مائیک پومپیو’منقسم‘ پیغامات کے ساتھ جرمنی میں

جرمنی (مشرق نیوز)امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو دیوار برلن کے انہدام کے تیس برس پورے ہونے کے موقع پر منقعد ہونے والی تقریبات میں شرکت کی خاطر جرمنی کے دورے پر ہیں۔ وہ سرد جنگ کے دور میں جرمنی میں تعینات بھی رہ چکے ہیں۔امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو تین روزہ دورے پر بدھ کی شام جرمنی پہنچے۔ انہوں نے سب سے پہلے جنوبی صوبے باویریا میں تعینات امریکی دستوں سے ملاقات کی جبکہ آج جمعرات کو وہ اپنے جرمن ہم منصب ہائیکو ماس سے بھی ملاقات کرنے والے ہیں۔پومپیو اور ماس کی ملاقات سابقہ مشرقی اور مغربی جرمن ریاستوں کی مشترکہ سرحد پر واقع مو¿ڈلاروئتھ نامی گاو¿ں میں ہو گی، جس کی آبادی صرف پچاس نفوس پر مشتمل ہے اور تین عشرے پہلے جرمنی کی داخلی سرحد اسی گاو¿ں کے بیچ میں گزرتی تھی۔ اس کے بعد وہ ہالے اور لائپزگ کے لیے روانہ ہو جائیں گے۔ اسی طرح جمعے کو پومپیو چانسلر انگیلا میرکل، وزیر دفاع آنےگرَیٹ کارین باو¿ر اور وزیر خزانہ اولاف شولس کے ساتھ بھی مختلف امور پر تبادلہ خیال کریں گے۔مائیک پومپیو نے اس سے قبل مئی میں جرمنی کا اپنا دورہ آخری لمحات میں مو¿خر کر دیا تھا۔ تاہم بعد ازاں انہوں نے اپنے اس دورے کو مکمل کیا تھا۔ حالیہ دورے کے دوران کئی متنازعہ موضوعات زیر بحث آ سکتے ہیں۔ ان میں سے ایک مغربی دفاعی اتحاد نیٹو کے فوجی اخراجات کا معاملہ بھی ہے۔واشنگٹن حکومت کا الزام ہے کہ جرمنی نیٹو کے مجموعی فوجی اخراجات میں اپنا مناسب حصہ ادا نہیں کر رہا۔ اس کے علاوہ امریکا کو جرمنی اور روس کے مشترکہ گیس پائپ لائن منصوبے پر بھی اعتراض ہے۔ انہی وجوہات کی بناء پر جرمنی اور امریکا کے باہمی روابط میں سرد مہری بھی پائی جاتی ہے۔1990ءمیں جب سرد جنگ کا دور ختم ہوا، تو اس وقت مغربی جرمنی میں دو لاکھ امریکی فوجی تعینات تھے۔ مشرقی اور مغربی جرمنی کے انضمام کے بعد امریکا نے اپنے فوجیوں کی تعداد کو بتدریج کم کرنا شروع کر دیا تھا۔ آج کل جرمنی کے مختلف مقامات پر تقریباً پینتیس ہزار امریکی فوجی تعینات ہیں۔تاہم پومپیو اور جرمن رہنماو¿ں کی ملاقاتوں میں ممکنہ طور پر یہ موضوع بھی زیر بحث آ سکتا ہے کہ اور مزید کتنا عرصہ امریکی فوجی جرمن سرزمین پر موجود رہیں گے؟

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Next Post

البغدادی کی بیوہ کو گرفتار کر لیا گیا، ترک صدر ایردوآن

جمعہ نومبر 8 , 2019
Share on Facebook Tweet it Share on Google Email ترکی (مشرق نیوز)ترک صدر ایردوآن کے بقول البغدادی کی ہلاکت پر امریکا نے بہت شور مچایا تھا لیکن ترکی نے البغدادی کی بہن، بہنوئی اور اب اس کی بیوہ کو گرفتار کیا ہے مگر ’ہم کوئی واویلا نہیں کر رہے‘۔ترک صدر […]

چیف ایڈیٹر

سید ممتاز احمد

قارئین اور ناظرین کو لمحہ لمحہ باخبر رکھنے کے لئے” مشرق “ویب سائٹ اور” مشرق“ ٹی وی کااجراءکیاگیا ہے۔روزنامہ” مشرق“ کا قیام1962ءمیں عمل میں آیا تھا ۔یہ اخبار پاکستان کی جدید صحافت کے علمبردار آئین کی بالادستی ،جمہوری قدروں کے فروغ اور انسانی حقوق کے تحفظ کاعلم بلند کرنے کے عزم کے ساتھ دنیائے صحافت میں آیا تھا ۔ ”مشرق “نے جدید تقاضوں کے مطابق اپنے قارئین اور دنیا بھر میں پاکستانیوں کو باخبر رکھنے کے لئے ویب سائٹ اور ویب ٹی وی کا جناب سید ممتاز احمد شاہ چیف ایڈیٹر مشرق گروپ آف نیوزپیپرز کی نگرانی میں اجراءکیاہے ۔یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ اقلیم صحافت کے درخشندہ ستارے سید ممتاز احمد کا شمار پاکستانی صحافت کے اکابرین میں ہوتا ہے۔زندگی بھر قلم وقرطاس اور پرنٹ میڈیا ہی ان کا اوڑھنا بچھونا رہا۔سید ممتاز احمد شاہ نے آج سے 50 برس قبل صحافت جیسی وادی ¿ پرخار میںقدم رکھا۔ضیائی مارشل لا کے دور میں کئی مراحل آئے جب قلم اور قرطاس سے رشتہ برقرار اور استوار رکھنا انتہائی جانگسل ہوچکا تھا لیکن وہ کٹھن اور دشوار گزار راستوں پر سے گزرتے رہے لیکن ان کے پایہ¿ استقلال میں کبھی لغزش دیکھنے سننے میں نہیں آئی۔ واضح رہے کہ سید ممتاز احمد نے ملک کے اہم ترین انگریزی اخبار ”ڈان“ ”جنگ“ ”دی نیوز“ اور روزنامہ ”مشرق“ میں اپنی گراں قدر خدمات انجام دی ہیں۔ اور ان کا مشرق کے ساتھ صحافت کا سفر جاری ہے۔