سسٹم ٹھیک ہونے تک میرے سلیکٹربننے سے بھی کوئی فرق نہیں پڑےگا، راشد لطیف

کراچی: سابق کپتان راشد لطیف کا کہنا ہے کہ جب تک سسٹم ٹھیک نہیں ہوگا میرے سلیکٹر بننے سے بھی کوئی فرق نہیں پڑے گا۔

کراچی میں میڈیا سے گفتگو میں سابق کپتان راشد لطیف کا کہنا تھا کہ کرکٹرز کو احتیاط کرنا چاہیے، امام الحق کا ذاتی مسئلہ ہے لہذا اس معاملے پر ابھی کوئی بات نہیں کر سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کا سسٹم ٹھیک ہونا چاہیے، کوئی آئے یا جائے فرق نہیں پڑتا، جب تک سسٹم ٹھیک نہیں ہوگا میرے سلیکٹر بننے سے بھی کوئی فرق نہیں پڑے گا۔

راشد لطیف نے کہا کہ ملک میں کلب کرکٹ ختم ہوچکی ہے، کلب کرکٹ ہوگی تو اچھے کرکٹرز سامنے آئیں گے، کسی کا کیریئر تباہ کرنا آسان ہوتا ہے، قومی کرکٹ ٹیم کا کوچ بھی پاکستانی ہونا چاہیے جب کہ تینوں فارمیٹ کا ایک ہی کپتان ہونا چاہیے، سرفراز احمد کے علاوہ کوئی کپتان دکھائی نہیں دیتا جب کہ بابراعظم کو ابھی کپتان بنانا جلد بازی ہوگی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Next Post

ایک ہفتے کے دوران فائٹ میں زخمی ہونے والے دوسرے باکسر کی موت

جمعہ جولائی 26 , 2019
Share on Facebook Tweet it Share on Google Email بیونس آئرس: باکسنگ کا کھیل ہر گزرتے دن کے ساتھ خطرناک ہوتا جا رہا ہے اور ایک ہفتے کے دوران اس کھیل نے دوسرے باکسر کی جان لے لی ہے۔ بیونس آئرس سے 150میل دور سین نکولس میں ہفتے کو ارجنٹائن […]

چیف ایڈیٹر

سید ممتاز احمد

قارئین اور ناظرین کو لمحہ لمحہ باخبر رکھنے کے لئے” مشرق “ویب سائٹ اور” مشرق“ ٹی وی کااجراءکیاگیا ہے۔روزنامہ” مشرق“ کا قیام1962ءمیں عمل میں آیا تھا ۔یہ اخبار پاکستان کی جدید صحافت کے علمبردار آئین کی بالادستی ،جمہوری قدروں کے فروغ اور انسانی حقوق کے تحفظ کاعلم بلند کرنے کے عزم کے ساتھ دنیائے صحافت میں آیا تھا ۔ ”مشرق “نے جدید تقاضوں کے مطابق اپنے قارئین اور دنیا بھر میں پاکستانیوں کو باخبر رکھنے کے لئے ویب سائٹ اور ویب ٹی وی کا جناب سید ممتاز احمد شاہ چیف ایڈیٹر مشرق گروپ آف نیوزپیپرز کی نگرانی میں اجراءکیاہے ۔یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ اقلیم صحافت کے درخشندہ ستارے سید ممتاز احمد کا شمار پاکستانی صحافت کے اکابرین میں ہوتا ہے۔زندگی بھر قلم وقرطاس اور پرنٹ میڈیا ہی ان کا اوڑھنا بچھونا رہا۔سید ممتاز احمد شاہ نے آج سے 50 برس قبل صحافت جیسی وادی ¿ پرخار میںقدم رکھا۔ضیائی مارشل لا کے دور میں کئی مراحل آئے جب قلم اور قرطاس سے رشتہ برقرار اور استوار رکھنا انتہائی جانگسل ہوچکا تھا لیکن وہ کٹھن اور دشوار گزار راستوں پر سے گزرتے رہے لیکن ان کے پایہ¿ استقلال میں کبھی لغزش دیکھنے سننے میں نہیں آئی۔ واضح رہے کہ سید ممتاز احمد نے ملک کے اہم ترین انگریزی اخبار ”ڈان“ ”جنگ“ ”دی نیوز“ اور روزنامہ ”مشرق“ میں اپنی گراں قدر خدمات انجام دی ہیں۔ اور ان کا مشرق کے ساتھ صحافت کا سفر جاری ہے۔