سعودی عرب پر حملوں کا مقصد عالمی معیشت کو نقصان پہنچانا ہے: شاہ سلمان

ریاض: سعودی فرمانروا شاہ سلمان کا کہنا ہے کہ سعودی عرب بزدلانہ حملوں سے نمٹنے کی صلاحیت رکھتا ہے، ان حملوں کا مقصد اہم سعودی تنصیبات کو نشانہ بنانا نہیں تھا۔

سعودی فرمانروا کا وزرا کی کونسل سے خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ سعودی تنصیبات پر حملے کا مقصد عالمی معیشت کو نقصان پہنچانا ہے۔ تخریبی جارحیت سے عالمی امن اورسلامتی کے لیے خطرات پیدا ہوگئے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب اپنےعلاقے اوراہم تنصیبات کا دفاع کرے گا۔ اس موقع پر انہوں نے آئل فیلڈ پر حملوں کی مذمت کرنے والے ممالک کا شکریہ ادا کیا۔

شاہ سلمان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب اپنے علاقے اور اہم تنصیبات کا دفاع کرے گا، خواہ حملوں کا منبع کوئی بھی ہو ۔اس نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ان حملوں کو رکوانے کے لیے سخت اقدامات کرے۔

خادم الحرمین الشریفین کا کہنا تھا کہ سعودی عرب بقیق اور ہجرۃ خریص میں واقع اپنی تیل کی دو تنصیبات پر ڈرون حملوں سے پیدا ہونے والی صورت حال سے نمٹنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

غیرملکی خبر رساں ادارے کے مطابق سعودی فرمانروا کی سربراہی میں وزرا کی کونسل نے نقصان کا جائزہ لیا اور کابینہ نے کہا کہ منفرد اور تخریبی جارحیت سے عالمی امن اور سلامتی کے لیے خطرات پیدا ہوگئے ہیں۔

سعودی عرب کے وزرا کونسل کے اجلاس میں ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے واضح کیا کہ ریاض اپنی تنصیبات پر حملوں سے نمٹنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔

عرب خبر رساں ادارے الجزیرہ کے مطابق سعودی ولی عہد کی سربراہی میں اجلاس کے بعد اعلامیے میں بتایا گیا کہ کابینہ نے حملوں بعد نقصان کا جائزہ لیا اور عالمی برادری کی حکومتوں سے مطالبہ کیا کہ خطے کی تخصیص کے بغیر ان کا مقابلہ کریں۔ کونسل نے تیل کی تنصیبات پر حملوں کو ’بزدلانہ فعل‘ قرار دیا۔

شہزادہ محمد بن سلمان کا کہنا تھا کہ حملوں سے جہاز رانی کی آزادانہ نقل و حرکت کے لیے خطرہ پیدا ہو گیا اور اس طرح عالمی معاشی ترقی بھی متاثر ہو گی۔

اُدھر ایک امریکی عہدیدار کا کہنا ہے کہ سعودی عرب پر حملہ ایران کی سر زمین سے کیا گیا تھا اور حملوں کے دوران کروز میزائل استعمال کیے گئے تھے۔

امریکا کے ایک اعلیٰ عہدے دار نے شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ امریکا نے سعودی آرامکو کی دو تنصیبات پر حملوں کی ابتدائی تحقیقات کی ہے وہ ابھی مزید شواہد اکٹھے کر رہا ہے اور وہ انھیں آئندہ ہفتے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس کے موقع پر عالمی برادری بالخصوص اپنے یورپی اتحادیوں کے سامنے پیش کرے گا۔

اُدھر ایران نے ایک مرتبہ پھر اپنے سابقہ موقف کو دہراتے ہوئے کہا تھا کہ سعودی عرب کی تیل کی تنصیبات پر حملوں میں ہمارا کوئی کردار نہیں۔

ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان عباس موسوی کا کہنا تھا کہ ہم ایران پر لگائے گئے حملوں کے الزامات کی سخت سے مذمت کرتے ہیں، یہ الزامات ناقابل قبول اور بے بنیاد ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Next Post

افغان صدر طالبان کے خودکش حملے میں بچ نکلے، 48 افراد ہلاک

بدھ ستمبر 18 , 2019
Share on Facebook Tweet it Share on Google Email کابل: امریکی سفارتخانے کے قریب اور صوبہ پروان میں ہونے والے طالبان کے دو حملوں میں 48 افراد ہلاک اور 80 زخمی ہوگئے جبکہ افغان صدر اشرف غنی بھی بال بال بچ گئے۔ رپورٹس کے مطابق دونوں حملوں کی ذمہ داری […]

چیف ایڈیٹر

سید ممتاز احمد

قارئین اور ناظرین کو لمحہ لمحہ باخبر رکھنے کے لئے” مشرق “ویب سائٹ اور” مشرق“ ٹی وی کااجراءکیاگیا ہے۔روزنامہ” مشرق“ کا قیام1962ءمیں عمل میں آیا تھا ۔یہ اخبار پاکستان کی جدید صحافت کے علمبردار آئین کی بالادستی ،جمہوری قدروں کے فروغ اور انسانی حقوق کے تحفظ کاعلم بلند کرنے کے عزم کے ساتھ دنیائے صحافت میں آیا تھا ۔ ”مشرق “نے جدید تقاضوں کے مطابق اپنے قارئین اور دنیا بھر میں پاکستانیوں کو باخبر رکھنے کے لئے ویب سائٹ اور ویب ٹی وی کا جناب سید ممتاز احمد شاہ چیف ایڈیٹر مشرق گروپ آف نیوزپیپرز کی نگرانی میں اجراءکیاہے ۔یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ اقلیم صحافت کے درخشندہ ستارے سید ممتاز احمد کا شمار پاکستانی صحافت کے اکابرین میں ہوتا ہے۔زندگی بھر قلم وقرطاس اور پرنٹ میڈیا ہی ان کا اوڑھنا بچھونا رہا۔سید ممتاز احمد شاہ نے آج سے 50 برس قبل صحافت جیسی وادی ¿ پرخار میںقدم رکھا۔ضیائی مارشل لا کے دور میں کئی مراحل آئے جب قلم اور قرطاس سے رشتہ برقرار اور استوار رکھنا انتہائی جانگسل ہوچکا تھا لیکن وہ کٹھن اور دشوار گزار راستوں پر سے گزرتے رہے لیکن ان کے پایہ¿ استقلال میں کبھی لغزش دیکھنے سننے میں نہیں آئی۔ واضح رہے کہ سید ممتاز احمد نے ملک کے اہم ترین انگریزی اخبار ”ڈان“ ”جنگ“ ”دی نیوز“ اور روزنامہ ”مشرق“ میں اپنی گراں قدر خدمات انجام دی ہیں۔ اور ان کا مشرق کے ساتھ صحافت کا سفر جاری ہے۔