سلیکا ایئروجیل کی چادر سے مریخ کو قابلِ رہائش بنایا جاسکتا ہے

ہارورڈ: ہماری اب تک کی معلومات کے تحت سرخ سیارہ مریخ رہنے کےلیے مناسب جگہ نہیں۔ وہاں سورج کی بالائے بنفشی (الٹراوائلٹ) شعاعیں براہِ راست آتی ہیں۔ لیکن رات میں سطح غیرمعمولی طور پر سرد ہوتی ہیں۔

اب ہارورڈ یونیورسٹی کے ماہرین نے کہا ہے کہ ہلکے پھلکے سلیکا ایئروجیل کی ایک پرت بچھانے سے مریخ کو بہت حد تک رہنے کے قابل بنایا جاسکتا ہے۔ ایئروجیل مریخی سطح کو گرم کریں گے اور اس کی چادر الٹراوائلٹ شعاعوں کو روکے گی لیکن عام روشنی کو اندر آنے دے گی۔ اس طرح پانی کو مائع حالت میں برقرار رکھنا ممکن ہوگا اور پودوں میں ضیائی تالیف (فوٹوسنتھے سز) کا عمل بھی شروع ہوسکے گا۔

ہارورڈ یونیورسٹی کے ماہرین نے کہا ہے کہ اگرچہ انسانوں کےلیے پورا مریخ تبدیل تو نہیں کیا جاسکتا تاہم سلیکا ایئروجیل سے بعض علاقے ضرور قابلِ رہائش بنائے جاسکیں گے۔ مریخ کا آج مکمل طور پر خشک اور بے آب سیارہ بن چکا ہے۔ لیکن شاید اس کے برفیلے قطبین پر اب بھی منجمد پانی موجود ہوسکتا ہے۔

مریخ کی فضا بہت مہین اور پتلی ہے اور سورج سے آنے والی مضر روشنی کو روکنے سے قاصرہے۔ ایسے میں اگر ایئروجیل کی چادر تان لی جائے تو یہ ایک زبردست تھرمل انسولیٹر کا کام کرے گا اور اس کے نیچے کا علاقہ قابلِ رہائش بن جائے گا۔ اس کی ذیلی سطح قدرے گرم اور رہنے کے قابل بن جائے گی۔

ماہرین نے اس کےلیے تجربہ گاہ میں عین مریخ جیسا ماحول بناکر اس میں سلیکا ایئروجیل آزمایا ہے۔ صرف دو یا تین سینٹی میٹر موٹی چادر کے نیچے کا درجہ حرارت 50 درجے سینٹی گریڈ تک جاپہنچا۔ اس طرح مریخ کا درجہ حرارت شاید منفی دس درجے سینٹی گریڈ ہوجائے گا لیکن پھر بھی رہنے کے قابل ہوگا۔ جیل کی چادر کو مزید تبدیل کرکے قدرے زیادہ گرمی حاصل کی جاسکتی ہے۔

اس طرح پودے بھی زندہ اور توانا رہ سکتے ہیں۔ لیکن ماہرین نے مزید تحقیق کا مشورہ دیا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Next Post

سگریٹ پینے کے شوقین افراد کیلئے خطرناک خبر۔۔۔!

بدھ جولائی 17 , 2019
Share on Facebook Tweet it Share on Google Email بدلتے حالت کے مطابق جہاں انسان کا طرز زندگی تبدیل ہو رہا وہیں انسانی معاشرے میں پائی جانے والی علتیں بھی ماڈرن انداز اپناتی جا رہی ہیں۔ ٹیکنالوجی کی جدیدیت کا ایک رُخ ای سگریٹ کی صورت میں سامنے آیا ہے جس کا […]

چیف ایڈیٹر

سید ممتاز احمد

قارئین اور ناظرین کو لمحہ لمحہ باخبر رکھنے کے لئے” مشرق “ویب سائٹ اور” مشرق“ ٹی وی کااجراءکیاگیا ہے۔روزنامہ” مشرق“ کا قیام1962ءمیں عمل میں آیا تھا ۔یہ اخبار پاکستان کی جدید صحافت کے علمبردار آئین کی بالادستی ،جمہوری قدروں کے فروغ اور انسانی حقوق کے تحفظ کاعلم بلند کرنے کے عزم کے ساتھ دنیائے صحافت میں آیا تھا ۔ ”مشرق “نے جدید تقاضوں کے مطابق اپنے قارئین اور دنیا بھر میں پاکستانیوں کو باخبر رکھنے کے لئے ویب سائٹ اور ویب ٹی وی کا جناب سید ممتاز احمد شاہ چیف ایڈیٹر مشرق گروپ آف نیوزپیپرز کی نگرانی میں اجراءکیاہے ۔یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ اقلیم صحافت کے درخشندہ ستارے سید ممتاز احمد کا شمار پاکستانی صحافت کے اکابرین میں ہوتا ہے۔زندگی بھر قلم وقرطاس اور پرنٹ میڈیا ہی ان کا اوڑھنا بچھونا رہا۔سید ممتاز احمد شاہ نے آج سے 50 برس قبل صحافت جیسی وادی ¿ پرخار میںقدم رکھا۔ضیائی مارشل لا کے دور میں کئی مراحل آئے جب قلم اور قرطاس سے رشتہ برقرار اور استوار رکھنا انتہائی جانگسل ہوچکا تھا لیکن وہ کٹھن اور دشوار گزار راستوں پر سے گزرتے رہے لیکن ان کے پایہ¿ استقلال میں کبھی لغزش دیکھنے سننے میں نہیں آئی۔ واضح رہے کہ سید ممتاز احمد نے ملک کے اہم ترین انگریزی اخبار ”ڈان“ ”جنگ“ ”دی نیوز“ اور روزنامہ ”مشرق“ میں اپنی گراں قدر خدمات انجام دی ہیں۔ اور ان کا مشرق کے ساتھ صحافت کا سفر جاری ہے۔