لاہو ر: مسجد سے ایک لاکھ روپے مالیت کے جوتے چوری

لاہور کی مسجد سے ایک لاکھ روپے مالیت کے جوتے چوری ہو گئے، متاثرہ شہری نے تھانے میں درخواست دے دی۔

لاہور کے تھانہ سول لائینز میں ڈیفنس کے رہائشی شیراز بشیر نے درخواست دی ہے کہ گنگا رام اسپتال کے قریب میسن روڈ کی ایک مسجد میں نماز مغرب ادا کرنے گیا، جہاں اس کے ایک لاکھ روپے مالیت کے جوتے چوری ہو گئے۔

درخواست میں کہا گیا ہے کہ سی سی ٹی وی کی مدد سے چور کو تلاش کر کے اس کے جوتے برآمد کرائے جائیں۔

پولیس کا کہنا ہے کہ درخواست پر قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Next Post

کوئٹہ میں شوہر نے مٹی کا تیل چھڑک کر بیوی کو آگ لگا دی

منگل دسمبر 3 , 2019
Share on Facebook Tweet it Share on Google Email کوئٹہ: باچاخان چوک پر شوہر نے مٹی کا تیل چھڑک کر بیوی کو آگ لگا دی جس کے نتیجے میں وہ بری طرح جھلس گئی۔       کوئٹہ کے علاقے باچا خان چوک پر میاں بیوی کے درمیان جھگڑا ہوا اور شوہر نے مٹی […]

چیف ایڈیٹر

سید ممتاز احمد

قارئین اور ناظرین کو لمحہ لمحہ باخبر رکھنے کے لئے” مشرق “ویب سائٹ اور” مشرق“ ٹی وی کااجراءکیاگیا ہے۔روزنامہ” مشرق“ کا قیام1962ءمیں عمل میں آیا تھا ۔یہ اخبار پاکستان کی جدید صحافت کے علمبردار آئین کی بالادستی ،جمہوری قدروں کے فروغ اور انسانی حقوق کے تحفظ کاعلم بلند کرنے کے عزم کے ساتھ دنیائے صحافت میں آیا تھا ۔ ”مشرق “نے جدید تقاضوں کے مطابق اپنے قارئین اور دنیا بھر میں پاکستانیوں کو باخبر رکھنے کے لئے ویب سائٹ اور ویب ٹی وی کا جناب سید ممتاز احمد شاہ چیف ایڈیٹر مشرق گروپ آف نیوزپیپرز کی نگرانی میں اجراءکیاہے ۔یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ اقلیم صحافت کے درخشندہ ستارے سید ممتاز احمد کا شمار پاکستانی صحافت کے اکابرین میں ہوتا ہے۔زندگی بھر قلم وقرطاس اور پرنٹ میڈیا ہی ان کا اوڑھنا بچھونا رہا۔سید ممتاز احمد شاہ نے آج سے 50 برس قبل صحافت جیسی وادی ¿ پرخار میںقدم رکھا۔ضیائی مارشل لا کے دور میں کئی مراحل آئے جب قلم اور قرطاس سے رشتہ برقرار اور استوار رکھنا انتہائی جانگسل ہوچکا تھا لیکن وہ کٹھن اور دشوار گزار راستوں پر سے گزرتے رہے لیکن ان کے پایہ¿ استقلال میں کبھی لغزش دیکھنے سننے میں نہیں آئی۔ واضح رہے کہ سید ممتاز احمد نے ملک کے اہم ترین انگریزی اخبار ”ڈان“ ”جنگ“ ”دی نیوز“ اور روزنامہ ”مشرق“ میں اپنی گراں قدر خدمات انجام دی ہیں۔ اور ان کا مشرق کے ساتھ صحافت کا سفر جاری ہے۔