معاشی استحکام کے باوجود شرح نمو میں اضافہ نہیں ہورہا، مشیر تجارت

0

کراچی: وزیر اعظم کے مشیر تجارت، ٹیکسٹائل، انڈسٹری، پروڈکشن اینڈ انویسمنٹ عبدالرزاق داؤد کا کہنا ہے کہ ملک میں معاشی استحکام آگیا ہے تاہم اب بھی معاشی نمو نہیں دیکھی گئی۔

کراچی میں کاروباری برادری کی ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مشیر تجارت کا کہنا تھا کہ ‘استحکام کے بغیر نمو ممکن نہیں، پاکستان کے لیے سب سے بڑا چیلنج درآمدی ملک سے برآمدی ملک بننا تھا جس کی برآمدات 20 کروڑ سے زائد ہوں’۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘ہمیں اب آئندہ چند سالوں تک 7 فیصد شرح نمو لانے کے قابل ہونے کی ضرورت ہے اور اسی صورت میں پاکستانی مصنوعات کے معیاری ہونے کا اعتبار کیا جائے گا’۔

انہوں نے کہا کہ ‘درآمد پر انحصار کرنے والا ملک ہونے کی وجہ سے پاکستان، انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) سے قرضے لے رہا ہے، گزشتہ 30 سالوں میں پاکستان نے 13 مرتبہ آئی ایم ایف سے قرضے لیے جس کی وجہ سے ملک کو آئی ایم ایف کی شرائط بھی ماننی پڑیں اور جب موجودہ حکومت نے اقتدار سننبھالا تو ہم غیر ملکی زر مبادلہ کھو رہے تھے، مجھے معاشی استحکام کے بارے میں تشویش تھی تاہم میں پر امید تھا، اب حالات بہتر ہورہے ہیں اور درست سمت میں جارہے ہیں’۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘مجھے معلوم ہے کہ ملکوں کو ایسے حالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے جیسے ملائیشیا اور ترکی کو بھی بڑے بحران کا سامنا تھا تاہم اصلاحات کے بعد ان کی معیشت بحالی کی سمت پر گامزن ہوگئی’۔

مشیر تجارت کا کہنا تھا کہ ‘اس کے ساتھ پاکستان کو ٹیکس کے مسائل کا بھی سامنا ہے، یہ بہت مشکل کام ہے، لوگ ہم سے کہتے ہیں کہ آپ کون ہیں، وہ کہتے ہیں کہ ہم ٹیکسز نہیں دیں گے کیونکہ ہم نے عمران خان کو ووٹ نہیں دیا، ایسے معاملات میں ہم کیا کریں؟ کیا ہم ہار مان لیں یا لڑیں، ہمیں اس ملک کو بدلنا ہوگا جہاں عوام ٹیکس ادا کرتی ہو’۔

تجارت پر بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ در آمد سے زیادہ برآمد پر بات کرنے کی ضرورت ہے، ہمیں برآمد پر انحصار کرنے والے نمو کی ضرورت ہے، پاکستان ایسا ملک ہے جہاں 47 فیصد ریونیو درآمدات پر استعمال ہوتا ہے، ہمیں اسے کم کرنا ہوگا اور اس کے لیے ہمیں ٹیکسز ادا کرنے ہوں گے’۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘ہمیں ایک اور بڑے چیلنج کا سامنا ہے جس پر زیادہ بات نہیں کی جاتی، گزشتہ 30 سے 40 سال سے ٹیرف کو ہی ریونیو پیدا کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا رہا ہے تاہم اگر ہمیں اچھی گورننس چاہیے تو اس پر پوری طرح سے نظر رکھنی ہوگی، ہمیں طویل المدتی صنعتی پالیسی اور تجارتی پالیسی کے ساتھ ساتھ ٹیرف پالیسی بھی لانی ہوگی’۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.