اس کے نتیجے میں میچ کا فیصلہ ہوا، یہ ایک انتہائی متوازن میچ تھا۔

انہوں نے اس بات کو تسلیم کیا کہ اس طرح خود کو ہاری ہوئی ٹیم ماننا مشکل ہوتا ہے۔

میچ کے دوران ایک فیصلہ کن موڑ اس وقت آیا تھا جب کو آخری اوور میں فتح کے لیے 15 رنز درکار تھے۔

اسٹوکس میچ کے آخری اوور کی ابتدائی دو گیندوں پر کوئی رن نہ بنا سکے لیکن تیسری گیند پر انہوں نے چھکا لگا کر گیند کو باؤنڈری کے پار پھینک دیا۔

اگلی گیند پر بین اسٹوکس نے شاٹ کھیل کر دو رنز بنائے لیکن فیلڈر کی تھرو پر گیند ان سے لگ کر باؤنڈری کے پار چلی گئی اور یوں انگلینڈ کو جیت کے لیے 2 گیندوں پر تین رنز چاہیے تھے البتہ اسٹوکس صرف دو رنز ہی بنا سکے۔

بعدازاں سابق مایہ ناز سائمن ٹوفل نے نشاندہی کی کہ امپائرز سے میچ کے دوران غلطی ہوئی اور جب گیند اسٹوکس کے بلے سے لگ کر باؤنڈری کی جانب گئی تو امپائرز کو 6 کی جگہ پانچ رنز دینے چاہیے تھے، اگر ایسا ہوتا تو انگلینڈ کی جگہ نیوزی لینڈ کی ٹیم چیمپیئن بن گئی ہوتی۔

جب میچ کے اگلے دن ٹورنامنٹ کے بہترین کھلاڑی کا اعزاز جیتنے والے نیوزی لینڈ کے کپتان کین ولیمسن سے یہ سوال پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ مجھے اور نیوزی لینڈ کو یہ سمجھنے میں کافی وقت لگے گا کہ 14جولائی کی شام کیا ہوا تھا۔

ولیمسن نے کہا کہ سب سے شرمناک بات یہ ہے کہ دونوں ٹیموں کے انتہائی شاندار کھیل کے باوجود ٹورنامنٹ کا فیصلہ اس انداز میں ہوا اور یہ میچ ٹائی تصور کیا جائے گا۔

قانون کا جائزہ لیا جائے گا

آئی سی سی کے سالانہ اجلاس کے دوران چیف ایگزیکٹوز کمیٹی نے کرکٹ کمیٹی کو ہدایت کی ہے کہ وہ اس سلسلے میں کوئی بہتر قانون یا راہ تلاش کرے۔

کرکٹ کمیٹی کی سربراہی بھارت کے سابق کپتان انیل کمبلے کریں گے جو ٹائی بریکر قانون پر غوروخوج کر کے فیصلہ کرے گی کہ کیا کوئی بہتر راہ نکل سکتی ہے یا اگر مستقبل میں دوبارہ ایسی صورتحال پیدا ہو تو کیا راستہ اپنایا جا سکتا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Next Post

شاہ سلمان کی نیوزی لینڈ مساجد حملے کے متاثرین کو مفت حج کی پیشکش

اتوار جولائی 21 , 2019
ریاض: سعودی فرماں روا شاہ سلمان عبدالعزیز نے نیوزی لینڈ مساجد حملے میں شہید ہونے والوں کے لواحقین اور دیگر متاثرین کو اپنے اخراجات پر حج کرانے کی دعوت دے دی۔ بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق خادمین حرمین شریفین شاہ سلمان نے نیوزی لینڈ سے تعلق رکھنے والے 200 شہریوں […]

چیف ایڈیٹر

سید ممتاز احمد

مشرق اخبار لاہور کوئٹہ پاکستان کے سائیڈ ممتاز احمد شیف ڈائریکٹر. مشرقی اخبار قومی اور بین الاقوامی سطح پر پاکستانی اپ ڈیٹ میں اہم حصہ کام کر رہا ہے. غریب اور ناقدین کے قوانین اور قوانین کی آواز. مشرقی اخبار اس کے روشن مستقبل کی تلاش میں ہے

فوری روابط