حکومت مفاہمت نہیں،تصادم چاہتی ہے،فضل الرحمن

اسلام آباد(بیورورپورٹ)جے یوآئی کے امیر فضل الرحمن نے کہاہے حکومتی وزراءکا لب ولہجہ مفاہمت نہیں تصادم کی طرف جاتا ہے، 12ربیع الاول کو حکومت کو گھر بھیجنے کاپلان دینگے،دھاندلی سے آنےوالوں کو حکومت نہیں کرنے دیں گے،دھرنے کے شرکاءسے خطاب کرتے ہوئے فضل الرحمن نے کہاتمام سیاسی جماعتیں ایک پلیٹ فارم پر متحد ہیں، تمام سیاسی جماعتوں کے رہنما ہر روز اپنا موقف کنٹینرز پر دیتے رہتے ہیں،اسمبلی میں جس طرح کی تقریریں کی گئیں لگتا نہیں یہ مفاہمت چاہتے ہیں،فضل الرحمن نے کہا جعلی اسمبلی کی قرار دادوں کی قانون میں کوئی حیثیت نہیں ہو گی، جعلی اسمبلی کی قانون سازی جعلی ہوتی ہے، موجودہ حکومت میں کوئی قانون سازی نہیں ہوئی، ایڈ ہاک ازم سے ملک نہیں چلتے، ایسے لوگوں کو ملک سے نکالنا ہو گا،ملک کو امن کا گہوارہ بنائیں گے،انہوں نے مزید کہاحکومتی مذاکراتی کمیٹی آتی جاتی رہتی ہے، حکومتی کمیٹی کو کہا ہے ہمارے پاس آنا ہے تو وزیراعظم عمران خان کا استعفیٰ لیکر آنا، کمیٹی میں ہمارے موقف سمجھنے کی صلاحیت نہیں،کمیٹی میں ہماری پوری بات اپنی قیادت تک پہنچانے کی جرات کرتے ہیں، پیغام دےدیاہمارے پاس آو¿، تواستعفیٰ لےکرآو¿، خالی ہاتھ نہ آیا کرو، قومی اسمبلی میں حکومتی مذاکراتی کمیٹی کے سربراہ نے جس لب ولہجے سے تقریر کی وہ مفاہمت کے جذبے سے عاری ہیں، بتانا چاہتا ہوں اگر تم مفاہمت پر ہوتے تو لب ولہجہ ایسا نہ ہوتا،دھاندلی سے آنےوالوں کو حکومت نہیں کرنے دیں گے، ان کی پوری سیاست مخالفین کو چور کہنے پر قائم ہے، عمران خان امریکہ میں بھی ہمیں گالیاں دیتے رہے،امریکہ میں یو این اسمبلی اجلاس سے قبل بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے جلسے میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خود شرکت کی، حکومت نے کشمیر کو بیچ دیا،اسٹیبلشمنٹ اور بیوروکریسی کوقومی یکجہتی کی دعوت دیتے ہیں، مانتا ہوں افواج پاکستان نے بڑی قربانیاں دیں لیکن ہمارا تعاون یا قربانیاں نہ ہوتیں تو فوج اکیلے ہدف کو حاصل نہیں کرسکتی تھی،تمام اکابرین نے جام شہادت نوش کیا، ہمارے ساتھیوں پرخود کش حملے کیے گئے، 30،30لوگ شہید ہوئے، کیاہمارے اکابرین اورلوگوں نے اس لیے قربانیاں دیں یہ بدبودار لوگ پاکستان پر مسلط کردئیے جائیں،جب سے اسمبلیاں بنی ہیں قانون سازی نہیں ہوئی، 10،15آرڈیننس کو جلدی میں منظور کرتے ہیں ایسی جعلی اسمبلی کی قانون سازی بھی متنازع ہو گی، یہ جبری قوانین ہیں جو اسمبلی منظور کررہی ہے، ایسی اسمبلیوں کی قانون سازی اور وزیراعظم کے ایگزیکٹو آرڈر بھی جعلی ہوں گے،بڑئی حساسیت سے کہتے ہیں ملک کو کس طرف لےجایا جارہا ہے؟ جنرل ضیاءالحق کے زمانے میں اسمبلیوں نے قوانین پاس کیے ، مشرف نے قوانین منظور کیے تو آئندہ حکومتوں نے خاتمہ کردیا، ایڈہاک ازم سے ملک نہیں چلا کرتے،اسی لیے کہتا ہوں ملک کو ایسے لوگوں سے فارغ کرو، چھوڑ واب پاکستان کی جان،گوعمران گو،اگر کوئی شخص اسلام کے نام پر بندوق اٹھاتا ہے، ہم اس کو پاکستان کے آئین کے تحت ملک پر قبضہ کرنے کا حق نہیں دے سکتے تو انتخابات میں دھاندلی کے نتیجے میں عمران خان جیسے کو بھی پاکستان پر قبضہ نہیں کرنے دیں گے،ہم ان کو قبضہ گروپ سمجھتے ہیں،پاکستان قبضہ گروپ کیلئے نہیں بنا،پارلیمنٹ اور آئین کی بالادستی کی بات کرتے ہیں تو اس کوکیوں قبول نہیں کیا جارہا؟ عمران خان اور ان کے ساتھیوں کی جانب سے منی لانڈرنگ کا شور مچایا گیا اور اب چیئرمین ایف بی آر نے کہہ دیا کوئی منی لانڈرنگ نہیں ہوئی، کس قسم کے لوگ مسلط ہو گئے ہیں، قرضوں کے حساب کیلئے خود کمیٹی بنائی اب مستعفی ہوجانا چاہیے،سی پیک کی مد میں 70ارب ڈالر کا حساب دیا جائے، سی پیک کو کیوں برباد کردیا گیا؟ چین کو کیوں ناراض کیا گیا؟،ایک ایک بات کاحساب لیں گے اس سے قبل انٹرویو دیتے ہوئے فضل الرحمن نے حکومت کو واضح پیغام دیتے ہوئے کہاوزیراعظم کا استعفیٰ یا 3 ماہ میں نئے انتخابات کرائے جائیں، حکومت دونوں آپشنز میں سے کسی ایک پر فیصلہ کرے، استعفیٰ لینے آئے ہیں دینے نہیں،ا سلام آباد پہنچے کےلئے 26جولائی 2018ءسے کام شروع کر دیا تھا ،استعفے کے علاوہ دوسرا آپشن شفاف انتخابات ہیں،موجودہ قوانین کے تحت ہی دوبارہ انتخابات کرائے جاتے ہیں تو بھی قبول نہیں کریں گے،اسد قیصر کی کوئی حیثیت نہیں وہ بھی میری طرح فقیر آدمی ہیں، کسی سے مذاکرات نہیں چل رہے، کوئی آتا ہے تو انکار نہیں کرتے، حکومت کی طرف سے ٹائم پاس کیا جارہا ہے،ہمارے پاس ایک انچ بھی پیچھے جانے کا راستہ نہیں ، تمام کشتیاں جلانے کو تیار ہیں ، نااہل حکومت کو قبول نہیں کر سکتے،فضل الرحمن نے انٹرویو میں مزید کہااب تک لوگوں کا جو جوش و خروش ہے وہ اپنی موجودگی سے بتا رہے ہیں تفریح کےلئے نہیں آئے، وہ نظرئیے کے ساتھ آئے ہیں اور یہ قوم کی آواز ہے لہٰذا اب ممکن نہیں اتنے بڑے احتجاج کو نظر انداز کیا جائے اس لیے مارچ ختم کرنے کے حوالے سے ابھی کچھ نہیں کہہ سکتا،یہاں تک پہنچنے کےلئے 26 جولائی 2018 سے کام شروع کردیا تھا، اب یہ صورتحال ہے ملک میں ایسی بیداری آئی ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جاسکتا، عمران خان ناجائز طریقے سے اقتدار میں آئے اگر وہ ملکی حالات میں بہتری لاتے تب لوگ ان کی حکومت کا شاید ساتھ دیتے لیکن ان کی حکومت میں ملک روز بروز تنزلی کی طرف جارہا ہے،فضل الرحمن نے کہااستعفے کے علاوہ دوسرا آپشن شفاف انتخابات ہیں، انتخابی دھاندلی کی تحقیقات کےلئے پارلیمانی کمیشن اپنی افادیت کھو چکا اس لیے نئے انتخابات کے علاوہ کوئی دوسرا آپشن نہیں ، موجودہ قوانین کے تحت ہی دوبارہ انتخابات کرائے جاتے ہیں تو وہ بھی قبول نہیں کریں گے جبکہ چاہتے ہیں انتخابات کےلئے فوج کو بالکل نہیں بلایا جانا چاہیے،فضل الرحمن نے کہا فوج کا مقام اور عزت ہے اور گزشتہ حکومت کا انتخابات کےلئے فوج کو بلانے کا اقدام غلط تھا، فوج انتہائی اہم ادارہ ہے جسے متنازع نہیں بنانا چاہیے،انہوں نے کہا رہبر کمیٹی کی جانب سے پیش کیے گئے چاروں مطالبات تمام اپوزیشن جماعتوں کے متفقہ مطالبات ہیں، دوبارہ انتخابات کا مطالبہ ہر صورت ماننا پڑے گا،حکومتی مذاکراتی ٹیم کے رکن و سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر سے متعلق سربراہ جے یو آئی (ف) نے کہا اسد قیصر کی کوئی حیثیت نہیں وہ بھی میری طرح فقیر آدمی ہیں، کسی سے مذاکرات نہیں چل رہے، کوئی آتا ہے تو انکار نہیں کرتے، حکومت کی طرف سے ٹائم پاس کیا جارہا ہے،مطالبات نہ ماننے کی صورت میں ملک میں افراتفری ہوگی نہ جانے کیا ہوگا کیا نہیں ہوگا، کسی پر حملہ نہیں کریں گے، گولیاں کھائیں گے، شہادتیں لیں گے اور لاشیں اٹھائیں گے لیکن کسی صورت واپس نہیں جائیں گے،جذبہ جہاد اور شوق شہادت کو لےکر گھروں سے نکلے ہیں،حکومت کو گھر جانا ہوگا،ڈیڈ لائن کھینچ چکے،ناجائز اور نااہل حکومت کو قبول نہیں کرتے،ایک انچ بھی پیچھے جانے کا راستہ نہیں،تمام کشتیاں جلانے کو تیار ہیں لیکن حکومت کو قبول نہیں کر سکتے،کرتارپور راہداری کے ذریعے بھارتی سکھ یاتریوں کو بغیر ویزے اور پاسپورٹ ملک میں آنے کی اجازت دینے سے متعلق فضل الرحمن نے کہا بھارت کے ساتھ ایک طرف ایل او سی پر تناو¿ ہے دوسری طرف آپ کرتارپور آنے کےلئے بھارتی سکھوں کو بغیر پاسپورٹ یا ویزا آنے کی اجازت دی جارہی ہے،دریں اثناءنجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے جمعیت علمائے اسلام (ف)کے سربراہ فضل الرحمن نے کہا اگر دھرنے سے کوئی جائز فائدہ اٹھاتا ہے تو مجھے کوئی خفگی نہیں،سابق وزیراعظم نواز شریف ناجائزطورپرگرفتارتھے،قومی احتساب بیورو (نیب) کواستعمال کرکے حزب اختلاف کے رہنماﺅں کو جیلوں میں ٹھونسا جا رہا ہے اور سیاست دان ناجائز طور پر جیلوں میں قید ہیں،ملک اور سیاست کے نظام کو جام کیا جا رہا ہے، اسی کو آمریت کہتے ہیں، ہم نے جمود کو توڑا ہے اور میں خوش ہوں کسی کے کام آ رہے ہیں،فضل الرحمن نے کہا ہر زمانے میں جب کسی کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنانے کےلئے گرفتار کیا جاتا ہے تو قانون کا سہارا لیا جاتا ہے اور ملکی سیاست کا جنازہ نکالا جاتا ہے،فضل الرحمن نے وزیر اعظم عمران خان کا نام لئے بغیر انہیں شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا وہ حزب اختلاف میں تھا تو بھی تنہاءتھا ،آج حکومت میں ہے تو بھی تنہاءہے،پاکستان مالیاتی بحران کا شکار ہے اور آنے والے وقت میں مزید بحرانوں کی جانب بڑھ رہے ہیں، خدانخواستہ اگر اگلا بجٹ بھی نااہلوں نے پیش کیا تو ملک مزید خسارے میں چلا جائے گا ہم ملک کو بچانے کیلئے آئے ہیں اور سلیکٹڈ کے استعفے سے کم کسی بات پر راضی نہیں ہوں گے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Next Post

پارٹی کی قیادت کا میچ شہباز شریف اور مریم نواز کے بیچ؟

جمعہ نومبر 8 , 2019
Share on Facebook Tweet it Share on Google Email پاکستانی میڈیا میں یہ تاثر تیزی سے زور پکڑ رہا ہے کہ مسلم لیگ (ن) مولانا فضل الرحمن کے دھرنے میں شمولیت کے مسئلے پر شدید اختلافات کا شکار ہے۔ یہ بھی اب کافی حد تک واضح ہو گیا ہے کہ […]

چیف ایڈیٹر

سید ممتاز احمد

قارئین اور ناظرین کو لمحہ لمحہ باخبر رکھنے کے لئے” مشرق “ویب سائٹ اور” مشرق“ ٹی وی کااجراءکیاگیا ہے۔روزنامہ” مشرق“ کا قیام1962ءمیں عمل میں آیا تھا ۔یہ اخبار پاکستان کی جدید صحافت کے علمبردار آئین کی بالادستی ،جمہوری قدروں کے فروغ اور انسانی حقوق کے تحفظ کاعلم بلند کرنے کے عزم کے ساتھ دنیائے صحافت میں آیا تھا ۔ ”مشرق “نے جدید تقاضوں کے مطابق اپنے قارئین اور دنیا بھر میں پاکستانیوں کو باخبر رکھنے کے لئے ویب سائٹ اور ویب ٹی وی کا جناب سید ممتاز احمد شاہ چیف ایڈیٹر مشرق گروپ آف نیوزپیپرز کی نگرانی میں اجراءکیاہے ۔یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ اقلیم صحافت کے درخشندہ ستارے سید ممتاز احمد کا شمار پاکستانی صحافت کے اکابرین میں ہوتا ہے۔زندگی بھر قلم وقرطاس اور پرنٹ میڈیا ہی ان کا اوڑھنا بچھونا رہا۔سید ممتاز احمد شاہ نے آج سے 50 برس قبل صحافت جیسی وادی ¿ پرخار میںقدم رکھا۔ضیائی مارشل لا کے دور میں کئی مراحل آئے جب قلم اور قرطاس سے رشتہ برقرار اور استوار رکھنا انتہائی جانگسل ہوچکا تھا لیکن وہ کٹھن اور دشوار گزار راستوں پر سے گزرتے رہے لیکن ان کے پایہ¿ استقلال میں کبھی لغزش دیکھنے سننے میں نہیں آئی۔ واضح رہے کہ سید ممتاز احمد نے ملک کے اہم ترین انگریزی اخبار ”ڈان“ ”جنگ“ ”دی نیوز“ اور روزنامہ ”مشرق“ میں اپنی گراں قدر خدمات انجام دی ہیں۔ اور ان کا مشرق کے ساتھ صحافت کا سفر جاری ہے۔