جسٹس عیسیٰ کیس فیصلہ

اسلام آباد: سپریم کورٹ نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ پر دائر صدارتی ریفرنس کے خلاف آئینی درخواستوں پر سماعتیں 28 اکتوبر کو مقرر کردیں۔عدالت عظمیٰ کی جانب سے یہ تمام سماعتیں 28 اکتوبر کو مقرر کرنے کا حکم اس زبانی حکم نامے کو واپس لینے کے بعد سامنے آیا جس میں جسٹس عیسیٰ کے وکیل کو بتایا گیا تھا کہ فل کورٹ کی دوبارہ تشکیل کے لیے معاملہ چیف جسٹس کو بھیج رہے ہیں۔تفصیلات کے مطابق آئندہ ہفتے سے اس معاملے کی سماعتیں جاری رکھنے کا فیصلہ اس وقت لیا گیا، جب جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں 10 رکنی فل کورٹ نے بتایا کہ جسٹس مظہر عالم خان میاں خیل سماعت میں موجود نہیں ہوں گے اور وہ آئندہ پیر تک اپنی ڈیوٹی پر واپس آئیں گے۔اگر یہ معاملہ چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کو بھیج دیا جاتا تو یہ گزشتہ 5 ہفتوں میں دوسری مرتبہ ہوتا کہ فل کورٹ کی تشکیل کے لیے معاملہ ان کو بھیجا گیا۔قبل ازیں جب سماعت کی آغاز ہوئی تو جسٹس عمر عطا بندیال نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے وکیل منیر اے ملک کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ عدالت اس معاملے کو آگے لے کر چلنا چاہتی ہے لیکن بینچ کے ایک رکن کے خاندان میں انتقال ہوگیا ہے اور وہ اس سماعت میں شامل نہیں ہیں۔جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ جج کی جانب سے ایک ہفتے کے لیے چھٹی کی درخواست کی گئی تھی جس کے بعد بینچ اراکین نے ایک دوسرے سے مشاورت کے بعد فیصلہ کیا کہ اس معاملے کو آگے بڑھانا مناسب نہیں ہوگا، ‘لہٰذا ہم بینچ کی دوبارہ تشکیل کے لیے معاملہ چیف جسٹس کو بھیج رہے ہیں، جس کے بارے میں وکیل کے ذریعے جل پتہ چل جائے گا’۔اس موقع پر وکیل نے جواب دیا کہ فل کورٹ کی تشکیل کے بعد وہ اپنے دلائل دینا چاہیں گے، جس پر جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ یہ وکیل کی مرضی نہیں، یہ شائستگی سے باہر تھا کہ بینچ نے وکیل کو بتانے کا فیصلہ کیا۔ساتھ ہی انہوں نے یہ ریمارکس دیے تھے کہ ‘ہم بینچ سے اٹھ رہے ہیں اور امید ہے جلد ہی ملاقات ہوگی’۔خیال رہے کہ اس سے قبل جسٹس قاضی فائر عیسیٰ کی آئینی درخواست پر سماعت کرنے والا بینچ تحلیل ہوا تھا۔17 ستمبر کو اس معاملے پر سپریم کورٹ کا 7 رکنی بینچ، ججز پر اعتراض کے بعد تحلیل ہوگیا تھا اور نئے بینچ کی تشکیل کے لیے معاملہ چیف جسٹس سپریم کورٹ ا?ف پاکستان کو بھیج دیا گیا تھا۔عدالت عظمیٰ کے اس 7 رکنی بینچ نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی درخواست سنی تھی، اس بینچ میں جسٹس عمر عطا بندیال، جسٹس مقبول باقر، جسٹس منظور احمد ملک، جسٹس طارق مسعود، جسٹس فیصل عرب، جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس مظہر عالم خان میاں خیل شامل تھے۔تاہم جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے وکیل منیر اے ملک کی جانب سے ججز پر اعتراض اٹھایا گیا تھا اور کہا گیا تھا کہ ‘جن ججز نے چیف جسٹس بننا ہے، ان کی (کیس میں) دلچسپی ہے، اس بینچ کے 2 ججز ممکنہ چیف جسٹس بنیں گیے اس طرح مذکورہ کیس سے ان دو ججز کا براہ راست مفاد وابستہ ہے’۔بعد ازاں اس وقت بینچ میں شامل جسٹس طارق مسعود نے کہا تھا کہ ہم پہلے ہی ذہن بنا چکے تھے کہ بینچ میں نہیں بیٹھنا، اس کے ساتھ جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیے تھے کہ ہم نے جو حلف اٹھایا ہے تمام حالات میں اس کا پاس رکھنا ہوتا ہے، ہمارے ساتھی جج کی جانب سے ہمارے بارے میں تحفظات افسوسناک ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Next Post

بھارتی ہائی کمیشن اپنے آرمی چیف کے دعوے پر کھڑا نہیں رہ سکا، میجر جنرل آصف غفور

منگل اکتوبر 22 , 2019
Share on Facebook Tweet it Share on Google Email راولپنڈی: ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفورکا کہنا ہے کہ بھارتی ہائی کمیشن اپنے آرمی چیف کے دعوے پر کھڑا نہیں رہ سکا۔۔ڈی جی آئی ایس پی آرمیجرجنرل آصف غفور نے جاری بیان میں کہا کہ غیرملکی […]

چیف ایڈیٹر

سید ممتاز احمد

قارئین اور ناظرین کو لمحہ لمحہ باخبر رکھنے کے لئے” مشرق “ویب سائٹ اور” مشرق“ ٹی وی کااجراءکیاگیا ہے۔روزنامہ” مشرق“ کا قیام1962ءمیں عمل میں آیا تھا ۔یہ اخبار پاکستان کی جدید صحافت کے علمبردار آئین کی بالادستی ،جمہوری قدروں کے فروغ اور انسانی حقوق کے تحفظ کاعلم بلند کرنے کے عزم کے ساتھ دنیائے صحافت میں آیا تھا ۔ ”مشرق “نے جدید تقاضوں کے مطابق اپنے قارئین اور دنیا بھر میں پاکستانیوں کو باخبر رکھنے کے لئے ویب سائٹ اور ویب ٹی وی کا جناب سید ممتاز احمد شاہ چیف ایڈیٹر مشرق گروپ آف نیوزپیپرز کی نگرانی میں اجراءکیاہے ۔یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ اقلیم صحافت کے درخشندہ ستارے سید ممتاز احمد کا شمار پاکستانی صحافت کے اکابرین میں ہوتا ہے۔زندگی بھر قلم وقرطاس اور پرنٹ میڈیا ہی ان کا اوڑھنا بچھونا رہا۔سید ممتاز احمد شاہ نے آج سے 50 برس قبل صحافت جیسی وادی ¿ پرخار میںقدم رکھا۔ضیائی مارشل لا کے دور میں کئی مراحل آئے جب قلم اور قرطاس سے رشتہ برقرار اور استوار رکھنا انتہائی جانگسل ہوچکا تھا لیکن وہ کٹھن اور دشوار گزار راستوں پر سے گزرتے رہے لیکن ان کے پایہ¿ استقلال میں کبھی لغزش دیکھنے سننے میں نہیں آئی۔ واضح رہے کہ سید ممتاز احمد نے ملک کے اہم ترین انگریزی اخبار ”ڈان“ ”جنگ“ ”دی نیوز“ اور روزنامہ ”مشرق“ میں اپنی گراں قدر خدمات انجام دی ہیں۔ اور ان کا مشرق کے ساتھ صحافت کا سفر جاری ہے۔