خواتین کے ‘زیر جامہ’ مصنوعات کے برانڈ نے اپنا سب سے بڑا شو منسوخ کیوں کیا؟

خواتین کے نفیس اور مہنگے ترین زیر جامہ مصنوعات بنانے والے امریکی فیشن برانڈ ’وکٹوریا سیکریٹ‘ نے اپنا سالانہ فیشن شو منسوخ کرنے کا فیصلہ کرلیا۔

دی گارجین کی رپورٹ کے مطابق اس خبر کا اعلان وکٹوریا سیکریٹ کی مشترکہ کمپنی کی ایک برانڈ نے بیان کے ذریعے کیا۔

آسٹریلیا سے تعلق رکھنے والی وکٹوریا سیکریٹ کی ماڈل شنینا شیخ نے کچھ عرصہ قبل ایک انٹرویو کے ذریعے انکشاف کیا تھا کہ اس سال وکٹوریا سیکریٹ اینجل فیشن شو منعقد نہیں کیا جائے گا، جس کے بعد شائقین اس حوالے سے برانڈ سے سوالات کرتے رہے، جس کے بعد اب آخر کار اس خبر کا اعلان کردیا گیا۔

واضح رہے کہ گزشتہ سال دسمبر میں وکٹوریا سیکریٹ کا فیشن شو امریکی چینل اے بی سی نیٹ ورک پر نشر ہوا تھا جسے 33 لاکھ ویوز ملے۔

اس برانڈ کی زیادہ تر ماڈلز گوری رنگت کی حامل ہوتی ہیں — فوٹو/ فیس بک

البتہ 2001 میں جب پہلی مرتبہ یہ فیشن شو منعقد ہوا تو اس وقت ایک کروڑ 20 لاکھ امریکیوں نے اسے دیکھا تھا، جس کے باعث مالکان شو کی ہر گزرتے سال کے ساتھ ہونے والے کم ویوز پر پریشان ہوگئے۔

یہی وجہ ہے کہ کمپنی نے اس سال اس شو کو منسوخ کرنے کا فیصلہ کرلیا۔

چیف فائینشل آفسر اسٹوارٹ برگڈوفر نے اس حوالے سے میڈیا کو بتایا کہ ‘ہم اس حوالے سے ابھی بات چیت کررہے ہیں لیکن اس سال فیشن شو منعقد نہیں کیا جائے گا یہ فیصلہ ہوچکا ہے’۔

انہوں نے مزید کہا کہ ‘ہمارا خیال ہے کہ پہلے وکٹوریا سیکریٹ برانڈ کی مارکیٹنگ کو بہتر کرنے کی ضرورت ہے’۔

برانڈ میں نہایت مختلف انداز کے زیر جامہ پیش کیے جاتے ہیں — فوٹو/ فیس بک

واضح رہے کہ مشہور زمانہ پاپ اسٹار ریانا نے بھی خواتین کے زیر جامہ مصنوعات کا اپنا برانڈ ’سویج ایکس فینٹی‘ رواں سال ستمبر میں لانچ کیا جس کے بعد وکٹوریا سیکریٹ کو سخت مقابلے کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

رپورٹس کے مطابق گرتی مارکیٹ کی وجہ سے وکٹوریا سیکریٹ کے تقریباً 53 اسٹورز امریکا میں بند ہونے جارہے ہیں کیوں کہ خواتین کا رجحان اب دوسرے برانڈز کی جانب بڑھ رہا ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ گرتی مارکیٹ کے علاوہ وکٹوریا سیکریٹ حالیہ سالوں میں کئی تنازعات کا شکار بھی رہی۔

گزشتہ سال وکٹوریا سیکریٹ کے چیف مارکٹنگ افسر ایڈ رازق نے اپنی ریٹائرمنٹ کے قریب ووگ میگزین کو دیے ایک انٹرویو میں برانڈ کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا تھا کہ یہ برانڈ کبھی کسی مخنث ماڈل کو اپنا حصہ نہیں بنائے گا کیوں کہ یہ اپنی ‘جادوئی اور خوبصورت’ ہونے کی پہچان کو برقرار رکھنا چاہتا ہے۔

اس انٹرویو کے چند روز بعد ہی وکٹوریا سیکریٹ برانڈ نے اعلان کیا کہ انہوں نے پہلی مخنث ماڈل ویلنٹینا سمپایو کی خدمات حاصل کرلیں۔

رواں سال وکٹوریا سیکریٹ کی سابق ماڈل کارلی کلوس نے ایک انٹرویو میں بتایا تھا کہ ‘میں نے وکٹوریا سیکریٹ کے ساتھ کام کرنا اس لیے ختم کیا کیوں کہ مجھے ایسا محسوس ہوتا تھا کہ میری شخصیت اس برانڈ سے بالکل برعکس ہے، میں فیمنسٹ ہوکر اس برانڈ کا حصہ نہیں بن سکتی’۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Next Post

نمرتا کیس؛ جائے وقوعہ سے فنگر پرنٹس کے ناقص نمونے حاصل کرنے کا انکشاف

ہفتہ نومبر 23 , 2019
Share on Facebook Tweet it Share on Google Email لاڑکانہ: نمرتا چندانی ہلاکت کیس میں پولیس کی جانب سے حاصل کردہ فنگر پرنٹس کی نادرا بھی شناخت نہ کرسکی۔ بی بی آصفہ ڈینٹل کالج میں فائنل ایئر کی طالبہ نمرتا چندانی ہلاکت کیس میں نادرا کی جاری کردہ فنگر پرنٹ رپورٹ […]

چیف ایڈیٹر

سید ممتاز احمد

قارئین اور ناظرین کو لمحہ لمحہ باخبر رکھنے کے لئے” مشرق “ویب سائٹ اور” مشرق“ ٹی وی کااجراءکیاگیا ہے۔روزنامہ” مشرق“ کا قیام1962ءمیں عمل میں آیا تھا ۔یہ اخبار پاکستان کی جدید صحافت کے علمبردار آئین کی بالادستی ،جمہوری قدروں کے فروغ اور انسانی حقوق کے تحفظ کاعلم بلند کرنے کے عزم کے ساتھ دنیائے صحافت میں آیا تھا ۔ ”مشرق “نے جدید تقاضوں کے مطابق اپنے قارئین اور دنیا بھر میں پاکستانیوں کو باخبر رکھنے کے لئے ویب سائٹ اور ویب ٹی وی کا جناب سید ممتاز احمد شاہ چیف ایڈیٹر مشرق گروپ آف نیوزپیپرز کی نگرانی میں اجراءکیاہے ۔یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ اقلیم صحافت کے درخشندہ ستارے سید ممتاز احمد کا شمار پاکستانی صحافت کے اکابرین میں ہوتا ہے۔زندگی بھر قلم وقرطاس اور پرنٹ میڈیا ہی ان کا اوڑھنا بچھونا رہا۔سید ممتاز احمد شاہ نے آج سے 50 برس قبل صحافت جیسی وادی ¿ پرخار میںقدم رکھا۔ضیائی مارشل لا کے دور میں کئی مراحل آئے جب قلم اور قرطاس سے رشتہ برقرار اور استوار رکھنا انتہائی جانگسل ہوچکا تھا لیکن وہ کٹھن اور دشوار گزار راستوں پر سے گزرتے رہے لیکن ان کے پایہ¿ استقلال میں کبھی لغزش دیکھنے سننے میں نہیں آئی۔ واضح رہے کہ سید ممتاز احمد نے ملک کے اہم ترین انگریزی اخبار ”ڈان“ ”جنگ“ ”دی نیوز“ اور روزنامہ ”مشرق“ میں اپنی گراں قدر خدمات انجام دی ہیں۔ اور ان کا مشرق کے ساتھ صحافت کا سفر جاری ہے۔