شام میں اسرائیل کے فضائی حملے، 23 افراد ہلاک

اسرائیل کا کہنا ہے کہ ان کے جنگی طیاروں نے شام میں ایرانی فورسز اور شامی فوجی اہداف کو نشانہ بنایا ہے جبکہ مبصرین کے گروہ کا کہنا ہے کہ حملوں میں 23 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

شام میں آپریشن کی تصدیق کرتے ہوئے اسرائیلی فوج کا کہنا تھا کہ گزشتہ روز اسرائیل پر 4 راکٹ حملوں کے ردعمل میں اس نے ایرانی القدس فورس اور شامی فوج پر درجنوں فضائی حملے کیے ہیں۔

شامی مبصر برائے انسانی حقوق (ایس او ایچ آر) کا کہنا تھا کہ حملوں میں 23 افراد ہلاک ہوئے جن میں سے 6 غیر شامی افراد تھے۔

واضح رہے کہ ایران نے شامی صدر بشارالاسد کی فورسز کے ساتھ ملک میں 8 سالہ خانہ جنگی میں شرکت کی ہے۔

اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو نے بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ ‘جو بھی ہمیں نقصان پہنچائے گا ہم اسے نقصان پہنچائیں گے’۔

اسرائیلی فوج کا کہنا تھا کہ ہم نے ایک رات میں ایرانی القدس فورس اور شامی فوجی اہداف جن میں ویئر ہاؤسز اور فوجی کمانڈ سینٹر بھی شامل ہیں، کو نشانہ بنایا ہے’۔

فوج کے ترجمان جوناتھن کونریکس کا کہنا تھا کہ ‘سب سے اہم ہدف دمشق کے مرکزی انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے قریب کنٹرول تنصیبات کو نشانہ بنانا تھا، یہی وہ عمارت تھی جو ایران کے پاسداران انقلاب سازو سامان کی ایران سے شام اور شام سے آگے منتقلی کے لیے استعمال کرتی تھی’۔

بھاری بمباری

خیال ر ہے کہ اسرائیل نے شام میں 2011 میں شروع ہونے والی خانہ جنگی کے بعد سے مسلسل فضائی اور میزائل حملے کیے ہیں تاہم ان پر بہت کم کوئی بیان دیا ہے۔

منگل کے روز اسرائیل نے دعویٰ کیا تھا کہ ان پر شام سے 4 راکٹ حملے کیے گئے ہیں جس کا الزام انہوں نے ایرانی فورس پر لگایا تھا۔

تاہم اسرائیل کے میزائل روکنے والے آئرن ڈوم سسٹم نے راکٹوں کو فضا میں ہی ناکارہ بنا دیا تھا۔

ایران کے سرکاری خبر رساں ادارے ‘ثنا’ کے مطابق شامی اینٹی ایئر کرافٹ ڈیفنس نے دمشق پر اسرائیلی جنگی طیاروں کے بھاری حملوں کا جواب دیا۔

اسرائیلی فوج نے تصدیق کی کہ ان کے طیاروں کی جانب سے میزائل فائر کیے گئے تھے تاہم انہوں نے کہا کہ ‘کوئی طیارہ میزائل کی زد میں نہیں آسکا’۔

اس کے رد عمل میں انہوں نے کہا کہ ‘کئی شامی فضائی دفاع کی بیٹریز کو تباہ کردیا گیا ہے’۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘ہم شامی حکومت کو شامی سرزمین پر ہونے والی کارروائیوں کا ذمہ دار ٹھہراتے ہیں اور مستقبل میں اسرائیل پر کسی بھی قسم کے حملے سے خبردار کرتے ہیں’۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Next Post

میڈیکل بورڈ کی سفارشات پر نواز شریف کو باہر جانیکی اجازت دی: وزیراعظم

جمعرات نومبر 21 , 2019
Share on Facebook Tweet it Share on Google Email  اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان نے حکومتی ترجمانوں کو چیف جسٹس پاکستان جسٹس آصف کھوسہ کے بیان پر کسی بھی قسم کے تبصرے سے روک دیا ہے۔  وزیر اعظم عمران خان کی زیرصدارت پارٹی اور حکومتی ترجمانوں کا اجلاس ہوا، اجلاس میں […]

چیف ایڈیٹر

سید ممتاز احمد

قارئین اور ناظرین کو لمحہ لمحہ باخبر رکھنے کے لئے” مشرق “ویب سائٹ اور” مشرق“ ٹی وی کااجراءکیاگیا ہے۔روزنامہ” مشرق“ کا قیام1962ءمیں عمل میں آیا تھا ۔یہ اخبار پاکستان کی جدید صحافت کے علمبردار آئین کی بالادستی ،جمہوری قدروں کے فروغ اور انسانی حقوق کے تحفظ کاعلم بلند کرنے کے عزم کے ساتھ دنیائے صحافت میں آیا تھا ۔ ”مشرق “نے جدید تقاضوں کے مطابق اپنے قارئین اور دنیا بھر میں پاکستانیوں کو باخبر رکھنے کے لئے ویب سائٹ اور ویب ٹی وی کا جناب سید ممتاز احمد شاہ چیف ایڈیٹر مشرق گروپ آف نیوزپیپرز کی نگرانی میں اجراءکیاہے ۔یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ اقلیم صحافت کے درخشندہ ستارے سید ممتاز احمد کا شمار پاکستانی صحافت کے اکابرین میں ہوتا ہے۔زندگی بھر قلم وقرطاس اور پرنٹ میڈیا ہی ان کا اوڑھنا بچھونا رہا۔سید ممتاز احمد شاہ نے آج سے 50 برس قبل صحافت جیسی وادی ¿ پرخار میںقدم رکھا۔ضیائی مارشل لا کے دور میں کئی مراحل آئے جب قلم اور قرطاس سے رشتہ برقرار اور استوار رکھنا انتہائی جانگسل ہوچکا تھا لیکن وہ کٹھن اور دشوار گزار راستوں پر سے گزرتے رہے لیکن ان کے پایہ¿ استقلال میں کبھی لغزش دیکھنے سننے میں نہیں آئی۔ واضح رہے کہ سید ممتاز احمد نے ملک کے اہم ترین انگریزی اخبار ”ڈان“ ”جنگ“ ”دی نیوز“ اور روزنامہ ”مشرق“ میں اپنی گراں قدر خدمات انجام دی ہیں۔ اور ان کا مشرق کے ساتھ صحافت کا سفر جاری ہے۔