مسابقتی کمیشن پاکستان میں شرائط کے ساتھ اوبر، کریم کا انضمام منظور

0

اسلام آباد: مسابقتی کمیشن پاکستان (سی سی پی) نے رائیڈ شیئرنگ ایپ کمپنیوں اوبر اور کریم کے انضمام کی منظوری دے دی۔

اس کے ساتھ موبائل ایپلیکشن کے ذریعے سواری کی سہولت فراہم کرنے کی مارکیٹ میں نئے آنے والوں اور مسابقتی کمپنیوں کو برابری کی سطح پر کام کا موقع فراہم کرنے کے لیے ان پر سخت شرائط بھی نافذ کیں۔

رپورٹ کے مطابق یہ شرائط اوبر اور کریم کے انضمام کے بعد سے 3 سال کے لیے اوبر پر نافذ رہیں گی یا اس وقت تک جب تک مارکیٹ میں کوئی حریف بامعنی طور پر داخل نہ ہوجائے۔

بامعنی داخلہ اس وقت ہوگا جب ایپلیکشن کے ذریعے سواری فراہم کرنے والی ایک یا زائد کمپنیاں پاکستان میں اپنی خدمات متعارف کروائیں اور انفرادی طور پر مارکیٹ کا 25 فیصد حصہ یا مجموعی طور پر مسلسل 3 ماہ تک ہفتہ وار 33.3 فیصد رائیڈ شیئرنگ سواریاں حاصل کرلیں۔

تحریر جاری ہے‎

اس شرط سے حریف کمپنیوں کے بھی ایپلیکیشن کے ذریعے سواری فراہم کرنے کے کاروبار کو پھلنے پھولنے کا موقع ملے گا اور انضمام شدہ کمپنی اپنے غلبے کا غلط استعمال نہیں کرسکے گی۔

مسابقتی کمیشن پاکستان نے اس انضمام کے جائزے کا دوسرا مرحلہ شروع کیا کیوں کہ اس کے نتیجے میں موبائل ایپلیکشن کے ذریعے سواری کی سہولت فراہم کرنے کی مارکیٹ میں مسابقت میں واضح کمی ہورہی تھی۔

دوسرے مرحلے میں مسابقتی کمیشن نے خدمات یا مصنوعات کی قیمت میں اضافے، امتیازی قیمتوں، خدمات کے معیار میں کمی اور ممکنہ طور پر جدت کے فقدان کے حوالے سے موجود مسابقتی خدشات کو دور کرنے کے لیے اوبر پر کچھ شرائط عائد کردیں۔

کمیشن نے اوبر پر ’معاہدے سے غیر استثنٰی‘ کی شرط عائد کی تا کہ ڈرائیورز یا کیپٹینز اپنی مرضی کی رائیڈ شیئرنگ ایپ پر اپنی خدمات فراہم کرنے کے لیے آزاد ہوں۔

اوبر کمپنی ملک بھر میں اوبر گو اور اوبر منی کے تمام ڈرائیورز کے لیے معاہدے کی سروس فیس 22.5 سے 25.5 فیصد تک رکھنے کی پابند ہوگی اس سے ڈرائیوروں اور کیپٹنز کی آمدنی میں کمی نہیں ہو گی۔

علاوہ ازیں سی سی پی نے اوبر کو سالانہ 12.5 فیصد ٹوٹل آرگینک فیئر چارج کرنے کی ہدایت کی تا کہ صارفین کو غیر ضروری اضافے سے محفوظ رکھا جائے۔

اس کے ساتھ یہ ہدایت بھی کی گئی کہ رش کے اوقات یا پیک ٹائم میں فیئر زیادہ سے زیادہ صرف ڈھائی گنا بڑھایا جائے۔

اس خدشے کہ اوبر انضمام کے بعد بزنس میں جدت لائے گی، کے حوالے سے سی سی پی نے ٹیکنالوجی کمپنی کو ہدیات کی کہ 10 انجینئرز کو خدمات اور مصنوعات پر مرکوز تحقیقی اور ترقیاتی سرگرمیوں پر کام کرنے کے لیے مقرر کیا جائے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.