ماضی میں جیسے ملک چلایا جارہا تھا اب ویسے نہیں چل سکتا، وزیراعظم

اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ ماضی میں جیسے ملک کو چلایا جارہا تھا اب ویسے نہیں چل سکتا۔

گوجرانوالہ چیمبر آف کامرس کی اسلام آباد میں تقسیم انعامات کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ میں بار بار مدینہ کی ریاست کی بات کرتا ہوں، مدینہ کی ریاست میں طاقتور اور کمزور کے لیے ایک ہی قانون ہوتا ہے، طاقتور اور کمزور کے لیے الگ الگ قانون ہوں تو ریاست تباہ ہوجاتی ہے جب کہ جن معاشروں نے ترقی کی وہاں سب کے لیے ایک ہی قانون ہے، عدل و انصاف ریاست مدینہ کے اصول تھے۔

وزیراعظم نے کہا کہ ہم پاکستان کو عظیم ملک بنائیں گے، میری ملک سے باہر کوئی جائیداد اور کاروبار نہیں، میرا جینا مرنا پاکستان میں ہے جب کہ منی لانڈرنگ کرنے والوں کے مفادات کچھ اور ہیں، جن پر کیسز ہیں ان سب کے رشتہ دار باہر بھاگے ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک میں جو چھوٹی چوری کرتا ہے سب کو پتا ہے اس کے ساتھ جیل میں کیا سلوک ہوتا ہے، پچھلے سال جتنا ٹیکس ادا کیا اس کا نصف قرضوں کی ادائیگیوں میں چلا گیا، ماضی میں جیسے پاکستان کو چلایا جارہا تھا اب پاکستان ویسے نہیں چل سکتا۔

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ لوگوں کو ایف بی آر پر اعتماد نہیں، ایف بی آر میں 700 ارب روپے کی چوری ہوتی تھی، ایف بی آر میں اصلاحات پر کام کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم نے سب کو ٹیکس نیٹ میں لے کر آنا ہے تاہم دباؤ ڈالنے والوں سے کہتا ہوں پیچھا ہٹا تو قوم سے غداری ہو گی، شناختی کارڈ کی شرط کی مخالفت وہ تاجر کر رہے ہیں جو اسمگلنگ کا سامان بیچتے ہیں۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ 22کروڑ افراد میں سے 15 لاکھ ٹیکس دیتے ہیں، شبر زیدی نے بتایا کہ پاکستان کا 70 فیصد ٹیکس 300 کمپنیاں دے رہی ہیں، اگلے سال کے لیے پوری قوت سے 5500 ارب ریونیو اکٹھا کریں گے، ٹیکس نظام درست ہو تو قرضے بھی اتریں گے اور ترقیاتی کام بھی ہوں گے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Next Post

حمائمہ ملک نے مومنہ مستحسن کو پرچی قرار دے دیا

بدھ جولائی 17 , 2019
Share on Facebook Tweet it Share on Google Email کراچی: اداکارہ حمائمہ ملک نے گلوکارہ مومنہ مستحسن پر تنقید کرتے ہوئے انہیں ’’پرچی‘‘ قراردے دیا۔ لکس اسٹائل ایوارڈز کی تقریب کے دوران مومنہ مستحسن کو ٹھنڈی پرفارمنس دینے پرسوشل میڈیا پر شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ سوشل میڈیا صارفین کے […]

چیف ایڈیٹر

سید ممتاز احمد

قارئین اور ناظرین کو لمحہ لمحہ باخبر رکھنے کے لئے” مشرق “ویب سائٹ اور” مشرق“ ٹی وی کااجراءکیاگیا ہے۔روزنامہ” مشرق“ کا قیام1962ءمیں عمل میں آیا تھا ۔یہ اخبار پاکستان کی جدید صحافت کے علمبردار آئین کی بالادستی ،جمہوری قدروں کے فروغ اور انسانی حقوق کے تحفظ کاعلم بلند کرنے کے عزم کے ساتھ دنیائے صحافت میں آیا تھا ۔ ”مشرق “نے جدید تقاضوں کے مطابق اپنے قارئین اور دنیا بھر میں پاکستانیوں کو باخبر رکھنے کے لئے ویب سائٹ اور ویب ٹی وی کا جناب سید ممتاز احمد شاہ چیف ایڈیٹر مشرق گروپ آف نیوزپیپرز کی نگرانی میں اجراءکیاہے ۔یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ اقلیم صحافت کے درخشندہ ستارے سید ممتاز احمد کا شمار پاکستانی صحافت کے اکابرین میں ہوتا ہے۔زندگی بھر قلم وقرطاس اور پرنٹ میڈیا ہی ان کا اوڑھنا بچھونا رہا۔سید ممتاز احمد شاہ نے آج سے 50 برس قبل صحافت جیسی وادی ¿ پرخار میںقدم رکھا۔ضیائی مارشل لا کے دور میں کئی مراحل آئے جب قلم اور قرطاس سے رشتہ برقرار اور استوار رکھنا انتہائی جانگسل ہوچکا تھا لیکن وہ کٹھن اور دشوار گزار راستوں پر سے گزرتے رہے لیکن ان کے پایہ¿ استقلال میں کبھی لغزش دیکھنے سننے میں نہیں آئی۔ واضح رہے کہ سید ممتاز احمد نے ملک کے اہم ترین انگریزی اخبار ”ڈان“ ”جنگ“ ”دی نیوز“ اور روزنامہ ”مشرق“ میں اپنی گراں قدر خدمات انجام دی ہیں۔ اور ان کا مشرق کے ساتھ صحافت کا سفر جاری ہے۔