جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی جو ڈیشل کونسل کی کارروائی کےخلاف نئی آئینی درخواستوں پرفریقین کو نوٹس

0

اسلام آباد(بیورورپورٹ)سپریم کورٹ میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے وکیل منیر اے ملک نے صحافی عبدالوحید ڈوگر کی ساکھ پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا ہے ججز کےخلاف تحقیقات سے متعلق قانون میں کچھ سیف گارڈز ہیں جبکہ عدالت عظمیٰ نے جو ڈیشل کونسل کی کارروائی کےخلاف نئی آئینی درخواستوں پرفریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے قاضی فائز عیسیٰ کے وکیل سے گزارشات کے نکات طلب کرلئے ،عدالت عظمیٰ میں جسٹس عمر عطا ءبندیال کی سربراہی میں 10 رکنی لارجر بینچ نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ پر دائر صدارتی ریفرنس کےخلاف درخواستوں پر سماعت کی اس دوران جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے وکیل منیر اے ملک پیش ہوئے اور گزشتہ روز ختم رہ جانےوالے دلائل کو دوبارہ دینا شروع کیا اورکہافیض آباد دھرنا کیس پر نظرثانی درخواستیں مارچ میں دائر کی گئیں،10 اپریل 2019 کو اثاثہ جات ریکوری یونٹ (اے آر یو) کو ایک شخص عبدالوحید ڈوگر نے خط لکھا جس میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی کسی بھی جائیداد کا ذکر نہیں کیا گیا جبکہ خط پر فون نمبر اور پتہ درج نہیں ،10 مئی کو اے آر یو نے وزیرقانون کو خط لکھا جس میں ان سے موقف مانگا گیا اس دوران پہلی مرتبہ نام سامنے آئے،اس پر جسٹس منصور علی شاہ نے کہا اے آر یو کیا ہے یہ وزیراعظم سیکرٹریٹ میں کیوں ہے؟،جسٹس مقبول باقر نے ریمارکس دئیے آپ کے مطابق تحقیقات اثاثہ جات ریکوری یونٹ کی وجہ سے شروع ہوئیں، کیا آپ اثاثہ جات ریکوری یونٹ کی قانونی حیثیت عدالت کو بتا سکتے ہیں جس پر منیر اے ملک نے جواب دیا یونٹ میں کوئی بھی سول سرونٹ نہیں ،منیر اے ملک نے کہا وحید ڈوگر نے لندن کی جائیداد کے بارے میں آن لائن سرچ کرکے دستاویز سامنے رکھیں اور الزام لگائے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی جائیداد لندن میں ہے اور انہوں نے اپنے اثاثوں میں ظاہر نہیں کیا،منیر اے ملک نے کہاوحید ڈوگر نے جسٹس کے کے آغا کی جائیداد سے متعلق بھی معلومات دیں، ساتھ ہی انہوں نے اثاثہ جات ریکوری یونٹ کو بتایاکے کے آغا کے پاس دہری شہریت ہے لیکن انہوں نے کوئی دستاویزی ثبوت نہیں دئیے،دوران سماعت منیر اے ملک نے کہا اے آر یو نے کہا وحید ڈوگر نے لندن لینڈ ڈیپارٹمنٹ کی نقل فراہم کی ہے، 8 مئی کو یونٹ نے خط لکھا جس میں جج کی جائیداد کی بارے میں ذکر ہے، 10مئی کو ایف آئی اے کی ریکوری یونٹ والوں سے ملاقات ہوئی،منیر اے ملک نے کہا ملاقات میں درخواست گزار کی اہلیہ کا نام اور سپین کی شہریت سامنے آئی اس پر جسٹس عمر عطاءبندیال نے ریمارکس دئیے ویزا درخواست کی وجہ سے نام سامنے آیا، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ کو 5 سال کا ویزہ دیا گیااس پر منیر اے ملک نے کہا جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ کا نام ڈوگر کو کیسے پتہ چلا؟ میرا مدعہ یہ ہے کیسے ایک جج کےخلاف تحقیقات شروع کی جاسکتی ہیں، کل پھر ایک ایس ایچ او بھی درخواست پر کارروائی شروع کر دےگا،ججز کےخلاف تحقیقات سے متعلق قانون میں کچھ سیف گارڈز ہیں، اس پر جسٹس فیصل عرب نے ریمارکس دئیے ججز کے حوالے سے 2 فورمز ہیں جو رائے دے سکتے ہیں،عدالتی ریمارکس پر جسٹس منیر اے ملک نے کہا شکایت وصول کرنا، ثبوت اکٹھا کرنا اور ریفرنس فائل کرنا مختلف اوقات میں یکے بعد دیگرے ہوئے ہیں، اس پر جسٹس مقبول باقر نے سوال کیا آپ یہ کہنا چاہتے ہیں بغیر اجازت جج کےخلاف تحقیقات شروع کی گئیں،بینچ کے سربراہ جسٹس عمر عطاءبندیال نے استفسار کیا آپ کہنا چاہتے ہیں وحید ڈوگر کو ایف آئی اے اور ایف بی آر نے تمام معلومات فراہم کیں،منیر اے ملک نے کہا وحید ڈوگر جعلی شکایت کنندہ ہیںجس پر جسٹس مقبول باقر نے سوال کیا وحید ڈوگر کو کیسے معلوم ہوا جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ کا یورپین نام کیا ہے؟ ہوسکتا ہے وحید ڈوگر کے پاس مافوق الفطرت طاقتیں ہوںاسی دوران جسٹس منصور علی شاہ نے پوچھا کیا آپ آن لائن پراپرٹی لندن لینڈ اتھارٹی سے لے سکتے ہیں، اس پر منیر اے ملک نے جواب دیا صرف پلاٹ کا پتہ لگ سکتا ہے، کس کے نام پر ہے یہ پتہ نہیں لگ سکتا،منیر اے ملک کے جواب پر جسٹس عمر عطاءبندیال نے پوچھا سوال یہ ہے پھر کیسے پراپرٹی کے بارے میں معلومات ملیں؟ منیر اے ملک نے کہا یہ سب درخواست گزار اور ان کے خاندان کا پیچھا کرکے معلومات لی گئیں،منیر اے ملک نے کہا 27 اکتوبر 2018 کو نیویارک ٹائمز کی خبر ہے جس میں صحافی پر حملے کا ذکر ہے جبکہ صحافی احمد نورانی کی بی بی سی کی رپورٹ بھی آئی اس پر جسٹس قاضی امین نے سوال کیا کیا احمد نورانی نے حملہ آوروں کے بارے میں بتایا تھا حملہ کس نے کیا؟ کیا کوئی ادارہ تھا جس پر منیر اے ملک نے کہا اس بارے میں مجھے کوئی علم نہیں جس پر جسٹس منیب اختر نے کہا آپ کہہ رہے ہیں ڈوگر پراکسی ہے، اس کی منطق سمجھ نہیں آئی، اس پر منیر اے ملک نے کہا ڈوگر بااعتماد آدمی نہیں اس کی ساکھ آپ کو بتا رہا ہوں،دوران سماعت وحید ڈوگر روسٹرم پر آئے اور منیر اے ملک کو کہامیں ڈوگر ہوں جس پر جسٹس عمر عطاءبندیال نے پوچھا یہ کون ہے جو روسٹرم پر موجود ہے اس پر منیراے ملک نے بتایا وحید ڈوگر ہیں،وکیل کے جواب پر جسٹس منیب اختر نے پوچھا آپ کو کیسے علم ہے کہ یہ وحید ڈوگر ہے؟ اس پر منیر اے ملک نے کہا ڈوگر نے مجھے کان میں آکر کہا ہے کہ یہ ڈوگر ہے،اس موقع پر جسٹس عمر عطاءبندیال نے استفسار کیا کیا جسٹس عیسیٰ نے اپنی اہلیہ کو کبھی رقم تحفے میں دی؟ جس پر منیر اے ملک نے کہا میں معلوم کرکے بتاسکتا ہوں، اس پر عدالت نے ریمارکس دئیے اس سوال کا جواب معلوم کرکے رہیں گے،بعد ازاں عدالت نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کےخلاف سپریم جوڈیشل کونسل کی کارروائی کو چیلنج کرنے کےلئے دائر نئی آئینی درخواستوں پر فریقین کو نوٹس جاری کردئیے، عدالت عظمیٰ نے جسٹس قاضی فائزعیسیٰ کے وکیل سے گزارشات کے نکات بھی طلب کرلیے اور معاملے کو (کل) بدھ کی صبح ساڑھے 11 تک ملتوی کردیا۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.