مدارس کی رجسٹریشن ،سہولیات اور تمام امور کو حتمی شکل دےدی،وزیر تعلیم

اسلام آباد (مشرق نیوز)وزارت وفاقی تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت نے مدارس کی رجسٹریشن اور انہیں سہولیات فراہم کرنے کے لیے ڈائریکٹریٹ کے قیام سے متعلق تمام امور کو حتمی شکل دے دی۔تفصیلات کے مطابق مطابق منصوبے سے منسلک ذرائع نے بتایا کہ ڈائریکٹریٹ جنرل آف ریلیجیس ایجوکیشن کو فعال کیے جانے کا اعلان اگلے چند روز میں متوقع ہے۔انہوں نے بتایا کہ ڈائریکٹریٹ جی 8 میں بیسک ایجوکیشن کمیونٹی اسکول (بی ای سی ایس) کی بلڈنگ میں ہوگا اور 16 شہروں میں ڈائریکٹریٹ کے ذیلی دفاتر ہوں گے۔اس ضمن میں بتایا گیا کہ وزارت تعلیم کے جوائنٹ ایجوکیشنل ایڈوائزر پروفیسر رفیق طاہر کو ڈائریکٹریٹ کا سربراہ بنائے جانے کا امکان ہے۔ذرائع کے مطابق ڈائریکٹریٹ اور ذیلی دفاتر کو فعال کرنے کے لیے (بی ای سی ایس) اور نیشنل کمیشن آف ہیومن ڈیولپمنٹ کے متعدد ملازمین کی خدمات حاصل کی جارہی ہیں۔وزیر تعلیم شفقت محمود نے بتایا کہ ’جی ہاں، ہم نے مدارس کی رجسٹریشن اور انہیں سہولیات فراہم کرنے سے متعلق تمام امور کو حتمی شکل دے دی اور بہت جلد خصوصی مجاذ کا حامل ڈائریکٹریٹ تمام مدارس کے معاملات دیکھے گا‘۔انہوں نے بتایا کہ مذکورہ ڈائریکٹریٹ وفاقی حکومت کے ماتحت ہوگا۔انہوں نے ڈان کو بتایا کہ ’ڈائریکٹریٹ مدارس کی رجسٹریشن سمیت ان کے لیے سہولت سینٹر کی طرح کام کرے گا‘۔شفقت محمود نے بتایا کہ مدارس کے طلبا و طالبات کو عصرِ حاضر کی جدید تعلیم بھی دی جائے گی اور وفاقی بورڈ کے تحت ان کے امتحانات ہوں گے۔ان کا کہنا تھا کہ اتحاد تنظیم المدارس کے مذہبی اسکالرز پہلے ڈائریکٹریٹ کی حمایت کرچکے ہیں۔وزارت تعلیم کے حکام سے متعدد اجلاس کے بعد اتحاد تنظیم المدارس کے ترجمان نے تمام منسلک مدارس کی رجسٹریشن پر آمادگی کا اظہار کیا تھا۔تاہم جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے فریق بننے سے گریز کیا اور کسی اجلاس میں شرکت نہیں دی۔ واضح رہے کہ ملک بھر میں جے یو آئی (ف) کے تحت متعدد مدارس فعال ہیں۔دوسری جانب حکومت نے واضح کیا تھا کہ کچھ عرصے بعد تمام غیر رجسٹرڈ مدارس کو غیر فعال کردیا جائے گا۔واضح رہے کہ رواں برس اپریل میں نیشنل کاو¿نٹر ٹیررازم اتھارٹی (نیکٹا) نے ملک بھر کے مدارس کی جیو ٹیگنگ اور رجسٹریشن کی ابتدائی رپورٹ مرتب کرلی تھی۔نیکٹا رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں واقع تمام مدارس کی جیوٹیگنگ مکمل کرلی گئی ہے جبکہ صوبہ خیبرپختونخوا کے قبائلی علاقے فاٹا کے 85 فیصد، سندھ کے 80 فیصد، خیبرپختونخوا کے 75 فیصد اور بلوچستان کے 60 فیصد مدارس کی جیو ٹیگنگ کی گئی تھی۔نیکٹا رپورٹ سے ایک روز قبل 29 اپریل کو پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) میجر جنرل آصف غفور نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ 1947 میں پاکستان میں مدرسوں کی تعداد 247 تھی، 1980 میں یہ 2 ہزار 8سو 61 ہوگئی اور اس کے بعد ا?ج تک یہ تعداد 30 ہزار سے زائد ہوگئی ہے، ان مدرسوں کا ایک نظام چل رہا ہے، جس میں 3 طریقے کے مدرسے ہیں جبکہ ان تمام مدارس میں سے 100 سے بھی کم تشدد کی طرف راغب کرتے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Next Post

حکومت نے پرائیویٹ میڈیکل کالجزکےلئے ایک مرتبہ پھر آرڈیننس جاری

منگل اکتوبر 22 , 2019
Share on Facebook Tweet it Share on Google Email اسلام آباد (مشرق نیوز)پاکستان میڈیکل کمیشن آرڈیننس 2019 کے نفاذ سے پرائیویٹ میڈیکل اور ڈینٹل کالجز کو غیرمعمولی اختیار تفویض ہوگئے، جس کے تحت وہ اپنی مرضی سے فیس کا تعین کرسکیں گے۔تفصیلات کے مطابق مذکورہ آرڈیننس کے تحت کالجز اضافی […]

چیف ایڈیٹر

سید ممتاز احمد

قارئین اور ناظرین کو لمحہ لمحہ باخبر رکھنے کے لئے” مشرق “ویب سائٹ اور” مشرق“ ٹی وی کااجراءکیاگیا ہے۔روزنامہ” مشرق“ کا قیام1962ءمیں عمل میں آیا تھا ۔یہ اخبار پاکستان کی جدید صحافت کے علمبردار آئین کی بالادستی ،جمہوری قدروں کے فروغ اور انسانی حقوق کے تحفظ کاعلم بلند کرنے کے عزم کے ساتھ دنیائے صحافت میں آیا تھا ۔ ”مشرق “نے جدید تقاضوں کے مطابق اپنے قارئین اور دنیا بھر میں پاکستانیوں کو باخبر رکھنے کے لئے ویب سائٹ اور ویب ٹی وی کا جناب سید ممتاز احمد شاہ چیف ایڈیٹر مشرق گروپ آف نیوزپیپرز کی نگرانی میں اجراءکیاہے ۔یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ اقلیم صحافت کے درخشندہ ستارے سید ممتاز احمد کا شمار پاکستانی صحافت کے اکابرین میں ہوتا ہے۔زندگی بھر قلم وقرطاس اور پرنٹ میڈیا ہی ان کا اوڑھنا بچھونا رہا۔سید ممتاز احمد شاہ نے آج سے 50 برس قبل صحافت جیسی وادی ¿ پرخار میںقدم رکھا۔ضیائی مارشل لا کے دور میں کئی مراحل آئے جب قلم اور قرطاس سے رشتہ برقرار اور استوار رکھنا انتہائی جانگسل ہوچکا تھا لیکن وہ کٹھن اور دشوار گزار راستوں پر سے گزرتے رہے لیکن ان کے پایہ¿ استقلال میں کبھی لغزش دیکھنے سننے میں نہیں آئی۔ واضح رہے کہ سید ممتاز احمد نے ملک کے اہم ترین انگریزی اخبار ”ڈان“ ”جنگ“ ”دی نیوز“ اور روزنامہ ”مشرق“ میں اپنی گراں قدر خدمات انجام دی ہیں۔ اور ان کا مشرق کے ساتھ صحافت کا سفر جاری ہے۔