عوام کو ہائی کورٹ تک رسائی نہیں، تو خود سری نگر کا دورہ کروں گا، بھارتی چیف جسٹس

بھارتی چیف جسٹس رنجن گوگوئی کا کہنا ہے کہ وہ خود مقبوضہ کشمیر کے شہر سری نگر جاکر دیکھیں گے کہ وہاں عوام کو ہائی کورٹ تک کی رسائی ہے کہ نہیں تاہم انہوں نے مقبوضہ وادی میں معمولات زندگی کی بحالی کے کوئی احکامات جاری نہیں کیے۔

بھارتی خبر نیوز ویب سائٹ انڈیا ٹوڈے کی رپورٹ کے مطابق انہوں نے یہ ریمارکس چائلڈ رائٹس ایکٹوسٹ اناکشی گنگولی اور پروفیسر شانتا سنہا کی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے دیے۔

درخواست گزاروں کے وکیلوں کا کہنا تھا کہ مہینے بھر سے جاری حکومت کے لاک ڈاؤن سے خطے میں عوام کو مقبوضہ جموں و کشمیر ہائی کورٹ تک رسائی حاصل نہیں ہورہی ہے۔

یہ درخواست مقبوضہ کشمیر میں لاک ڈاؤن پر سول سوسائٹی کے اراکین کی جانب سے دائر کی گئی کئی درخواستوں میں سے تھی۔

بھارتی حکومت نے گزشتہ ماہ مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت واپس لینے سے قبل وادی میں کرفیو نافذ کردیا تھا۔

دوران سماعت چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ‘اگر آپ کہہ رہے ہیں کہ ہائی کورٹ تک رسائی مشکل ہوگئی ہے تو یہ نہایت سنجیدہ بیان ہے، کیا ہائی کورٹ جانے میں آپ کے کو کوئی روک رہا ہے؟ اور کیوں؟’۔

وکیل کے مطابق ‘خطے میں شٹ ڈاؤن عوام کو عدالت جانے سے روک رہا ہے’۔

مقبوضہ جموں و کشمیر کے ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سے رپورٹ طلب کرتے ہوئے کہا کہ ‘یہ نہایت سنجیدہ معاملہ ہے، اگر عوام کو ہائی کورٹ تک رسائی نہیں تو میں خود سری نگر کا دورہ کروں گا’۔

بعد ازاں انہوں نے وکیلوں کو خبر دار کیا کہ اگر رپورٹ اس کے برعکس ہوئی تو وہ اس کے نتائج بھگتنے کے لیے تیار ہوجائیں۔

سپریم کورٹ نے وفاق سے مقبوضہ کشمیر میں معمولات زندگی بحال کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش کرنے کا بھی کہا۔

انڈیا ٹوڈے کی رپورٹ کے مطابق عدالت نے تنازع کے شکار علاقے کی بحالی کے حوالے سے کوئی احکامات جاری کرنے سے انکار کیا اور کہا کہ ‘بحالی منتخب بنیادوں پر کی جائے گی جس میں قومی مفاد کو مدنظر رکھا جائے گا’۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ‘ہم کوئی احکامات جاری نہیں کر رہے، ہم یہ کہہ رہے ہیں کہ قومی سلامتی کو مد نظر رکھتے ہوئے تمام سہولیات بحال کی جانی چاہیے، ہم کسی کو بھی اس سے مستثنیٰ نہیں کرسکتے’۔

علاوہ ازیں سپریم کورٹ نے اپوزیشن لیڈر غلام نبی آزاد کو مقبوضہ کشمیر جانے کی اجازت دے دی ہے۔

بھارتی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس نے کہا کہ غلام نبی آزاد سری نگر، اننتناگ، بارہ مولا اور جموں جا سکتے ہیں اور وہاں عوام سے مل جل سکتے ہیں انہیں ریلیاں نکالنے کی اجازت نہیں ہوگی۔

واضح رہے کہ بھارت کی جانب سے 5 اگست کو مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت سے متعلق آئین کے آرٹیکل 370 کو ختم کرنے کے بعد سے درجنوں کشمیری سیاست دان اور رہنماؤں کو گرفتار یا نظربند کردیا تھا، اس کے علاوہ مقبوضہ وادی میں کرفیو نافذ ہے اور انٹرنیٹ، موبائل سمیت تمام مواصلاتی نظام معطل ہے۔

یہی نہیں بلکہ اس سے قبل بھارتی انتظامیہ نے مقبوضہ کشمیر کے سابق وزرائے اعلیٰ عمر عبداللہ اور محبوبہ مفتی کو نظر بند اور بعد ازاں گرفتار کرلیا تھا جو 40 روز سے زائد گزرنے کے باوجود تاحال زیرحراست ہیں۔

اس کے علاوہ مقبوضہ کشمیر کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق وادی کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے بعد سے اب تک 4 ہزار افراد کو حراست میں لیا جاچکا ہے۔

تاہم ان سب پابندیوں کے باوجود مقبوضہ کشمیر میں گزشتہ 6 ہفتوں میں بھارتی حکومت کے خلاف یومیہ اوسطاً 20 احتجاجی مظاہرے کیے جارہے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Next Post

قبائلی عمائدین اور عوام کشمیریوں پر بھارتی مظالم کے خلاف نکل پڑے

پیر ستمبر 16 , 2019
Share on Facebook Tweet it Share on Google Email پشاور: پشاور موٹروے ٹول پلازہ سے مظفر آباد تک لانگ مارچ کیا جائے گا، ہزاروں کی تعداد میں قبائلی اس مارچ میں شریک ہیں۔ تفصیلات کے مطابق کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کیلئے خیبر پختونخوا کے قبائلیوں نے ماضی کی یاد تازہ […]

چیف ایڈیٹر

سید ممتاز احمد

قارئین اور ناظرین کو لمحہ لمحہ باخبر رکھنے کے لئے” مشرق “ویب سائٹ اور” مشرق“ ٹی وی کااجراءکیاگیا ہے۔روزنامہ” مشرق“ کا قیام1962ءمیں عمل میں آیا تھا ۔یہ اخبار پاکستان کی جدید صحافت کے علمبردار آئین کی بالادستی ،جمہوری قدروں کے فروغ اور انسانی حقوق کے تحفظ کاعلم بلند کرنے کے عزم کے ساتھ دنیائے صحافت میں آیا تھا ۔ ”مشرق “نے جدید تقاضوں کے مطابق اپنے قارئین اور دنیا بھر میں پاکستانیوں کو باخبر رکھنے کے لئے ویب سائٹ اور ویب ٹی وی کا جناب سید ممتاز احمد شاہ چیف ایڈیٹر مشرق گروپ آف نیوزپیپرز کی نگرانی میں اجراءکیاہے ۔یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ اقلیم صحافت کے درخشندہ ستارے سید ممتاز احمد کا شمار پاکستانی صحافت کے اکابرین میں ہوتا ہے۔زندگی بھر قلم وقرطاس اور پرنٹ میڈیا ہی ان کا اوڑھنا بچھونا رہا۔سید ممتاز احمد شاہ نے آج سے 50 برس قبل صحافت جیسی وادی ¿ پرخار میںقدم رکھا۔ضیائی مارشل لا کے دور میں کئی مراحل آئے جب قلم اور قرطاس سے رشتہ برقرار اور استوار رکھنا انتہائی جانگسل ہوچکا تھا لیکن وہ کٹھن اور دشوار گزار راستوں پر سے گزرتے رہے لیکن ان کے پایہ¿ استقلال میں کبھی لغزش دیکھنے سننے میں نہیں آئی۔ واضح رہے کہ سید ممتاز احمد نے ملک کے اہم ترین انگریزی اخبار ”ڈان“ ”جنگ“ ”دی نیوز“ اور روزنامہ ”مشرق“ میں اپنی گراں قدر خدمات انجام دی ہیں۔ اور ان کا مشرق کے ساتھ صحافت کا سفر جاری ہے۔