فضل الرحمن سیاسی حلوے کیلئے اسلام آباد کو لاک ڈاون نہ کریں، فردوس عاشق

لاہور( اپنے نمائندے سے ) وفاقی وزیر اطلات ونشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے ہمارے گول کیپر کا 22 سال کا تجربہ ہے، پرچیوں پرچلنے والا نہیں ، چٹھیوں پرچلنے والوں کا مقابلہ کرنا ہمیں آتا ہے، پہلی حکومت ہے جو ڈیزل کے بغیر چل رہی ہے اور چلتی رہے گی،لاہور میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے فردوس عاشق اعوان نے کہامعاشی پالیسیوں کی بدولت سرکایہ کاروں کا اعتماد بڑھ گیا ،پاکستان میں کاروبار کے نئے مواقع پیدا ہو رہے ہیں، وزیراعظم کی درست معاشی پالیسیوں پردنیا میں اعتماد کا اظہارکیا جا رہا ہے،ملکی قیادت صورتحال کومواقع میں تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے،مسلم لیگ ن آمرانہ سوچ کی جماعت ہے، مسلم لیگ ن میں جمہوریت نظر نہیں آتی، نوازشریف اورشہبازشریف کی سمت مختلف ہے آج کا یہ شوروغل، انتشاراور فساد صرف اپنی ذات کیلئے ہے،ایک بھائی جیل اوردوسرا ماڈل ٹاون میں ہے پھر بھی خط وکتابت ہو رہی ہے، جیل سے لکھے گئے خط کا حال بھی قطری خط جیسا ہوگا،نوازشریف اور شہبازشریف جس گند سے کھیل رہے ہیں اس سے کچھ حاصل نہیں ہوگا، انہوں نے کہا عمران خان کا عزم چٹان جیسا ہے،قومی مفاد کی بات ہوگی تو اپوزیشن سے ڈائیلاگ ہوں گے، مولانا کا مسئلہ حلوے سے جڑا ہے، جہاں حلوہ ہوگا وہیں جائیں گے،جیل والے فضل الرحمن کو ڈھال کے طور پر استعمال کر رہے ہیں، حکومت کسی سے سیاسی انتقام نہیں لے رہی، نواز شریف کا فیصلہ سپریم کورٹ اور احتساب عدالت نے کیا، پی ٹی آئی حکومت کو قرضے ورثے میں ملے، ماضی کے حکمرانوں نے ملک کو مقروض کیا، وزیراعظم نے ملکی معیشت کو سہارا دیا، مشکل وقت میں ساتھ دینے پر دوست ممالک کے شکر گزار ہیں، مخالفین نے پاکستان کو بلیک لسٹ کرنے کی کوشش کی، عوام کو ریلیف دینے کیلئے معیشت سے متعلق مشکل فیصلے کیے، آئی ایم ایف پروگرام میں جا کر بدترین صورتحال سے نکلے، ایف بی آر میں اصلاحات لا کر ٹیکس نیٹ میں اضافہ کیاگیا، ٹیکسز میں 5 فیصد لوگوں پر 95 فیصد لوگوں کا بوجھ ہے، ملک کا سب سے بڑا مسئلہ منی لانڈرنگ تھا،اس سے قبل اپنی ٹوئٹ میں فردوس عاشق اعوان نے کہافضل الرحمن کے مارچ کی بلی تھیلے سے باہر آگئی ، ثابت ہوگیا ان کا مارچ کشمیریوں کی آزادی کےلئے نہیں چوروں کی آزادی کےلئے ہے، وہ مظلوموں اور بے کسوں کے لئے نہیں بلکہ کرپشن کنگز کے سیاسی و معاشی روزگار کو تحفظ دینے کے لیے باہر نکلے رہ ہیں،معاون خصوصی نے کہا نواز شریف اور شہباز شریف سمیع اللہ اور کلیم اللہ کا کھیل کھیل رہے ہیں،کبھی بال شہباز شریف کے پاس ہوتی ہے تو کبھی نواز شریف کے پاس دونوں گول کرنے میں ناکام ہیں کیونکہ دونوں کے گول پوسٹ الگ الگ ہیں،ماڈل ٹاون میں ہونے والا اجلاس بھی اسی کھیل کا حصہ ہے، جانتے ہیں فضل الرحمن سیاسی حلوے کے شیدائی ہیں جس کے حصول کیلئے اسلام آباد کو لاک ڈاون نہ کریں، اندرونی اور بیرونی آقاوں کی خوشنودی کیلئے بھارت کے خلاف یوم سیاہ کے دن کو سیاست کےلئے چنا گیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Next Post

پشاور میں افغان قونصلیٹ بند کرنے کا اعلان افسوسناک ہے ،ترجمان خارجہ

ہفتہ اکتوبر 12 , 2019
Share on Facebook Tweet it Share on Google Email اسلام آباد (بیورورپورٹ)ترجمان دفترخارجہ نے کہاہے پشاور میں افغان قونصلیٹ بند کرنے کا اعلان افسوسناک ہے ،پاکستان کے عدالتی عمل پر کسی بھی ناخوشگوار ریمارکس کومسترد کرتے ہیں،تفصیلات کے مطابق ترجمان دفتر خارجہ نے پشاور میں افغان مارکیٹ سے متعلق افغان […]

چیف ایڈیٹر

سید ممتاز احمد

قارئین اور ناظرین کو لمحہ لمحہ باخبر رکھنے کے لئے” مشرق “ویب سائٹ اور” مشرق“ ٹی وی کااجراءکیاگیا ہے۔روزنامہ” مشرق“ کا قیام1962ءمیں عمل میں آیا تھا ۔یہ اخبار پاکستان کی جدید صحافت کے علمبردار آئین کی بالادستی ،جمہوری قدروں کے فروغ اور انسانی حقوق کے تحفظ کاعلم بلند کرنے کے عزم کے ساتھ دنیائے صحافت میں آیا تھا ۔ ”مشرق “نے جدید تقاضوں کے مطابق اپنے قارئین اور دنیا بھر میں پاکستانیوں کو باخبر رکھنے کے لئے ویب سائٹ اور ویب ٹی وی کا جناب سید ممتاز احمد شاہ چیف ایڈیٹر مشرق گروپ آف نیوزپیپرز کی نگرانی میں اجراءکیاہے ۔یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ اقلیم صحافت کے درخشندہ ستارے سید ممتاز احمد کا شمار پاکستانی صحافت کے اکابرین میں ہوتا ہے۔زندگی بھر قلم وقرطاس اور پرنٹ میڈیا ہی ان کا اوڑھنا بچھونا رہا۔سید ممتاز احمد شاہ نے آج سے 50 برس قبل صحافت جیسی وادی ¿ پرخار میںقدم رکھا۔ضیائی مارشل لا کے دور میں کئی مراحل آئے جب قلم اور قرطاس سے رشتہ برقرار اور استوار رکھنا انتہائی جانگسل ہوچکا تھا لیکن وہ کٹھن اور دشوار گزار راستوں پر سے گزرتے رہے لیکن ان کے پایہ¿ استقلال میں کبھی لغزش دیکھنے سننے میں نہیں آئی۔ واضح رہے کہ سید ممتاز احمد نے ملک کے اہم ترین انگریزی اخبار ”ڈان“ ”جنگ“ ”دی نیوز“ اور روزنامہ ”مشرق“ میں اپنی گراں قدر خدمات انجام دی ہیں۔ اور ان کا مشرق کے ساتھ صحافت کا سفر جاری ہے۔