طالبہ نمرتا اور ان کے دوست مہران ابڑو اور علی شان کےساتھ رابطوں کی تفصیلات جاری

لاہور(کرائم رپورٹر)آصفہ ڈینٹل کالج لاڑکانہ کی طالبہ نمرتا اور ان کے دوست مہران ابڑو اور علی شان کے رابطوں کی تفصیلات سامنے آگئیں۔ایس ایس پی نے بتایا کہ ایف آئی اے سائبرونگ کی جانب سے نمرتا ہلاکت کیس کی رپورٹ پولیس نے حاصل کرلی ہے جس میں نمرتا اور ان کے دوست مہران ابڑو اور علی شان کے ساتھ رابطوں کی تفصیلات بتائی گئی ہیں۔ایف آئی اے کی رپورٹ کے مطابق نمرتا اور مہران ابڑو کے درمیان بہت زیادہ رابطہ تھا اور دونوں 4 ہزار بار کال اور ٹیکسٹ میسیج کے ذریعے بات چیت کرچکے تھے۔رپورٹ کے مطابق نمرتا نے آخری بار 15 ستمبر کو مہران ابڑو سے رابطہ کیا تھا اور اسی ماہ میں نمرتا نے صرف ایک بار اپنے بھائی ڈاکٹر وشال سے بات کی تھی جب کہ قتل کے روز والد سے بھی ایک بار اور والدہ سے 4 بار بات کی تھی۔پولیس نے مزید 5 طالبات کے بیانات قلمبند کر کے ایف آئی اے کی رپورٹ عدالت میں پیش کردی ہے۔واضح رہے کہ گزشتہ روز لیاقت یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز جامشورو نے نمرتا کی ہسٹوپیتھالوجی ایگزامنیشن رپورٹ لاڑکانہ پولیس کے حوالے کی تھی جس میں نمرتا کی موت کی وجہ بظاہر دم گھٹنے یا آکسیجن نہ ملنے سے قرار دی گئی۔خیال رہے کہ 16 ستمبر کو نمرتا کی لاش کالج ہاسٹل میں ان کے کمرے سے ملی تھی جس پر کہا گیا تھا کہ طالبہ نے خودکشی کی ہے جبکہ ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں بھی موت کی وجہ خودکشی قرار دی گئی ہے۔تفتیشی اداروں کا کہنا ہے کہ نمرتا اپنے دوست مہران ابڑو سے شادی کی خواہش مند تھی اور دونوں کے درمیان دوستانہ تعلقات بھی تھےلیکن چند ماہ پہلے مہران ابڑو نے شادی سےانکارکردیاتھا اوریہ جوازپیش کیا تھا کہ دونوں کے بیچ اسٹیٹس کاایک بہت بڑا فرق ہے۔ مذہب تبدیل کرنا بھی ممکن نہیں۔مہران ابڑو کے اس انکار کے بعد سے ہی نمرتا شدید ذہنی تناو¿ کا شکار ہوگئی تھی۔امرتا کے ہاسٹل میں اس کےساتھ دو روم میٹس بھی رہتی تھیں۔ واقعہ کی رات وہ تقریبا بارہ سے ایک کے درمیان سوگئی تھیں۔صبح چھ بجے کے قریب دونوں سہیلیاں مندر جانے کے بعد اپنی کلاس میں چلی گئیں۔ دوپہر دو بجے جب دونوں لڑکیاں واپس کمرے میں آئیں تو کمرہ اندر سے لاک تھا۔ بارہا دستک کے باوجود دروازہ نہ کھلنے پراندرجھانکاتو لائٹ آن تھی۔ دونوں پریشان ہوئیں اوروارڈن کی مدد سے دروازے کالاک توڑاگیا تو اندر کا منظر دل ہلادینے والا تھا۔ نمرتا دونوں چارپائیوں کے بیچ پڑی تھی اور اس کے گلے میں دوپٹہ جکڑاہوا تھا۔دونوں سہیلیوں نے گلے سے دوپٹہ کو آزادکرنےکی بہت کوشش کی لیکن وہ کامیاب نہ ہوسکیں۔تفتیشی ذرائع یہ بھی بتاتےہیں اگر یہ قتل تھا تو دروازہ اندر سے کس طرح بند تھا؟ قاتل نمرتا کو قتل کرنے کے بعد باہرکیسے گیا؟ تفتیشی حلقوں کے مطابق جس کمرے سے نمرتا کی لاش ملی اس کمرے کی چھت کی اونچائی تقریبا 13 سے 14 فٹ تھی جبکہ نمرتا کا قد تقریبا پانچ فٹ کے قریب تھا۔اگر اس نے اپنے بیڈ یا کرسی سے اوپر خود کو لٹکانے کی کوشش کی تو پنکھے تک اس کا دوپٹہ کیسے پہنچا؟ یہ بھی ہوسکتاہے کہ اس نے اپنے دوپٹے کو اونچا اچھال کر پنکھے کے اوپر سے گزارا ہو گا اور پھر اپنے گلے کے گرد لپیٹنے میں کامیاب ہو گئی اور کمرے میں پڑی کرسی کو دھکا دیا اور جھول گئی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Next Post

بھارتی شہر بنگلور میں 7 سَروں والے سانپ کی جِلد کے چرچے

جمعرات اکتوبر 10 , 2019
Share on Facebook Tweet it Share on Google Email بنگلور(مانیٹرنگ ڈیسک)آپ نے دو سَروں والے سانپ کے بارے میں تو سنا ہو گا اور شاید کبھی نہ کبھی دیکھا بھی ہو لیکن اگر سات سَروں والا سانپ کبھی آپ کے سامنے آ جائے تو یقیناً آپ خوفزدہ ہو جائیں۔بھارتی شہر […]

چیف ایڈیٹر

سید ممتاز احمد

قارئین اور ناظرین کو لمحہ لمحہ باخبر رکھنے کے لئے” مشرق “ویب سائٹ اور” مشرق“ ٹی وی کااجراءکیاگیا ہے۔روزنامہ” مشرق“ کا قیام1962ءمیں عمل میں آیا تھا ۔یہ اخبار پاکستان کی جدید صحافت کے علمبردار آئین کی بالادستی ،جمہوری قدروں کے فروغ اور انسانی حقوق کے تحفظ کاعلم بلند کرنے کے عزم کے ساتھ دنیائے صحافت میں آیا تھا ۔ ”مشرق “نے جدید تقاضوں کے مطابق اپنے قارئین اور دنیا بھر میں پاکستانیوں کو باخبر رکھنے کے لئے ویب سائٹ اور ویب ٹی وی کا جناب سید ممتاز احمد شاہ چیف ایڈیٹر مشرق گروپ آف نیوزپیپرز کی نگرانی میں اجراءکیاہے ۔یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ اقلیم صحافت کے درخشندہ ستارے سید ممتاز احمد کا شمار پاکستانی صحافت کے اکابرین میں ہوتا ہے۔زندگی بھر قلم وقرطاس اور پرنٹ میڈیا ہی ان کا اوڑھنا بچھونا رہا۔سید ممتاز احمد شاہ نے آج سے 50 برس قبل صحافت جیسی وادی ¿ پرخار میںقدم رکھا۔ضیائی مارشل لا کے دور میں کئی مراحل آئے جب قلم اور قرطاس سے رشتہ برقرار اور استوار رکھنا انتہائی جانگسل ہوچکا تھا لیکن وہ کٹھن اور دشوار گزار راستوں پر سے گزرتے رہے لیکن ان کے پایہ¿ استقلال میں کبھی لغزش دیکھنے سننے میں نہیں آئی۔ واضح رہے کہ سید ممتاز احمد نے ملک کے اہم ترین انگریزی اخبار ”ڈان“ ”جنگ“ ”دی نیوز“ اور روزنامہ ”مشرق“ میں اپنی گراں قدر خدمات انجام دی ہیں۔ اور ان کا مشرق کے ساتھ صحافت کا سفر جاری ہے۔