فضل الرحمن کا آرمی چیف سے ملاقات کاانکشاف

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)جے یو آئی (ف) کے رہنما مولانا فضل الرحمان نے چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ سے ملاقات کی اور آزادی مارچ کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا۔ اس بات کا انکشاف بدھ کو نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں اینکر کی جانب سے کیا گیا۔مذکورہ اینکر ا±ن صحافیوں میں شامل تھے جنہوں نے دیگر صحافیوں کے ہمراہ وزیراعظم سے ملاقات کی تھی۔ مذکورہ اینکر کے مطابق، مولانا فضل الرحمان اور آرمی چیف کی ملاقات چند روز قبل ہوئی تھی جب انہوں نے آزادی مارچ کا اعلان کیا تھا۔ پروگرام کے شریک میزبان کا کہنا تھا کہ آرمی چیف نے مولانا کو یقین دہانی کرائی کہ وہ جمہوریت اور آئین کے ساتھ کھڑے ہیں اور ہم وہی کر رہے ہیں جو آئین ہم سے مطالبہ کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان کو آرمی چیف نے یاد دہانی کرائی کہ وہ ایک ذمہ دار سیاسی رہنما ہیں اور انہیں خطے کی صورتحال کا اندازہ ہونا چاہئے کہ یہ کتنی پریشان کن ہے۔کشمیر کے حالات کی وجہ سے بارڈر پر صورتحال کشیدہ ہے۔ آرمی چیف نے ایران سعودی عرب تعلقات کا بھی حوالہ دیا اور مولانا سے کہا کہ یہ دھرنے کیلئے درست وقت نہیں کیونکہ ملکی معیشت کو دن رات محنت سے درست سمت کی طرف لے جایا گیا ہے۔ پروگرام کے شریک میزبان کے مطابق، آرمی چیف نے واضح کیا کہ وہ اس وقت کسی بھی طرح کے عدم استحکام کی اجازت نہیں دیں گے۔ آرمی چیف نے مائنس عمران کے امکانات کو بھی مسترد کر دیا کیونکہ وہی آئینی وزیراعظم ہیں۔انہوں نے مولانا کو بتایا کہ آپ اور نہ ہی میں انہیں مائنس کر سکتے ہیں۔ شریک میزبان کے مطابق، آرمی چیف نے یہ بھی واضح کیا کہ اگر مولانا نے احتجاج پر اصرار کیا تو کچھ اور لوگ مائنس ہو سکتے ہیں۔مذاکرات کے لیے تیار ہیں لیکن حکومت اوچھے ہتھکنڈے چھوڑدے: فضل الرحماناستحکام کیلئے اگر جانی نقصان ہوا اور آئین اس کی اجازت بھی دیتا ہے تو ایسے کسی بھی اقدام سے نہیں ہچکچائیں گے۔آرمی چیف کے ساتھ اس ملاقات کے حوالے سے موقف معلوم کرنے کیلئے مولانا دستیاب نہیں تھے۔مولانا نے ایک روز قبل مارچ کیلئے آشیرباد کے حصول کیلئےکسی شخص کو فون کال کی تھی اور ساتھ ہی یہ یقین دہانی کرائی کہ وہ دھرنا نہیں دیں گے اور کوئی عوامی اجتماع نہیں ہوگا، لیکن انہیں صرف مارچ کیلئے اجازت دی جائے۔ شریک میزبان کا کہنا تھا کہ مولانا کو ایسا کرنے سے سختی سے منع کر دیا گیا۔شریک میزبان نے اس شخص کا نام نہیں بتایا جسے مولانا نے فون کال کی تھی۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ مولانا کے حوصلے پست ہو رہے ہیں کیونکہ حکومت نے گزشتہ چار سے پانچ روز کے دوران اپنے آپشنز دانشمندی سے استعمال کیے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Next Post

نوازشریف کی تلی کے بے ترتیب کام کرنے سے پلیٹ لیٹس ٹوٹ رہے ہیں،پروفیسر محمود ایاز

جمعرات اکتوبر 24 , 2019
Share on Facebook Tweet it Share on Google Email اسلام آباد (مشرق نیوز )نوازشریف کا علاج کرنے والے میڈیکل بورڈ کے سربراہ پروفیسر محمود ایاز نے کہاہے کہ نوازشریف کے مرض کی اتبدائی طور تشخیص کر لی گئی ہے اور دوا بھی شروع کروا دی گئی ہے نجی ٹی وی […]

چیف ایڈیٹر

سید ممتاز احمد

قارئین اور ناظرین کو لمحہ لمحہ باخبر رکھنے کے لئے” مشرق “ویب سائٹ اور” مشرق“ ٹی وی کااجراءکیاگیا ہے۔روزنامہ” مشرق“ کا قیام1962ءمیں عمل میں آیا تھا ۔یہ اخبار پاکستان کی جدید صحافت کے علمبردار آئین کی بالادستی ،جمہوری قدروں کے فروغ اور انسانی حقوق کے تحفظ کاعلم بلند کرنے کے عزم کے ساتھ دنیائے صحافت میں آیا تھا ۔ ”مشرق “نے جدید تقاضوں کے مطابق اپنے قارئین اور دنیا بھر میں پاکستانیوں کو باخبر رکھنے کے لئے ویب سائٹ اور ویب ٹی وی کا جناب سید ممتاز احمد شاہ چیف ایڈیٹر مشرق گروپ آف نیوزپیپرز کی نگرانی میں اجراءکیاہے ۔یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ اقلیم صحافت کے درخشندہ ستارے سید ممتاز احمد کا شمار پاکستانی صحافت کے اکابرین میں ہوتا ہے۔زندگی بھر قلم وقرطاس اور پرنٹ میڈیا ہی ان کا اوڑھنا بچھونا رہا۔سید ممتاز احمد شاہ نے آج سے 50 برس قبل صحافت جیسی وادی ¿ پرخار میںقدم رکھا۔ضیائی مارشل لا کے دور میں کئی مراحل آئے جب قلم اور قرطاس سے رشتہ برقرار اور استوار رکھنا انتہائی جانگسل ہوچکا تھا لیکن وہ کٹھن اور دشوار گزار راستوں پر سے گزرتے رہے لیکن ان کے پایہ¿ استقلال میں کبھی لغزش دیکھنے سننے میں نہیں آئی۔ واضح رہے کہ سید ممتاز احمد نے ملک کے اہم ترین انگریزی اخبار ”ڈان“ ”جنگ“ ”دی نیوز“ اور روزنامہ ”مشرق“ میں اپنی گراں قدر خدمات انجام دی ہیں۔ اور ان کا مشرق کے ساتھ صحافت کا سفر جاری ہے۔